بند کریں
صحت صحت کی خبریںمیٹھا کھانے کے عادی دوسروںکی نسبت زیادہ اداس رہتے ہیں، برطانوی ماہرین

صحت خبریں

وقت اشاعت: 26/08/2017 - 12:32:27 وقت اشاعت: 25/08/2017 - 16:46:44 وقت اشاعت: 25/08/2017 - 16:44:13 وقت اشاعت: 25/08/2017 - 15:54:34 وقت اشاعت: 25/08/2017 - 15:42:10 وقت اشاعت: 25/08/2017 - 15:42:02 وقت اشاعت: 25/08/2017 - 15:06:19 وقت اشاعت: 25/08/2017 - 15:06:19 وقت اشاعت: 25/08/2017 - 11:51:03 وقت اشاعت: 25/08/2017 - 11:50:58 وقت اشاعت: 24/08/2017 - 23:49:43

میٹھا کھانے کے عادی دوسروںکی نسبت زیادہ اداس رہتے ہیں، برطانوی ماہرین

لندن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اگست2017ء) برطانوی ماہرین صحت کہنا ہے کہ جو لوگ زیادہ میٹھا کھانے کے عادی ہوتے ہیں وہ اوسط اور کم مقدار میں میٹھا کھانے والوں کے مقابلے میں زیادہ اداس رہتے ہیں۔ یونیورسٹی کالج لندن (یو سی ایل) میں وبائیات اور عمومی صحت کے ماہرین کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے صحت مند مرد جو لمبے عرصے تک روزانہ 67 گرام یا اس سے زیادہ مقدار میں شکر استعمال کرتے ہیں انہیں روزانہ 40 گرام یا اس سے کم شکر کھانے والے مردوں کے مقابلے میں مزاج سے متعلق مسائل کا خطرہ 23 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ ان مسائل میں ڈپریشن اور بے چینی (اینگڑائٹی) سرِفہرست ہیں۔

مطالعے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ زیادہ شکر اور مزاجی مسائل میں تعلق ہر طبقے کے مردوں یکساں ہوتا ہے یعنی اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زیادہ شکر استعمال کرنے والا کوئی مرد امیر ہے یا غریب، اور زیادہ تعلیم یافتہ ہے یا کم پڑھا لکھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہے خالص حالت میں زیادہ شکر کھائی جائے یا پھر میٹھے کھانوں میں شامل کرکے، دونوں صورتوں میں زیادہ شکر کھانے کے موڈ پر منفی اثرات یکساں ہی رہتے ہیں۔اس دریافت کے باوجود ابھی یہ معلوم ہونا باقی ہے کہ شکر کا زیادہ استعمال کس طرح سے دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے جبکہ خواتین پر ایسے ہی ایک اور بھرپور تحقیقی مطالعے کی ضرورت ہے۔
25/08/2017 - 15:42:02 :وقت اشاعت