بند کریں
صحت صحت کی خبریں” بابا پھر دھماکہ ہوگیا اٹھ جاؤ “، پشاو، لوگ صبح سویرے زوردار دھماکوں کی آواز کے ساتھ ہی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 21/11/2009 - 23:39:19 وقت اشاعت: 20/11/2009 - 23:51:25 وقت اشاعت: 20/11/2009 - 18:17:55 وقت اشاعت: 17/11/2009 - 20:40:57 وقت اشاعت: 17/11/2009 - 20:40:20 وقت اشاعت: 17/11/2009 - 18:08:35 وقت اشاعت: 17/11/2009 - 14:54:48 وقت اشاعت: 15/11/2009 - 21:57:24 وقت اشاعت: 15/11/2009 - 19:03:15 وقت اشاعت: 14/11/2009 - 20:20:09 وقت اشاعت: 14/11/2009 - 18:55:43

” بابا پھر دھماکہ ہوگیا اٹھ جاؤ “، پشاو، لوگ صبح سویرے زوردار دھماکوں کی آواز کے ساتھ ہی نیند سے افراتفری کے عالم میں اٹھے، رپورٹ

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17 نومبر ۔2009ء)پشاور شہر میں تقریباً گزشتہ دو ماہ سے شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا جس میں زیادہ تر عام شہری نشانہ بنے۔جب صبح دھماکے کی آواز ہی آپ کو نیند سے جگا دے تو کیا وہ دن آپ کا اچھا گزرے گا، یا اس دن کیا آپ کا دل چاہے گا کہ بچوں کو سکول بھیجیں۔ یہی سب کچھ گزشتہ چند دنوں سے صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ہو رہا ہے جہاں بم دھماکے اور خودکش حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔

پچھلے ایک ہفتے میں دو تین مرتبہ اس طرح ہوا کہ پشاور شہر میں لوگ صبح سویرے زوردار دھماکوں کی آواز کے ساتھ ہی نیند سے افراتفری کے عالم میں اٹھے۔ یہ دھماکے اتنے شدید تھے کہ ان کی آوازیں تین سے چار کلومیٹر کی حدود میں سنی گئی تھیں۔شہر میں شدت پسندی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے اثر سے اب کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔ اور تو اور ننھے منھے بچے بھی اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں اور ان کے ذہنوں پر اس کے انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

چند دن پہلے پشاور میں صبح کے وقت جب ایک دھماکہ ہوا تو میں اس وقت گھر پر موجود تھا۔ میری چھ سالہ بیٹی نے مجھے جگا کر کہا کہ او بابا پھر دھماکے کی آواز آئی ہے، یہ دیکھو ٹی وی پر پٹی بھی چل رہی ہے۔‘تھوڑی دیر کے بعد وہ کہتی ہے ’ کیا ہوگا، روزانہ دھماکے ، آج پھر ہم سکول نہیں جائیں گے، یہ کیا مصیبت ہے، پولیس کیوں نہیں پکڑتی ان کو۔پشاور میں گزشتہ دو ماہ سے جاری شدت پسندی کی تازہ لہر نے ویسے تو ہر شعبہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے تاہم اس کا سب سے زیادہ اثر تجارتی اور تعلیمی سرگرمیوں پر پڑا ہے۔

شہر میں ہونے والے بڑے بڑے بم دھماکے اور خودکش حملے پرہجوم مقامات پر ہوئے تھے جن میں زیادہ تر بازاروں اور تجارتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان دھماکوں سے نہ صرف یہ کہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا بلکہ ان کی وجہ سے وسیع پیمانے پر مالی نقصانات بھی ہوچکے ہیں۔ان میں سینکڑوں دوکانات کے علاوہ کئی مارکٹیں بھی مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکی ہیں۔

ایک تاجر رہنما کے مطابق صرف پیپل منڈی دھماکے میں بارہ کے قریب مارکیٹوں کو نقصان پہنچا تھا۔ اس طرح پشاور صدر اور خیبر بازار میں ہونے والے دو دھماکوں سے ایک درجن کے قریب پلازوں کو نقصان پہنچا تھا جس میں سینکڑوں دوکانیں اور دفاتر قائم تھے۔شدت پسندی کے حالیہ واقعات کے بعد بازاروں اور تجارتی مراکز میں عوام کا رش کافی حد تک کم ہوگیا ہے۔

شہر کے تاجروں کا کہنا ہے جب سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی ہے تو اس کے بعد سے کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں اور خرید و فروخت میں پچاس فیصد سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ان کے مطابق عوام سہمی ہوئی ہے اور وہ بازاروں پر جانے کی بجائے گھروں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔پشاور شہر میں تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

چند ہفتے قبل جب بم حملوں میں اضافہ ہوا تو سرحد حکومت نے چند دنوں کیلیے تمام تعلیمی ادارے بندکردیئے تھے تاہم اب سکول دوبارہ کھل گئے ہیں لیکن اس کے باوجود سکولوں میں حاضری اس جیسے نہیں رہی جو آج سے چندماہ پہلے تھی۔بالخصوص جمعہ کے روز تو سکولوں میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے پشاور میں ہونے والے زیادہ تر دھماکے جمعہ کے دن ہی پیش آئے تھے لہٰذا اس دن والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ بچوں کو سکول نہ بھیجا جائے۔
17/11/2009 - 18:08:35 :وقت اشاعت