بند کریں
صحت صحت کی خبریںملائیشیا : شرح پیدائش میں کمی ، جوڑوں کا طبی ماہرین سے رابطہ

صحت خبریں

وقت اشاعت: 21/07/2009 - 23:03:17 وقت اشاعت: 21/07/2009 - 19:21:56 وقت اشاعت: 21/07/2009 - 13:46:52 وقت اشاعت: 18/07/2009 - 13:37:53 وقت اشاعت: 17/07/2009 - 16:27:49 وقت اشاعت: 13/07/2009 - 14:10:36 وقت اشاعت: 13/07/2009 - 13:21:01 وقت اشاعت: 12/07/2009 - 17:53:48 وقت اشاعت: 11/07/2009 - 18:30:32 وقت اشاعت: 11/07/2009 - 18:15:53 وقت اشاعت: 10/07/2009 - 17:50:29

ملائیشیا : شرح پیدائش میں کمی ، جوڑوں کا طبی ماہرین سے رابطہ

کوالالمپور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12جولائی ۔2009ء) ملائیشیا میں شرح پیدائش میں کمی واقع ہوگئی ہے جس کے باعث سینکڑوںجوڑوں نے بچے پیدا کرنے کےلئے طبی ماہرین سے رجوع کیا ہے۔ ملائیشیا کے اخبارات میں اقوام متحدہ کی طرف سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ملائیشیا میں 1996ءسے فی جوڑا 3.6 بچے پیدا کرنے کی شرح کم ہوکر 2.6 تک پہنچ چکی ہے جس کی ایک اہم اور بڑی وجہ ملائیشین خواتین میں تولیدگی کی صلاحیت میں کمی ہے۔

اس صورتحال کی وجہ سے ملائیشیا کی آدھی خواتین گائنا کالوجسٹس کے پاس زیر علاج ہیں اور جلد سے جلد حاملہ ہونے کی متمنی ہیں۔ ملائیشیا کے وزیر صحت نے اس ضمن میں کہا کہ ملائیشیا میں ہزاروں جوڑے جدید طبی ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود ابھی تک بے اولاد ہیں۔ ان میں سے 10 سے 15 فیصد جوڑوں کی عمریں 30 سے 40 سال کے درمیان ہیں۔ سن 2004ءمیں شائع ہونے والی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق 2004ءمیں ملائیشیامیں شرح تولید میں کمی 0.1 فیصد تک تھی جس میں ہرپانچ سال کے بعد اضافہ دیکھا جارہا ہے کیونکہ ملائیشیا کی اکثر خواتین روزگار اور کیریئرکی خاطر شادی موخر کردیتی ہیں۔ یاد رہے ملائیشیا کی موجودہ آبادی27 ملین ہے جس کو 2100 ءمیں 70 ملین تک بڑھانے کےلئے حکومت نے پالیسی وضع کرنے کی تیاری کرلی ہے۔
13/07/2009 - 14:10:36 :وقت اشاعت