بند کریں
صحت صحت کی خبریںوزیراعظم نے چشمہ جہلم لنک کینال پر پاور پلانٹ کے منصوبے پر سندھ کے تحفظات کا نوٹس لے لیا ،کسی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 13/02/2010 - 20:38:08 وقت اشاعت: 11/02/2010 - 21:32:53 وقت اشاعت: 11/02/2010 - 19:29:04 وقت اشاعت: 11/02/2010 - 18:41:08 وقت اشاعت: 10/02/2010 - 16:45:00 وقت اشاعت: 07/02/2010 - 21:37:29 وقت اشاعت: 07/02/2010 - 18:37:47 وقت اشاعت: 07/02/2010 - 17:43:07 وقت اشاعت: 07/02/2010 - 16:42:42 وقت اشاعت: 07/02/2010 - 15:15:17 وقت اشاعت: 07/02/2010 - 15:01:46

وزیراعظم نے چشمہ جہلم لنک کینال پر پاور پلانٹ کے منصوبے پر سندھ کے تحفظات کا نوٹس لے لیا ،کسی بھی صوبے کے حصے کا پانی دوسرے کو نہیں دیا جائے گا تمام کو حقوق ملیں گے  یوسف رضا گیلانی ،تمام اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے  بینظیر بھٹو کی مفاہمانہ پالیسی کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی  اجلاس سے خطاب

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔7فروری۔2010ء)وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے چشمہ جہلم لنک کینال پر پنجاب کی جانب سے پاور پلانٹ منصوبے پر سندھ کے شدید تحفظات کا نوٹس لیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا جبکہ پیپلز پارٹی سندھ کونسل کے ارکان نے وزیراعظم پاکستان کو سندھ میں پانی کی کمی، وفاقی ملازمتوں میں سندھ کے کوٹے میں کمی اور 1991ء کے معاہدے کے مطابق پانی نہ ملنے پر شدید احتجاج کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کونسل کا اجلاس اتوار کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس سے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صوبے کے حصے کا پانی دوسرے کو نہیں دیا جائے گا اور 1991ء کے معاہدے کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے چشمہ جہلم لنک کینال پر پاور پلانٹ کے منصوبے پر سندھ کے تحفظات کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ پیر آفتاب شاہ جیلانی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کو مشترکہ مفادات کے کونسل میں لے کر جائیں اور انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام صوبوں کو ان کے حقوق ملیں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ کوئی صوبہ یہ نہ سمجھے کہ اس کا حق مارا جارہا ہے۔ تمام صوبوں کو ان کے حصے کا پانی ملے گا۔ ہم ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے تمام اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مل جل کر کام کرینگے۔ بینظیر بھٹو کی مفاہمانہ پالیسی کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاق کی علامت ہے۔

میں نے صوبائی قیادت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈویژن اور اضلاع کی سطح پر کنونشن منعقد کرے جن میں ہر تین ماہ بعد میں خود شرکت کروں گا اور کارکنوں کے مسائل سن کر ان کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کارکن اپنے آپ کو تنہا محسوس نہ کریں۔ وہ پارٹی کا اثاثہ ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم پارٹی کی قائد محترمہ بینظیر بھٹو کی مفاہمانہ پالیسی کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔

وزیراعظم نے اپنی تقریر میں سندھ کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کراتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ بیروزگار نوجوانوں کے کوائف جمع کریں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ قبل ازیں پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر میاں رضا ربانی نے بینکنگ آرڈیننس کے سیکشن 27-B کے خاتمے میں اسٹیٹ بینک کے گورنر کو رکاوٹ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس مداخلت کو بند کیا جائے ورنہ جیالے سڑکوں پر آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مفاہمانہ پالیسی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے اور نہ ہی ہم کسی کی بلیک میلنگ میں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری مشرف کی طرح نہیں کہ انہیں فوری طور پر ہٹادیا جائے۔ اس موقع پر سندھ کونسل کے ارکان نے چشمہ جہلم لنک کینال پر پاور پلانٹ کی تعمیر پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کو 1991ء کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس منصوبے کو ترک کیا جائے اور سندھ کو فوری طور پر اس کے حصے کا پانی دیا جائے۔

پانی نہ ملنے کی وجہ سے سندھ کی زراعت تباہ ہورہی ہے۔ انہوں نے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں فنڈز کی عدم فراہمی کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا جبکہ صوبے میں بے روزگاری اور پاسکو کی جانب سے چاول نہ اٹھانے پر بھی شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاسکو کی جانب سے چاول بروقت نہ اٹھانے پر سندھ کے چاول خراب ہورہے ہیں جبکہ سندھ کو کوٹری ڈریم اسٹریم پر معاہدے کے مطابق پانی فراہم نہیں کیا جارہا ہے۔

سندھ کونسل کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، فریال ٹالپور، سید نوید قمر، پیر آفتاب شاہ جیلانی، سینیٹر رضا ربانی، سید خورشید شاہ، سید علی نواز شاہ اور کونسل کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے ایک اہم اجلاس میں بھی شرکت کی جس میں صوبے میں امن وامان کی صورتحال، مختلف ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کے دیگر معاملات پر گفتگو کی گئی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو صوبے میں امن وامان کیلئے کئے جانے والے اقدام سے آگاہ کیا گیا جبکہ وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ صوبے میں جلد شرپسندوں کو گرفتار کیا جائے اور ان دہشت گردوں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ وزیراعظم نے مزید کہا ہے کہ ترقی اور خوشحالی کیلئے امن ضروری ہے اور کراچی ملک کا اقتصادی وترقی کا اہم محور ہے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سندھ کے دو روزہ دورے پر اتوار کی دوپہر ڈھائی بجے کراچی پہنچے۔ ایئرپورٹ پر گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور دیگر حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ بعد ازاں وہ گورنر ہاؤس پہنچے جہاں گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ نے ان سے ملاقات کی جس کے بعد وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچے جہاں پر وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور دیگر حکام نے ان کا استقبال کیا۔
07/02/2010 - 21:37:29 :وقت اشاعت