بند کریں
صحت صحت کی خبریںوزیر خارجہ نے مسئلہ کشمیر پر خفیہ سفارت کاری کے ذریعے پیشرفت کے مشرف حکومت کے دعووٴں کو مسترد ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 11/02/2010 - 18:41:08 وقت اشاعت: 10/02/2010 - 16:45:00 وقت اشاعت: 07/02/2010 - 21:37:29 وقت اشاعت: 07/02/2010 - 18:37:47 وقت اشاعت: 07/02/2010 - 17:43:07 وقت اشاعت: 07/02/2010 - 16:42:42 وقت اشاعت: 07/02/2010 - 15:15:17 وقت اشاعت: 07/02/2010 - 15:01:46 وقت اشاعت: 07/02/2010 - 13:09:16 وقت اشاعت: 06/02/2010 - 21:19:00 وقت اشاعت: 04/02/2010 - 12:36:50

وزیر خارجہ نے مسئلہ کشمیر پر خفیہ سفارت کاری کے ذریعے پیشرفت کے مشرف حکومت کے دعووٴں کو مسترد کردیا، بھارت کیساتھ مذاکرات کو جولائی 2008 کی سطح سے دوبارہ شروع کرنا ضر وری ہے، مذاکرات کا عمل مثبت سوچ سے شروع کرنا چاہتے ہیں، شاہ محمود قریشی، بھارت میں ایک طبقہ منفی بیان بازی کرتا رہتاہے، جامع مذاکرات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، افغانستان میں استحکام دنیا کے مفاد میں ہے، میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ 07فروری ۔ 2010ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سابقِ صدر پرویز مشرف کی حکومت کی جانب سے بھارت کے ساتھ خفیہ سفارت کاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر پر پیشرفت کے دعووٴں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کو جولائی 2008 کی سطح سے دوبارہ شروع کرنا ضر وری ہے۔ مذاکرات کا عمل مثبت سوچ سے شروع کرنا چاہتے ہیں،بھارت میں ایک طبقہ منفی بیان بازی کرتا رہتاہے جس سے جامع مذاکرات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ‘بیان بازی اورمیڈیا کے ذریعے مسائل حل نہیں ہو سکتے،افغانستان میں استحکام دنیا کے مفاد میں ہے ۔

اتوار کو اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سابقِ دورِ حکومت میں کشمیر کے مسئلے پر بھارت کے ساتھ مبینہ بات چیت اور اس تنازعے پر ہونے والی پیش رفت کا دفترِ خارجہ کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔’اگر اس معاملے پر خفیہ یا خاموش سفارت کاری کے کسی بھی طریقے کے ذریعے کوئی بھی پیش رفت ہوتی تو اس کا ریکارڈ دفتر خارجہ کے پاس ضرور ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہے۔

‘وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اس صورت میں بھارت کے ساتھ مذاکرات وہیں سے شروع ہونے چاہئیں جہاں سے وہ ٹوٹے تھے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دفتر خارجہ یا پاکستانی عوام اس نوعیت کی کسی تجویز یا اس پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ نہیں ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی دہائیوں سے دو طرفہ مذاکرات کے علاوہ رابطوں کے متعدد غیر سرکاری طریقے بھی ہیں لیکن خفیہ، خاموش، نجی، عوامی سطح پر اور بیک چینل کے نام سے ہونے والی ان تمام کوششوں کو بھی دونوں ملکوں کی خارجہ وزارتوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے اور ان کا ریکارڈ بھی محفوظ رکھا جاتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر کشمیر پر تجاویز پر بات ہوئی بھی ہے تو وہ بعض افراد کا ’ذاتی فعل‘ ہو سکتا ہے۔وزیرِ خارجہ نے کہا کہ خاموش سفارت کار کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن ’یہ بھی حقیقت ہے کہ مسائل صرف باضابطہ مذاکرات ہی کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی لیے ان کی حکومت دو طرفہ مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

اب بھارتی حکومت پر بھی مقامی طور پر دباوٴ اتنا بڑھ گیا ہے کہ انہیں بھی پاکستان کے ساتھ بات نہ کرنے کے اپنی روش تبدیل کرنی پڑ رہی ہے۔ دری اثناء نجی ٹی وی سے بات چیت کرئے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پاکستانی موقف کی تائید ہے۔پاکستان بھارت کے ساتھ مثبت سوچ سے مذاکرات کا عمل شروع کرناچاہتا ہے لیکن بھارت میں ایک طبقہ منفی بیان بازی کرتا رہتاہے جس سے جامع مذاکرات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کا پر امن حل چاہتا ہے جس کے لئے پاکستان نے بہت پہلے بھارت کو مذاکرات کی دوبارہ بحالی کی پیش کش کی تھی ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے اور سب سے زیادہ پاکستان کو اس سے نقصان پہنچا ہے ،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دنیا پاکستانی موقف اور قربانیوں کا عتراف کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں استحکام دنیا کے مفاد میں ہے۔یاد رہے کہ لندن میں مبینہ طور پر خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے سابقِ صدر پرویز مشرف نے ڈیڑھ برس قبل اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد متعدد بار دعویٰ کیا تھا کہ ان کے دورِ حکومت میں بھارت کے ساتھ ہونے والی خاموش سفارت کاری کے ذریعے دونوں ملک کشمیر کے مسئلے پر ان کی (صدر مشرف کی) پیش کردہ بعض تجاویز پر اتفاق رائے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔گزشتہ دنوں سابق دور میں وزیرِخارجہ خورشید محمود قصوری نے بھی اسی نوعیت کا دعویٰ کیا تھا۔
07/02/2010 - 16:42:42 :وقت اشاعت