بند کریں
صحت صحت کی خبریںچینی کے نرخ اور دستیابی  حکومت اور مل مالکان کے مابین رسہ کشی ، مل مالکان کی طرف سے چینی ذخیرہ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 08/09/2009 - 17:15:34 وقت اشاعت: 08/09/2009 - 15:27:16 وقت اشاعت: 08/09/2009 - 13:17:07 وقت اشاعت: 07/09/2009 - 15:59:19 وقت اشاعت: 06/09/2009 - 19:59:39 وقت اشاعت: 06/09/2009 - 17:22:14 وقت اشاعت: 06/09/2009 - 16:40:09 وقت اشاعت: 05/09/2009 - 19:37:35 وقت اشاعت: 05/09/2009 - 10:04:56 وقت اشاعت: 04/09/2009 - 17:41:44 وقت اشاعت: 02/09/2009 - 19:28:26

چینی کے نرخ اور دستیابی  حکومت اور مل مالکان کے مابین رسہ کشی ، مل مالکان کی طرف سے چینی ذخیرہ کرکے من مانگی قیمت پر فروخت کی خواہش کی وجہ سے بحران پیدا ہوا ہے  حکومت کا موقف ، چھاپے بلا جواز ہیں صنعت کو مزید نقصان پہنچے گا  سربراہ پنجاب ایسوسی ایشن شوگر ملز ،گوداموں پر پولیس اور انتظامیہ کے اہل کاروں کی موجودگی کا مقصد چینی کی غلط اور غیر قانونی ترسیل کو روکنا ہے  صوبائی وزیر قانون

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔6ستمبر۔2009ء)ملک میں جاری چینی کے بحران نے جہاں ایک طرف عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے، وہیں حکومت اور مل مالکان کے درمیان دْشنام طرازی کا سلسلہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ امریکی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ مل مالکان کی طرف سے چینی ذخیرہ کرکے اپنی من مانگی قیمت پر فروخت کی خواہش کی وجہ سے یہ مصنوعی بحران پیدا ہوا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ چینی کے مہنگے داموں فروخت پر لیے گئے ازخود نوٹس کے بعد اپنے فیصلے میں اِس کی قیمت 40روپے مقرر کی تھی، تاہم شوگر مالکان نے اِس فیصلے کو پشِ پْشت ڈالتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ ایسے میں پنجاب حکومت کی طرف سے شوگر ملوں پر چھاپوں کے دوران چینی کی لاکھوں بوریاں تحویل میں لی گئیں۔ حکام کے اِس کریک ڈاوٴن کے خلاف شوگر مالکان مزید برہم ہوگئے ہیں۔

پنجاب شوگر ملز ایسو سی ایشن کے سربراہ جاوید کیانی کا کہنا ہے کہ یہ چھاپے بلا جواز ہیں اور اِس سے صنعت کو مزید نقصان پہنچے گا۔ اْنھوں نے کہا کہ ابھی فیصلہ آیا نہیں تھا کہ پولیس اْس پر عمل کروانے کے لیے ہر مل میں پہنچ گئی اور انتظامیہ اور پولیس وہاں پہ گوداموں کا انتظامی کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ جاوید کیانی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے جو ایسو سی ایشن کے ساتھ فیصلہ کیا ہے اْس کے مطابق فی کلو 49.75روپے کے حساب سے ہے، سندھ کے لیے 48روپے، پنجاب حکومت نے 45روپے کا اعلان کیا، اْس کے بعد وزیرِ اعظم نے اجلاس بلایا اور شوگر کے ریٹ کا فیصلہ ہوا کہ شیئرڈ پرائس 45روپے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

اْس پر سیلز ٹیکس کی اْنھوں نے چھوٹ دی تاکہ رمضان کے مہینے میں لوگوں کو چینی مہیا ہوتی رہے اور وافر مقدار میں مارکیٹ میں دستیاب رہے۔ اْنھوں نے کہا کہ آف لوڈنگ کے بارے میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کا ایک طریقہ کار ہوا کرتا تھا۔ ایک چیز آپ چلا نہیں پارہے ہو۔ چینی جب آنی بند ہوگئی تو آپ نے سارے کا سارا الزام شوگر مل ایسو سی ایشن پر ہمارے ملرز پر ڈالنا شروع کردیا۔

پھر آپ اِس طرح سے تاثر دے رہے ہو جیسے ہم ‘ویلن’ کا کردار ادا کر رہے ہیں؟ ہم لوگوں نے یہاں پر سرمایہ کاری کی ہے۔ ہم لوگ یہاں کاروبار کرتے ہیں۔ ہم لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ پھر یہ کہ اِس صنعت نے نوکریاں پیدا کی ہوئی ہیں؟’اْن کا کہنا تھا کہ اگر اِس صنعت کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو بیس لاکھ لوگوں کا روزگار متاثر ہوگا۔ اْدھر وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ چینی کی فراہمی کی موجودہ صورتِ حال پر آئندہ ہفتے اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا جائے گا جِس میں مہنگائی اور چینی کی دستیابی کا جائزہ لیا جائے گا۔

اْن کے الفاظ میں ‘ہم ایک حکمتِ عملی بنائیں گے کہ چاروں صوبوں اور مرکز مل کر ایک متفقہ لائحہ عمل بنائیں کہ عوام کو کیسے سہولیت دی جاسکتی ہے۔ حکومت پنجاب کی طرف سے شوگر ملوں کے خلاف شروع کیے گئے کریک ڈاوٴن کے بار ے میں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ شوگر ملوں کے گوداموں پر پولیس اور انتظامیہ کے اہل کاروں کی موجودگی کا مقصد چینی کی غلط اور غیر قانونی ترسیل کو روکنا ہے۔

حکام اور مل مالکان کے درمیان یہ رسہ کشی اپنی جگہ مگر صارفین کا کہنا ہے کہ اْن کے اوسان ابھی آٹے کی کمیابی سے پوری طرح بحال نہیں ہوئے تھے کہ چینی کے بحران نے آ دبوچا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اِس پر اشیائے خوردو نوش کی عدم دستیابی اور گرانی نے اْن کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
06/09/2009 - 17:22:14 :وقت اشاعت