ایبٹ آباد میں ہوم اکنامکس کالج کے قیام کا میرادیرینہ خواب پورا ہوا

وزیراعلیٰ کے مشیر مشتاق غنی کا ہوم اکنامکس کالج ایبٹ آباد میں سالانہ تقریب تقسیم انعامات سے خطاب

ایبٹ آباد میں ہوم اکنامکس کالج کے قیام کا میرادیرینہ خواب پورا ہوا
ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 ستمبر2017ء) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق احمد غنی نی صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے جال بچھا دیئے ہیں اور جس ضلع میں یونیورسٹی کی ضرورت نہیں تھیں وہاں پر یونیورسٹی کیمپس قائم کر دیئے ہیں، صوبہ میں ٹیکنیکل یونیورسٹی قائم کر دی ہے جو ملک میں پہلی ٹیکنیکل یونیورسٹی ہے، ایبٹ آباد میں ہوم اکنامکس کالج صوبہ میں پہلا ہوم اکنامکس کالج ہے جو میرا دیرینہ خواب تھا جس کی اشد ضرورت تھی، ہمارے بچے یونیورسٹیوں سے فارغ ہو کر بیروزگار نہیں رہیں گے، سابق حکومتیں اداروں کو ٹھیک کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی لیکن پاکستان تحریک انصاف نے انصاف سے کام کرتے ہوئے نظام میں تبدیلی لائی، اداروں کی مضبوطی کیلئے قانون سازی کی اور اداروں کو غیر سیاسی بنایا جس کی بدولت آج صحت، تعلیم، پولیس، محکمہ مال اور دیگر اداروں میں تبدیلی آئی اور آج عوام کو ریلیف مل رہا ہے۔

(جاری ہے)

وہ ہفتہ کو ہوم اکنامکس کالج ایبٹ آباد میں سالانہ تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر کالج کی پرنسپل نے سالانہ رپورٹ پیش کی اور ادارہ کو درپیش مسائل کا ذکر کیا۔ تقریب میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہائیر ایجوکیشن کے علاوہ تحصیل ممبر ملک سعید، مختلف کالجوں کی پرنسپلز اور طالبات بھی کثیر تعداد میں موجود تھیں۔ مشتاق احمد غنی نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت صحت اور تعلیم سمیت عوامی خدمت کے ہر شعبہ کے بارے میں ایک سوچ رکھتی ہے جس کیلئے اصلاحات کی گئی ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کے کامیاب ماڈلز سے رہنمائی لیکر ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، پولیس، میونسپل سروسز جیسے خدماتی اداروں کو خود مختیار بنایا گیا تاکہ کرپشن ختم ہو اور مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہوں، عام لوگوں کے مفاد میں کئے گئے اس اقدام کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے پورے صوبہ میں قانون سب کیلئے یقینی بنایا ہے، قانون سے بالاتر وزیراعلیٰ یا کوئی وزیر بھی نہیں ہے، ہم عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ سابق حکومتوں اور ہماری تحریک انصاف کی حکومت میں کیا فرق ہے، ہمارے قائد کا ایک ہی وژن تھا کہ پرانے زنگ آلود نظام کو ختم کر کے نیا نظام لانا ہے جس پر ہماری حکومت گذشتہ چار سالوں سے کام کر رہی ہے اور اس میں بے شمار مطلوبہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

مشتاق احمد غنی نے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے تمام اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے بلدیاتی نمائندوں کو ایک یونیفارم فارمولہ کے تحت مساوی فنڈز فراہم کر رہی ہے، چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں۔ مشتاق احمد غنی نے کہا کہ یہ ان کا دیرینہ خواب تھا کی اعلیٰ تعلیم پر زیادہ سے زیادہ توجہ مزکور کی جائے، ہم نے اپنے دور وزارت کے اندر پورے صوبہ میں بہت سارے کالج قائم کئے اور ہم نے کوشش کی کہ کالجوں کو ڈور سٹپ تک لے جائیں، ایبٹ آباد میں مختلف کالجوں کا قیام بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

ایبٹ آباد کالج آف ہوم اکنامکس صوبہ کا پہلا کالج ہے، اس کالج میں مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق طالبات کو تعلیم دی جاتی ہے، اس کالج کی گریجویٹ طالبات کی مارکیٹ میں بہت ضرورت ہے۔ مشتاق احمد غنی نے خطبہ استقبالیہ میں پیش کئے گئے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ بہت جلد اس کالج کی عمارت کیلئے زمین حاصل کر لی جائے گی جس کے بعد اس پر کالج کی ضروریات کے مطابق عمارت تعمیر ہو گی۔ آخر میں انہوں نے طالبات، اساتذہ اور دیگر سٹاف میں سرٹیفکیٹ اور شیلڈ تقسیم کیں۔

Your Thoughts and Comments