بند کریں
صحت صحت کی خبریںکچھ طاقتیں اسلام کے پیغام کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں، امت مسلمہ تمام سازشوں کیخلاف متحد ہو جائے، ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 06/12/2009 - 14:50:42 وقت اشاعت: 06/12/2009 - 13:41:43 وقت اشاعت: 02/12/2009 - 18:38:25 وقت اشاعت: 30/11/2009 - 12:48:14 وقت اشاعت: 26/11/2009 - 17:47:10 وقت اشاعت: 26/11/2009 - 16:43:56 وقت اشاعت: 26/11/2009 - 15:40:38 وقت اشاعت: 26/11/2009 - 15:05:17 وقت اشاعت: 25/11/2009 - 17:44:22 وقت اشاعت: 22/11/2009 - 17:47:43 وقت اشاعت: 21/11/2009 - 23:39:19

کچھ طاقتیں اسلام کے پیغام کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں، امت مسلمہ تمام سازشوں کیخلاف متحد ہو جائے، مفتی اعظم، صورتحال کچھ بھی ہو مستقبل اسلام ہے، سیاست اللہ کی جانب سے دی گئی امانت، خیانت کرنیوالوں کے حصہ میں صرف ذلت ہے، دنیا کے تمام رہنما دائرہ اسلام جیسا پر امن مذہب اختیار کر لیں، آج ہم نے اللہ کو چھوڑ کو غیر اللہ سے مدد طلب کرنا شروع کر دی ہے، اللہ تعالی کی کتاب سے منہ پھیرنے والی قومیں تباہ ہو جاتی ہیں، مسلمان کبھی مغربی دنیاکی طرح مرضی کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتا، شیخ عبدالعزیز الشیخ کا میدان عرفات میں خطبہ حج

میدان عرفات(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26 نومبر ۔2009ء) سعودی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ نے دنیا کے تمام رہنماؤں کودائرہ اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے ،مسلمانوں کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے ، امت مسلمہ تمام سازشوں کے خلاف متحد ہوجائے، سیاست اللہ کی جانب سے دی گئی امانت ہے اور اس میں خیانت کرنے والوں کے حصہ میں صرف ذلت ہے ۔

کچھ طاقتیں اسلام کے پیغام کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں اور ایسی صورت میں میڈیا کا بہت اہم کردار ہے ،امت مسلمہ کا فرض ہے حضور اکرم کی نافرمانی کرنے والوں کے خلاف کھڑی ہو جائے ، صورتحال کچھ بھی ہو مستقبل اسلام ہے،آج ہم نے اللہ کو چھوڑ کو غیر اللہ سے مدد طلب کرنا شروع کر دی ہے ، اللہ کی کتاب سے منہ پھیر لیا ہے اور اللہ تعالی کی کتاب سے منہ پھیرنے والی قومیں تباہ ہو جاتی ہیں، اللہ تعالی نے مختلف رنگوں،زبانوں کے لوگوں کو کلمہ کے ذریعے متحد کر دیا،میدان عرفات میں خطبہ حج دیتے ہو ئے مسجد نمرہ کے امام سعودی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ نے کہا کہ آج اچھائی اور برائی میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے نوجوانوں کے ذہنوں میں اسلام کے خلاف شکوک و شبہات پھیلائے جا رہے ہیں جس کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔

دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خود کش حملوں اور دہشت گردی کی مذہب میں کوئی جگہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلمان کبھی مغربی دنیا کی طرح اپنی مرضی کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتا ، اللہ نے انسان کو یہاں محض کچھ وقت کے لئے بھیجا ہے اور اس کے بعد اسے لوٹ کر واپس اسی کی جانب جانا ہے ۔ مسلمانوں میں آج انتشار پھیلایا جا رہا ہے ، برائی کو نیکی کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے ، آج ہم نے اللہ کو چھوڑ کو غیر اللہ سے مدد طلب کرنا شروع کر دی ہے ، اللہ کی کتاب سے منہ پھیر لیا ہے اور اللہ تعالی کی کتاب سے منہ پھیرنے والی قومیں تباہ ہو جاتی ہیں ۔

مفتی اعظم نے کہا کہ مسلمان آپس میں تعاون اورمحبت سے پیش آئیں، تعصب سے دور رہیں ، اللہ کی جانب دین کی دعوت دی جائے ۔ جن چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ان سے بچا جائے ، صورتحال کچھ بھی ہو مستقبل اسلام ہے ، کچھ طاقتیں اسلام کے پیغام کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں اور ایسی صورت میں میڈیا کا بہت اہم کردار ہے ، مسلمان ممالک کا میڈیا اسلام کا دفاع کرے ۔

انہوں نے کہا کہ کل کی طرح آج بھی اسلام کے دشمن ہیں تاہم جو بھی اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے کی کوشش کرے گا شکست اس کا مقدر ہے ۔ اللہ تعالی نے انبیاء کو بھیجا اور اسلام کی دعوت دی ، حضور کو مجنوں کہا گیا ،ان پر الزامات عائد کیے گئے لیکن اللہ نے تمام برائی کی قوتوں پر انہیں فتح نصیب فرمائی ۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ تقویٰ اختیار کریں ،کسی پر ظلم نہ کریں اور سود سے بچیں ۔

انہوں نے خطبہ میں کہا کہ آج مسلمان ساری دنیا سے لاکھوں کی تعداد میں اس عظیم فریضہ کی ادائیگی کے لئے اس مبارک سر زمین پر آئے ہیں اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو تقوی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے تقوی ہر مسلمان کے لئے فرض ہے، اے امت مسلمہ انسان اور جن کو صرف اللہ تعالی نے اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے حضرت آدم علیہ السلام زمین پر اللہ کے پہلے خلیفہ تھے اور انسانیت کے لئے ان کو پہلا نبی بنایا گیا اللہ تعالی نے اس سے قبل جتنے انبیاء بھیجے انکی قوموں سے بعض لوگ ان پر ایمان لائے اور ایک بڑی تعداد نے ان کا انکار کیا اور ان کا مذاق اڑایا اور ان کیخلا ف سازشیں کیں اللہ تعالی نے انبیاء کے بھیجنے کے آخر میں حضور اکر مﷺ کو دنیا میں بھیجا جنہوں نے انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں پہنچایا آپ نے مسلمانوں کو ایمانداری ،سچ بولنے اور روا داری کی ہدایت کی اس کے ساتھ ہی یتیموں کا ما ل کھانے اور قطع تعلق کرنے سے ممانعت فرمائی ۔

حضور اکرمﷺ کے مخالفین کی طرف سے بے شمار قسم کے الزامات لگائے گئے اور آپ کی مزاحمت اور مخالفت کی گئی حتی کہ آپ کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنی پڑی اور آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے بے شمار مشکلات اور جنگیں کیں اورآپ پر جنگوں کو مسلط کیا ان تمام مخالفتوں ، مزاحمتوں اور مشکلات کے باوجود اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کی نصرت کی اور ان کو کامیابی و کامرانی عطا فرمائی۔

اللہ تعالی نے اپنے دین اور نعمت کو مکمل کر دیا مفتی اعظم نے دنیا بھرکے رہنماؤں کودائرہ اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ وہ اسلام جیسا پرامن مذہب اختیار کرلیں۔ حضور اکرم پر اللہ تعالی کی نعمتیں اور برکتیں ہوں مفتی اعظم نے حضرت ابو بکر صدیق کے دور کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ ان کے دورمیں بھی مخالفین سے بھر پور مزاحمت کی اور اللہ تعالی سے اپنے دین کی حفاظت کی ۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے مختلف رنگوں،زبانوں کے لوگوں کو کلمہ کے ذریعے متحد کر دیا اور مسلمہ امہ کو مختلف ادوار میں مختلف سازشوں اور چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے انہوں نے کہا کہ جو آج دین کے مخالف ہیں وہ کل بھی دین کے مخالفین تھے آج ان کے رنگ ڈھنگ اور اسالیب بدل گئے ہیں لیکن ان کی مخالفت وہی ہے آج دین میں شکوک و شہبات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے مدد مانگی جا رہی ہے آج امت کی اللہ کی توحید اور بندگی کی طرف دعوت دینا اہم ترین ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ جو بھی اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرنے کی کوشش کرے گا ذلت اور رسوائی اس کا مقدر ہو گی امت مسلمہ کا فرض ہے حضور اکرم کی نافرمانی کرنے والوں کے خلاف کھڑی ہو جائے اور آپ کی سنت کو اپنے تمام معاملات میں نافذ کرنے کی کوشش کرے
26/11/2009 - 16:43:56 :وقت اشاعت