بند کریں
صحت صحت کی خبریںسپریم کورٹ نے چینی کی قیمتوں کے تعین کیلئے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف حکم امتناعی مسترد ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 25/09/2009 - 19:58:36 وقت اشاعت: 25/09/2009 - 17:26:01 وقت اشاعت: 25/09/2009 - 17:15:28 وقت اشاعت: 25/09/2009 - 17:14:32 وقت اشاعت: 24/09/2009 - 17:21:06 وقت اشاعت: 24/09/2009 - 16:26:37 وقت اشاعت: 24/09/2009 - 15:40:00 وقت اشاعت: 24/09/2009 - 15:40:00 وقت اشاعت: 24/09/2009 - 13:53:37 وقت اشاعت: 23/09/2009 - 18:37:17 وقت اشاعت: 20/09/2009 - 13:56:27

سپریم کورٹ نے چینی کی قیمتوں کے تعین کیلئے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف حکم امتناعی مسترد کر دیا، چینی کا بحران ٹی سی پی کی وجہ سے پیدا ہوا، پنجاب حکومت، 2006ء میں چینی بحران پیدا کرنیوالوں کیخلاف کارروائی نہیں کی گئی، جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی کیس نمٹا دیا، ذمے دار سیاستدان شوگر ملز مالکان ہیں، نیب کی انکوائری رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش۔ اپ ڈیٹ۔1

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24 ستمبر ۔2009ء) سپریم کورٹ نے چینی کی قیمتوں سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی کر دی جبکہ سندھ ، بلوچستان اور سرحد کی جانب سے فریق مقدمہ بننے کی درخواست منظور کر لی گئی ۔ حکومت نے چینی بحران کا ذمہ دار ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو قرار دیا ہے ، جبکہ نیب نے 2006ء کے چینی بحران کا ذمہ دار شوگر ملز مالکان کو قرار دیا ہے ، جن میں سرکردہ سیاستدان بھی شامل ہیں اور اپنی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ۔

جمعرات کو سماعت کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی نہیں جاری کیا جاسکتا اور قیمت چالیس روپے برقرار رکھی جائے گی ، ملز مالکان کو نئی فصل کی کرشنگ سے کوئی نہیں روک سکتا اور انہیں مقررہ وقت تک کرشنگ کرنا پڑے گی ۔ موجودہ حالت میں شوگر ملز کو کوئی ریلیف نہیں دیا جا سکتا ۔

اس موقع پر ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مختلف شوگر ملز مالکان کے ذمہ مختلف بینکوں کے اکیس ارب روپے واجب الادا ہیں ۔قبل ازیں چینی کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ٹریڈنگ کارپوریشن نے بروقت چینی درآمد کرنے کے اقدامات نہیں کیئے جس کی وجہ سے چینی کا بحران پیدا ہوا۔

جواب میں مذید کہا گیا ہے کہ اگست 2009 میں شوگر ڈیلرز نے ملز مالکان کے ساتھ ایڈوانس معاہدے کیئے، اگست 2009 میں ایک لاکھ میٹرک ٹن چینی خریدی گئی تاہم ڈیلرز نے نہیں اٹھائی۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ ڈیلرز نے پہلے 9 ماہ میں 63 فی صدچینی اسٹاک فروخت کیا جبکہ 37 فی صد اسٹاک کرشنگ سیزن شروع ہونے سے پہلے منافع کمانے کی غرض سے اسٹاک کر لیا ۔ دریں اثناء نیب کی جانب سے داخل کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ 2006 میں چینی کے بحران کی تحقیقات کے حوالے سے خاطر خواہ کاروائی نہیں کی گئی تھی۔

نیب نے چینی کے بحران پر انکوائر ی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی بحران کے ذمے دار شوگر ملز مالکان تھے، جو سیاستدان بھی ہیں۔ سیاستدانوں میں آصف زرداری، شریف برادران، جہانگیر ترین، چوہدری شجاعت، نصر اللہ دریشک، ہمایوں اختر، انور چیمہ، میاں اظہر، الطاف سلیم اور ہارون اختر شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شوگر ملز مالکان میں بڑے بڑے سیاستدان شامل ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق ملز مالکان نے کاروباری اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے ۔ نیب کے مطابق یہ رپورٹ دوہزارچھ میں تیارکی گئی تھی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیب نے ابتدائی انکوائری کا آغاز کیا تھا اور2008 ء میں تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں بینچ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیکر کیس نمٹا دیا تھا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ چینی چالیس روپے فی کلو فروخت کرنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیلوں کی سماعت شروع کی یہ اپیلیں شوگر مل ایسوسی ایشن کے علاوہ وفاق اور چاروں صوبوں کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ابتدائی سماعت پر گورنر اسٹیٹ بینک سے رپورٹ طلب کی تھی کہ شوگر ملز مالکان نے کتنے قرضے لئے اور کتنی رقم واپس ادا کی جبکہ چیئرمین نیب کو دو سال قبل ہونے والے چینی اسکینڈل کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے مسابقتی کمیشن پاکستان کے چیئرمین کو بھی نوٹس جاری کیا تھا۔ درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
24/09/2009 - 16:26:37 :وقت اشاعت