بند کریں
صحت صحت کی خبریںتحریک انصاف نے این آر او اور کیر ی لوگر بل کیخلاف تحریک کا اعلان کر دیا ،(ن) لیگ سمیت تمام جماعتوں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 07/11/2009 - 13:16:04 وقت اشاعت: 05/11/2009 - 19:18:20 وقت اشاعت: 04/11/2009 - 19:34:56 وقت اشاعت: 04/11/2009 - 15:11:25 وقت اشاعت: 02/11/2009 - 17:24:22 وقت اشاعت: 01/11/2009 - 19:54:20 وقت اشاعت: 31/10/2009 - 16:13:48 وقت اشاعت: 30/10/2009 - 12:51:09 وقت اشاعت: 30/10/2009 - 11:45:07 وقت اشاعت: 29/10/2009 - 20:48:16 وقت اشاعت: 29/10/2009 - 17:19:20

تحریک انصاف نے این آر او اور کیر ی لوگر بل کیخلاف تحریک کا اعلان کر دیا ،(ن) لیگ سمیت تمام جماعتوں کو شرکت کی دعوت ،6نومبر کو اسلام آباد اور 7نومبر کو لاہور سے احتجاجی تحریک اور عوامی رابطہ مہم شروع ہوگی ،این آر او کیخلاف نہ صرف سڑکوں پر بلکہ عدالتوں میں بھی جنگ لڑیں گے ،آئین کے تحت پارلیمنٹ این آر او جیسے آرڈیننس کو منظور نہیں کر سکتی ،عمران خان کی احسن رشید ،محمود الرشید ،سلونی بخاری اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔1نومبر۔2009ء)تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے (ن) لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو این آر او اور کیری لوگر بل کے خلاف مشترکہ تحریک چلانے کی دعوت ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف 6نومبر کو اسلام آباد اور 7نومبر کو لاہور سے احتجاجی تحریک اور عوامی رابطہ مہم کا آغاز کریگی ،ہم این آر او کے خلاف نہ صرف سڑکوں پر بلکہ عدالتوں میں بھی جنگ لڑیں گے ،آئین کے تحت پارلیمنٹ این آر او جیسے آرڈیننس کو منظور نہیں کر سکتی یہ انسانی حقوق اور 1973ء کے آئین کی خلاف ورزی ہے ،امید ہے این آر او پر موجودہ عدلیہ آئین کے تحت فیصلہ دیگی نظریہ ضرورت کے تحت نہیں ،پیپلز پارٹی کے بہت سے اراکین نے مجھے کہا ہے کہ ہم آصف علی زرداری کی وجہ سے خاموش ہیں ورنہ این آر او کے خلاف ہیں ،فوجی آمریت کے حق میں نہیں لیکن ملک کے تمام مسائل کا حل قبل از وقت انتخابات میں ہے ،ایک امریکی فوجی پر افغانستان میں ماہانہ 10لاکھ ڈالر خرچ ہو رہا ہے جبکہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف لڑنیوالے ہمارے فوجیوں کو صرف 9سو ڈالر دے رہا ہے ۔

وہ گزشتہ روز 14ظفر علی روڈ پر تحریک انصاف پنجاب کے صدر احسن رشید ،لاہور کے صدر میاں محمود الرشید ،شعبہ خواتین پنجاب کی صدر سلونی بخاری اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ عمران خان نے کہا کہ میں جمعہ 6نومبر کو اسلام آباد میں کیری لوگر بل اور این آرا و کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرونگا اور اس کے بعد 7نومبر ہفتہ کو لاہور سے مظاہروں کا آغاز اور عوامی رابطہ مہم شروع کی جائیگی ۔

انہوں نے کہا کہ این آر او جب منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں آئیگا تو میرا تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ ہے کہ وہ اس موقع پر غیر حاضر رہنے کی بجائے وہاں پر موجود ہوں اور اس آرڈیننس کے خلاف اپنا ووٹ دیں اور اب یہ بھی پتہ چل جائیگا کہ کون سیاستدان ایک اور کون دو نمبر ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر پیپلز پارٹی نے اس آرڈیننس کو منظور کیا تو یہ بھٹو شہید کی پارٹی نہیں رہے گی اور یہ وہ کام ہو گا جو پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کیلئے بڑے بڑے آمر نہیں کر سکے ۔

اس آرڈیننس سے صرف کرپشن کرنیوالوں کو نہیں بلکہ ہزاروں افراد کے قاتلوں کو بھی چھوڑ ملی ہے اور ملے گی ۔ میں مسلم لیگ (ن) سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ آئیں اور ملکر این آر او اور کیری لوگر بل کے خلاف احتجاج کریں ۔ عمران خان نے کہا کہ وزیر اعلی شہبازشریف کی طرف این آر او کے خلاف عوامی رابطہ مہم کو بھی خوش آمدید کہتا ہوں اور اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ پاکستان کسی ڈاکو یا آصف زردای کا پاکستان یا قائد اعظم کا ملک میں اس وقت جنگ کے قانون سے بھی ابتر صورتحال ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم بے شرمی کی زندگی نہیں گزارنا چاہتے اور جو لوگ این آرا و کے حق میں ووٹ دینگے ان کا بھرپور احتساب کیا جائیگااور اس این آر او کا اصل مقصد پرویز مشرف اور امریکہ کی پالیسیوں کا تسلسل ہے اور یہ این آر او جاری بھی امریکہ نے ہی کروایا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری نہیں بلکہ پرویز مشرف نے ڈالروں کیلئے ہمیں اس جنگ میں دھکیلا تھا اور جب ہم اس جنگ کا حصہ نہیں تھے تو پاکستان میں خود کش دھماکے تھے اور نہ ہی کوئی سیکورٹی فورسز کے گلے کاٹتا تھا لیکن امریکہ سے ملنے والے ڈالر بھی حکمرانوں نے اپنی کرسیوں کو بچانے ،صدر ،وزیر اعظم ،گورنر ہاؤسز اور وزراء اعلی کی عیاشیوں پر خرچ کئے اور کئے جا رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جب تک امریکہ افغانستان سے نہیں جائیگا پاکستان میں انتہاء پسند ی اور دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا اور امریکی وزیر خارجہ جن سے بھی ملی ہے ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ امریکہ افغانستان سے کب جا رہا ہے ۔ مجھ سے تو امریکی سفیر اس لئے نہیں ملتے کیونکہ مجھے طالبان اور انتہا پسند سمجھتے ہیں ۔ صرف ان لوگوں سے ملتے ہیں جو اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں جس طرح افغانستان میں میر جعفر اور میر صادق کی حکومت ہے اسی طرح پاکستان میں بھی میر صاد ق اور میر جعفر کی حکومت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر میڈیا پر کوئی پابندی لگائی گئی تو ہم اس کی شدید مخالفت کرینگے ۔ دو نمبر ،این آر او سے فائدہ حاصل کرنیوالے اور امریکہ کے جوتے پالش کرنیوالے آزاد میڈیا کے حق میں نہیں اور جمہوریت پسند ملک میں آزاد میڈیا چاہتے ہیں ۔
01/11/2009 - 19:54:20 :وقت اشاعت