بند کریں
صحت صحت کی خبریںکراچی میں سوائن فلو کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ،سوائن فلو کے مریضوں کیلئے پاکستان میں فی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 29/12/2009 - 14:35:39 وقت اشاعت: 27/12/2009 - 22:04:47 وقت اشاعت: 26/12/2009 - 20:28:13 وقت اشاعت: 26/12/2009 - 13:36:35 وقت اشاعت: 23/12/2009 - 19:19:04 وقت اشاعت: 23/12/2009 - 17:47:19 وقت اشاعت: 23/12/2009 - 15:56:14 وقت اشاعت: 22/12/2009 - 14:00:05 وقت اشاعت: 21/12/2009 - 19:58:47 وقت اشاعت: 21/12/2009 - 11:48:43 وقت اشاعت: 20/12/2009 - 17:23:09

کراچی میں سوائن فلو کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ،سوائن فلو کے مریضوں کیلئے پاکستان میں فی الحال ویکسین دستیاب نہیں، صوبائی وزیر صحت

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ 23دسمبر۔ 2009ء)کراچی سمیت صوبہ سندھ میں سوائن فلو وائرس سے متاثر ہونے والے افرا دکی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور اب تک پورے صوبے میں 42 کے قریب مریضوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم گزشتہ روز ہلاک ہونے والے تیسرے شخص میں اس وائرس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ہلاک ہونے والے ان تینوں افراد کا تعلق کراچی سے ہے۔

کراچی کے آغا خان ہسپتال میں انفیکشن کنٹرول کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر بشریٰ جمیل کا کہنا ہے کہ ان کی لیبارٹری کے ذریعے اب تک 35 افراد میں اس وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جن میں سے اس وقت دو مریض ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ان کے پاس آنے والے مریضوں میں اکثریت نوجوانو ں کی ہے جن میں حاملہ خواتین بھی شامل ہیں ۔واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت صرف دو ہسپتالوں میں سوائن فلو وائرس کے ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے جن میں کراچی کا آغا خان ہسپتال اور اسلام آباد میں قومی ادارہ برائے صحت شامل ہیں لیکن اس وائرس سے بچاؤ کی ویکسین یہاں دستیاب نہیں۔

ایسے میں اس مرض پر قابو کیسے پایا جائے اور خود مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز اور عملہ اس وائرس سے کتنے محفوظ ہیں۔ ڈاکٹر بشریٰ جمیل کا کہنا ہے پاکستان میں کہیں بھی فی الحال ویکسین دستیاب نہیں ۔ تاہم اس سے بچاؤ کے لیے پہلے مرحلے میں لوگوں میں اس وائرس اور احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی ہونا بہت ضروری ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ہسپتال میں ایسے مریضوں کے لیے علیحدہ وارڈ کا انتظام موجود ہے جبکہ علاج کرنے والا عملہ بھی مکمل آگاہ ہے ۔

ادھر صوبائی وزیر ِ صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے امریکی ریڈیوکو بتایا کہ ویکسینیشن سے متعلق عالمی ادارہ صحت کا ایک طریقہ کار ہے۔ اس وقت پاکستان سمیت کئی ممالک نے بین لاقوامی مارکیٹ میں ویکسینیشن کے آرڈر دیے ہیں ۔پاکستا ن کو جنوری کے وسط میں یہ ویکسین دستیاب ہوں گی تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر ویکسین کا کردار اتنا اہم نہیں جتنا کہ احتیاطی تدابیر ہیں اور لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے ان کی حکومت کے اقدامات جاری ہیں جبکہ کراچی کے ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کمیٹیاں بھی موجود ہیں ۔

ان کے بقول متاثرہ افراد میں سے اب تک 37 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں اور دوسرے ممالک کے مقابلے میں یہاں صورتحال ابھی بہت بہتر ہے ۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سوائن فلو وائرس کے پھیلنے کے امکانات حاملہ خواتین ،سانس اور دمے کی بیماریوں اور عارضہ قلب میں مبتلا مریضوں میں زیادہ ہیں اور انفلوئنزا وائرس کا پھیلاؤ دسمبر سے اپریل کے درمیان معمول ہے ۔ طبی ماہرین کے بقول گلا خراب ہونا، کھانسی ، جسم میں درد اور بخار اس کی علامات ہیں اور اسے پھیلنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگ اپنی اور اپنے گھروں کی صفائی کا خیال رکھیں اور حاملہ خواتین اور بچے بیمار لوگوں کی تیماداری سے دور رہیں۔
23/12/2009 - 17:47:19 :وقت اشاعت