Wazan Main Zabardast Kami

”وزن میں زبردست کمی اور وہ بھی کسی نقصان کے بغیر“

Shazia Anwar شازیہ انوار اتوار جون

Wazan Main Zabardast Kami

گزشتہ دنوں ایک ویب سائٹ پر نظر پڑی جس میں6ہفتوں میں وزن کم کرنے کے حوالے سے دعوے داری کی جارہی تھی اور مختلف لوگوں کے انتہائی حوصلہ افزاء ریویوز بھی تھے ۔ مجھے یاد آیا کہ میری ایک دوست نے اسی قسم کے کسی ڈائٹ پلان کے ذریعے اپنا وزن ”واقعی “کم کیا ۔ میں نے اسے فون کرکے پوچھا تو اس نے تعریف کا جو سلسلہ شروع کیا وہ اس سوال پر آکر تھما کہ اس کے سائیڈ افیکٹس یا مضمرات کیا ہیں۔

اب جو اس نے اس ضمن سے بولنا شروع کیا تو میں پریشان ہوگئی کیوں کہ اس اعتبار سے تو جدید طرز کے ڈائٹ پلان اور سپلیمنٹ صرف وزن میں کمی کا باعث ہوتے ہیں باقی انسانی جسم کو اندرونی طور پر کھوکھلااور کمزور کردیتے ہیں جبکہ وزن میں کمی کیلئے کوئی ایسا انداز اختیار کرنا چاہئے کہ نتائج بھی حاصل ہوجائیں اور جسمانی کمزوری کا مسئلہ بھی لاحق نہ ہو۔

(جاری ہے)

گزشتہ دنوں میری ملاقات ہوئی مدحت زہرا سے‘ جو ایک میڈیا انڈسٹری کے ہیومن ریسورسز ڈپارٹمنٹ میں کام کرتی ہیں ۔باتوں ہی باتوں میں تذکرہ نکلا ان کی اسمارٹنس کا جس پر وہ بے ساختہ کھکھلاکر بولیں۔” اس اسمارٹنس کے پیچھے ایک داستان پوشیدہ ہے؟“ جملہ دلچسپ اور میری دلچسپی اس سے بھی سوا تھی۔ انہوں نے کہا کہ” میں توپیدائشی طور ایک گول مٹول سی بچی تھی اور اسی طرح سے میں بڑی ہوئی۔

اگر آپ میری20سال تک کی بھی تصاویر دیکھیں گی تو آپ کو میری اس بات کی حقیقت کا اندازہ ہوجائے گا۔ “مدحت کی اس بات کے بعد تو اس سے مزید بات چیت بنتی تھی۔ میں نے اُن سے پوچھا۔”میرا وزن زیادہ ہے‘ یہ خیال کیسے آیا؟“جواب آیا۔” کیوں کہ میں بچپن سے ہی اضافی وزن کی مالک تھی اس لئے مجھے ہمیشہ سے ہی اس بات کا احساس تھا کا میرا وزن دوسروں سے بہت زیادہ ہے۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ احساس دوچندہوتا چلا گیا۔بعض اوقات تو لوگ مجھے باقاعدہ ٹوک بھی دیا کرتے تھے اور ایک دن ایسا آیا کہ میں نے فیصلہ کرلیا کہ اب مجھے ہر صورت میں اپنا وزن کم کرکے ایک صحت مند زندگی گزارنی ہے۔میں شکرگزار ہوں اپنے سب سے اچھے دوست کی جس نے نہ صرف مجھے اس بات کا احساس دلایا بلکہ میری حوصلہ افزائی بھی کی۔اس نے مجھے سمجھایا کہ وزن میں کمی کی وجہ سے میں نے صرف زیادہ اچھی نظر آؤں گی بلکہ یہ میری صحت کیلئے بھی فائدہ مند ہے۔

اس حوالے سے میرے والدین اور قریبی دوستوں‘ رشتہ داروں نے بہت زیادہ تعاون کیا۔سچ تو یہ ہے کہ ان سب کی سپورٹ کی وجہ سے ہمت کرپائی۔“


ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے مدحت نے کہا” میں نے سب سے پہلے تو اپنے کھانے پینے پر قابو کیا اور اپنی خوراک میں سے جنک فوڈ نکال دیا گو کہ یہ بہت مشکل کام تھا لیکن جب انسان ہمت اور فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر کوئی کام مشکل نہیں لگتا۔

اس کے بعد میں نے وزش کرنے کیلئے باقاعدہ جم جانا شروع کردیا۔ وہ دن اور آج کا دن میں نے ایک دن بھی جم کا ناغہ نہیں کیا۔ اگر کسی وجہ سے جم نہیں جا پاتی تو گھر پر ہی ایکسرسائز کرلیتی ہوں۔“ انہوں نے بتایا کہ ” میں نے اس حوالے سے کسی سے بھی مشورہ نہیں کیا۔مجھے لگا کہ ایکسرسائز سے بہتر کچھ اور نہیں تو میں نے جم جوائن کیا البتہ یہ ضرور ہے کہ آپ کا ٹرینر اچھا ہونا چاہئے تاکہ وہ آپ کو ڈائٹ اور ورک آؤٹ کے حوالے سے صحیح گائیڈ کرے۔

میرے ٹرینر انس شاہد ہیں جنہوں نے میری پرسنل ٹریننگ کی ۔ انہوں نے مجھے ہر چیز کے بارے میں انتہائی مفید مشورے دیئے ‘یقینا اسی کے نتیجے میں‘ میں نے تیزی سے اپنا وزن کم کیا۔“


اس سوال کے جواب میں کہ ”آپ نے کھانے میں کمی کے ذریعے وزن پر قابو پانے کی کوشش کی یا ورک آؤٹ کے ذریعے ؟“ انہوں نے بتایا” جب میں نے وزن کم کرنا شروع کیا اس وقت میں نے کھانے پینے کے معمولات بہتر کئے۔

مثال کے طور پر تیزابی مشروبات‘ میٹھا اور تلی ہوئی اشیاء چھوڑ دیں۔ لیکن جب میں نے زیادہ ورک آؤٹ کیا تو پھر ہلکا پھلکا سب کچھ کھانا شروع کردیا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ زیادہ ورک آؤٹ کرنے سے جسم زیادہ متحرک رہتا ہے۔یہ ورک آؤٹ اب میرے روٹین کا حصہ ہے۔ میں کتنی بھی تھکی ہوئی یا مصروف کیوں نہ ہوں ورک آؤٹ ضرو ر کرتی ہوں۔“ وزن میں کمی کے خواہشمند خواتین و حضرات کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا۔

”وزن کم کرنا اتنا مشکل نہیں ہے بس شرط ہے ایمانداری اور پوری تو جہ کی۔ اگر ہم یہ سوچ لیں کہ ہم بڑھاپے میں بھی ایک صحت مند زندگی گزاریں گے تو آپ کو ہرمشکل آسان لگے گی۔ میں بچپن ہی سے بہت موٹی تھی جس کی وجہ سے میں کبھی بھی ایک بااعتماد لڑکی نہیں رہی لیکن آج صورتحال بہت مختلف ہے‘ میں نے ہمت کی اور اپنے خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

عزم‘ صحت مند کھانے اور ورک آؤٹ سے آپ کا وزن بھی کم ہوگا اور خوش بھی رہیں گے ۔2018ء میں ‘ میں نے پہلی بار جم جانا شروع کیا۔ ابتدا ء میں تیزی سے وزن کم ہوا اورپھر وزن میں تیزی سے کمی کا سلسلہ رک گیا اور اب آہستہ آہستہ وزن میں کمی آرہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ طرز زندگی کی تبدیلی کا عمل ہے جس کی کوئی حد نہیں ہوتی۔اس کیلئے آپ کو ہر دن گزرے ہوئے دن سے زیادہ اچھا پرفارم کرنا چاہئے۔


ایک سوال کے جواب میں مدحت نے بتایا”جب میں نے ورک آؤٹ شروع کیا اس وقت میرا وزن87کلو تھا اور اب میرا وزن 67کلو ہے جبکہ میرا ہدف مزید7فیصد وزن کم کرنے کا ہے یعنی 60کلو تک جانے کا ۔ اب میں باڈی ٹیوننگ پر زیادہ فوکس کرنا چاہتی ہوں اور یوگا بھی سیکھنا چاہتی ہوں۔ جو لوگ وزن کم کرنا چاہتے ہیں ان کو میں بتانا چاہوں گی کہ کسی او ر کیلئے نہیں بلکہ اپنے لئے وزن میں کمی لائیں۔

اپنے آپ سے نفرت نہ کریں بلکہ خود پر محنت کریں تاکہ خود سے ہی پیار ہوجائے۔ روزانہ ورزش کریں ‘ ایکٹو رہیں اور صحت مند غذا کھائیں‘ تاہم کبھی کبھار چیٹ میل لینے میں کوئی حرج نہیں۔میں ایک بات اور کہوں گی وزن میں کمی کے معاملے میں ایسے بہت سے مواقع آئیں گے جب آپ سب چھوڑنا چاہیں گے‘ ایسے وقت میں آپ وزن کم کرنے کی مقصدیت کو اپنے ذہن میں رکھیں۔


یہ تو تھی مدحت کی کہانی ‘ جس میں اس نے واقعی وزن کم کیا اور کچھ اس طرح سے کہ اسے کسی بھی قسم کا اندرونی یا بیرونی نقصان نہیں پہنچا۔ اس سے کی گئی گفتگو اس لئے قارئین تک پہنچائی جارہی ہے کہ لوگ کسی بھی قسم کی مشہور و معروف ڈائٹ کواختیار کرکے یہ نہ سمجھیں کہ انہیں نے اپنا ہدف حاصل کرلیا ہے۔ فوڈ سپلیمنٹ یا غذائی پلان وقتی طور پر تو فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی انہیں ترک کیا جاتا ہے وزن تیزی سے بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔

مدحت کے تجربے کے مطابق غذائی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ ایکسرسائز یا ورک آؤٹ اہمیت کا حامل ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی بھی دیگر طریقہ عارضی ہوتا ہے ۔ میری کوشش ہوگی کہ میں مزید ایسے لوگوں سے بھی آپ لوگوں کی ملاقات کراؤں جنہوں نے اپنی ہمت سے اپنی ظاہری اور باطنی زندگی بدل لی۔

تاریخ اشاعت: 2020-06-14

Your Thoughts and Comments