بند کریں
صحت صحت کی خبریںامریکہ صدر اوباما کے صحت بل کو منظوری مل گئی، سینٹ کے 23 ارکان میں سے 9 نے مخالف کی

صحت خبریں

وقت اشاعت: 21/10/2009 - 17:08:47 وقت اشاعت: 19/10/2009 - 18:52:16 وقت اشاعت: 19/10/2009 - 18:51:52 وقت اشاعت: 17/10/2009 - 10:52:51 وقت اشاعت: 16/10/2009 - 19:51:23 وقت اشاعت: 14/10/2009 - 17:28:01 وقت اشاعت: 14/10/2009 - 12:29:32 وقت اشاعت: 10/10/2009 - 19:42:47 وقت اشاعت: 09/10/2009 - 20:08:07 وقت اشاعت: 09/10/2009 - 17:53:07 وقت اشاعت: 08/10/2009 - 18:08:11

امریکہ صدر اوباما کے صحت بل کو منظوری مل گئی، سینٹ کے 23 ارکان میں سے 9 نے مخالف کی

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14 اکتوبر ۔2009ء)امریکہ میں سینیٹ کی کمیٹی نے اس مجوزہ بل کو منظوری دیدی ہے جس کے تحت صدر براک اوباما صحت کے شعبہ میں اصلاحات چاہتے ہیں۔سینیٹ پینل کے 23ارکان میں سے چودہ نے بل کی حمایت جبکہ نو نے اس کی مخالفت کی ہے۔ایک ریپبلکن رکن نے بھی بل کی حمایت کی ہے۔ سینیٹر اولمپیا سنو ایسی پہلی ریپبلکن ہیں جنہوں نے اس مجوزہ بل کی حمایت کی ہے۔

شعبہ صحت میں اصلاحات کا مقصد قیمتوں میں کمی کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ انشورنش پالیسی لے سکیں۔امریکی صدر براک اوباما کی گھریلو پالیسیز میں شعبہ صحت میں اصلاحات سب اہم ہے۔ انہوں نے کمیٹی کے فیصلے کا یہ کہہ کر خیرمقدم کیا ہے کہ ’یہ اہم سنگِ میل ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ہم شعبہ صحت میں اصلاحات کو منظور کرنے میں اب پہلے سے بھی قریب ہیں لیکن ابھی بھی ہم وہاں نہیں پہنچ سکے ہیں۔

ہمارے لیے یہ موقع نہیں ہے کہ اب ہم اپنی پیٹھ کو تھپتھپائیں بلکہ اس کے لیے اور محنت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کام کو پورا کر سکیں۔شعبہ صحت میں اصلاحات کے اس بل کو بڑے بحث و مباحثے کے بعد تیار کیا گیا ہے۔اس کے تحت آٹھ سو انتیس ارب ڈالر کی لاگت سے آئندہ دس برس کے لیے منصوبہ بنایا گیا ہے جس سے کم قیمتوں پر بیشتر امریکی شہریوں کو انشورنس فراہم کیا جا سکے گا۔

ماہرین کے مطابق صدر براک اوباما کو پتہ ہے کہ اس بارے میں ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے لیکن سینیٹ کمیٹی سے بل کی منظوری بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ریپبلکن ارکان اوباما کے اس منصوبے کے سخت مخالف ہیں لیکن سینیٹر سنو نے اس کی حمایت کرتے ہوئے کہا ’جب تاریخ پکارتی ہے تو پھر پکارتی ہے‘۔ لیکن اعتدال پسند ریپبلکن نے یہ بھی کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ وہ مستقبل بھی اس بل کی حمایت کریں۔

’ابھی بہت کچھ کرنا ہے میرا ووٹ آج میرا ووٹ ہے لیکن کل کیا ہوگا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔شعبہ صحت میں اصلاحات کے اس بل کو بڑے بحث و مباحثے کے بعد تیار کیا گیا ہے۔اس کے تحت آٹھ سو انتیس ارب ڈالر کی لاگت سے آئندہ دس برس کے لیے منصوبہ بنایا گیا ہے جس سے کم قیمتوں پر بیشتر امریکی شہریوں کو انشورنس فراہم کیا جا سکے گا۔ریپبلیکن سینیٹر چارلس گراسلے نے اس مجوہ بل پر سخت الفاظ میں نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ کانگریس میں آنے تک یہ گر جائیگا۔

’یہ بل پہلے ہی سے پھسل رہا ہے جس سے شعبہ صحت پر حکومت کا کنٹرول اور بڑھ جائے گا۔اب فنانس کمیٹی کے بل کو سینیٹ کے اس منظور شدہ بل کے ساتھ ملایا جائیگا اور پھر ووٹ کے لیے اسے سینیٹ میں پیش کیا جائیگا۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اسے منظوری ہی مل جائے کیونکہ اسے پاس ہونے کے لیے تمام ڈیموکریٹس، دو آزاد ارکان اور ایک ریپبلکن رکن کا ووٹ ضروری ہوگا۔
14/10/2009 - 17:28:01 :وقت اشاعت