بند کریں
صحت صحت کی خبریںاسلام آباد کے ایک ہسپتال سے سوائن فلو کا ایک ممکنہ مریض غائب ہوگیا

صحت خبریں

وقت اشاعت: 29/09/2009 - 21:24:24 وقت اشاعت: 29/09/2009 - 12:22:09 وقت اشاعت: 28/09/2009 - 19:28:18 وقت اشاعت: 28/09/2009 - 14:42:45 وقت اشاعت: 27/09/2009 - 23:30:08 وقت اشاعت: 27/09/2009 - 21:23:45 وقت اشاعت: 27/09/2009 - 14:30:43 وقت اشاعت: 26/09/2009 - 13:39:03 وقت اشاعت: 25/09/2009 - 19:58:36 وقت اشاعت: 25/09/2009 - 17:26:01 وقت اشاعت: 25/09/2009 - 17:15:28

اسلام آباد کے ایک ہسپتال سے سوائن فلو کا ایک ممکنہ مریض غائب ہوگیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27ستمبر۔2009ء)اسلام آباد کے ایک ہسپتال سے سوائن فلو کا ایک ممکنہ مریض غائب ہوگیا ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ کے مطابق اسلام آباد کے رہائشی عبدالسلام چند روز قبل عمرہ ادا کرنے کے بعد سعودی عرب سے لوٹے تھے اور ان کو نزلہ زکام کی شکایت تھی۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ شخص کو پہلے پولی کلینک ہسپتال لے جایا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے ان کے کچھ ٹیسٹ کیے۔

ڈاکٹروں کوشک تھا کہ انہیں سوائن فلو ہوسکتا ہے چنانچہ مریض کو ایمبولینس میں پمز ہسپتال پہنچایا گیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پمز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کو ایمبولینس میں ہسپتال لایا جارہا تھا لیکن وہ راستے میں ہی غائب ہوگیا۔ ہسپتال اور پولیس کا عملہ سوائن فلو کے ممکنہ مریض کو تلاش کر رہے ہیں۔پولی کلینک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوائن فلو کے شْبہہ میں ایک مریض کو پمز ہسپتال بھجوایا تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ جب عبدالسلام جب عمرے کی ادائیگی کے بعد پاکستان آئے تھے تو ہوائی اڈے پر اْن کا طبی معائنہ نہیں کروایا گیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل سوائن فلو کے دو مریض اس وقت پمز ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور انہیں علیحدہ وارڈ میں رکھا گیا ہے جہاں پر اْن کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی عملہ تعینات ہے۔ان مریضوں میں پنجاب کے علاقے سمندری کے رہائشی عمران خان اومان سے آئے تھے جبکہ عبدالقادر دوبئی سے آئے تھے اور ان دونوں کے سوائن فلو میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔

پمز ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب ان کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔پاکستان میں اب تک تین افراد کے سوائن فلو میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ پاکستان میں اس بیماری کا پہلا مریض کچھ عرصہ قبل سعودی عرب سے آیا تھا اور اْس کو علاج کے لیے فیصل آباد کے ایک ہسپتال میں رکھا گیا تھا۔ بھارت میں ابھی تک اس بیماری سے متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
27/09/2009 - 21:23:45 :وقت اشاعت