کے پی کے میں پولیو وائرس افغانستان سے منتقل ہونے کا خدشہ

محکمہ صحت کا لکی مروت اورملحقہ اضلاع میں جلد انسداد پولیو مہم چلانے کا فیصلہ

کے پی کے میں پولیو وائرس افغانستان سے منتقل ہونے کا خدشہ
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 ستمبر2017ء)خیبرپختونخوا میں رواں سال پولیو کا پہلاکیس سامنے آنے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے کہ وائرس کی منتقلی افغانستان سے ہوئی ہے۔ محکمہ صحت نے لکی مروت اورملحقہ اضلاع میں جلد انسداد پولیو مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

محکمہ صحت کی جانب سے چیف سیکرٹری کو بھیجے گئے مراسلہ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ وائلڈ پولیو وائرس کا ممکنہ منبع افغانستان ہوسکتا ہے جس سے لکی مروت کی 2سالہ بچی میں وائرس کی تصدیق کی گئی۔

افغانستان میں پولیو وائرس کی ترسیل جاری ہے جہاں سرحدی علاقوں میں بچے اب بھی پولیو سے بچائو کے قطروں سے محروم ہیں۔ان دنوں لوگوں کی بڑی تعداد افغانستان سے خیبر پختو نخوا کے جنوبی اضلاع سے ہوتے ہوئے سنٹرل پاکستان میں داخل ہورہی ہے۔اس صورتحال سے وائرس پھیل سکتا ہے تاہم وائرس کے منبع کے حوالے سے حتمی تصدیق لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد ہی ہوسکے گا۔

Your Thoughts and Comments