بند کریں
صحت صحت کی خبریںبہاولپور ،بالوں کو مستقل ڈائی کرنے کے لئے استعمال کیا جانے والا کالا پتھر انسانی اموات کا ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 15/09/2017 - 11:32:51 وقت اشاعت: 14/09/2017 - 21:52:54 وقت اشاعت: 14/09/2017 - 21:52:51 وقت اشاعت: 14/09/2017 - 21:48:22 وقت اشاعت: 14/09/2017 - 21:48:18 وقت اشاعت: 14/09/2017 - 21:32:58 وقت اشاعت: 14/09/2017 - 21:09:57 وقت اشاعت: 14/09/2017 - 15:23:30 وقت اشاعت: 14/09/2017 - 15:15:52 وقت اشاعت: 14/09/2017 - 15:14:14 وقت اشاعت: 14/09/2017 - 15:14:08

بہاولپور ،بالوں کو مستقل ڈائی کرنے کے لئے استعمال کیا جانے والا کالا پتھر انسانی اموات کا باعث بن رہا ہے،ڈاکٹر وسیم اختر

کالے پتھر کے استعمال سے اموات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، , پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی

بہاول پور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 ستمبر2017ء)بالوں کو مستقل ڈائی کرنے کے لئے استعمال کیا جانے والا کالا پتھر انسانی اموات کا باعث بن رہا ہے - کالے پتھر کے استعمال سے اموات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے - یہ انکشاف جماعت اسلامی کے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر وسیم اختر نے اپنے تحریک التواء کار میں کیا- سپیکر پنجاب اسمبلی نے تحریک التواء کار پر آئندہ ہفتے جواب طلب کر لیا- تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر سید وسیم اختر نے التواء کار پیش کی کہ ایک انگریزی اخبار کی خبر کے مطابق صوبہ پنجاب بہاولپور اور ملحقہ علاقوں میں کالا پتھر جو کہ بالوں کو مستقل ڈائی کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ایک زہر ہے جس کے کھانے سے اموات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے - بہاولپور وکٹوریا ہسپتال میں روزانہ کی بنیاد پر ایسے کیسز رپورٹ کئے جاتے ہیں جو کہ گردوں کے فیل ہونے اور دل کے دورے کے عارضہ جیسے جان لیوا امراض میں مبتلا ہوتے ہیں- ان میں سے بہت سے مریض موت کا شکار ہو جاتے ہیں-سال 2016 ء میں 703 مریض داخل ہوئے ان میں سے 150 کالا پتھر کھانے سے زندگی ہار گئی- ڈاکٹروں نے مطالبہ کیا ہے کہ کالا پتھر جو کہ ایک زہریلا کیمیکل ہے اس کی فروخت پر سخت نظر رکھنے کی ضرورت ہے تا کہ اسے خود کشی اور زہر دینے کے لئے استعمال نہ کیا جا سکے - عوامی حلقو ںنے بھی اس پر اپنا شدید رد عمل ظاہر کیا ہے کہ کالا پتھر کی فروخت اور استعمال پر قانونی لائحہ عمل بنایا جائے اور پنجاب ڈرگ اتھارٹی کو اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنے کی ذمہ دار ی سونپی جائی- سپیکر نے متعلقہ ذمہ داران سے ایک ہفتہ کے اندر رپورٹ طلب کر لی-پنجاب اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہا کہ یہ یونیورسٹی چونکہ بابا گرونانک کے نام سے منسوب ہے اور باباگرونانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب میں تھی اس لئے اسے ننکانہ صاحب میں ہی بننا چاہیی- انہوں نے کہا کہ یہ سکھ کمیونٹی کا مسئلہ ہے جبکہ یونیورسٹی کے لئے جگہ اور وسائل بھی فراہم کئے جا رہے ہیں- ننکانہ صاحب میں بسنے والی قومیتوںمیں ہم آہنگی پیدا ہو گی- صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو نے بھی یقین دہانی کروائی کہ یونیورسٹی ننکانہ صاحب میں ہی بنے گی-
14/09/2017 - 21:32:58 :وقت اشاعت