بند کریں
صحت صحت کی خبریںنیند کی کمی یا زیادتی،موٹاپے کا باعث بن سکتی ہیں، جدید تحقیق

صحت خبریں

وقت اشاعت: 08/03/2010 - 18:09:49 وقت اشاعت: 08/03/2010 - 10:35:40 وقت اشاعت: 07/03/2010 - 12:46:50 وقت اشاعت: 07/03/2010 - 12:45:27 وقت اشاعت: 03/03/2010 - 19:48:22 وقت اشاعت: 03/03/2010 - 19:41:40 وقت اشاعت: 03/03/2010 - 15:15:40 وقت اشاعت: 01/03/2010 - 21:20:32 وقت اشاعت: 01/03/2010 - 19:56:33 وقت اشاعت: 01/03/2010 - 16:39:01 وقت اشاعت: 26/02/2010 - 18:22:58

نیند کی کمی یا زیادتی،موٹاپے کا باعث بن سکتی ہیں، جدید تحقیق

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔3 مارچ۔ 2010ء) طبی ماہرین نے کہا ہے کہ جس طرح خوراک میں کمی یا زیادتی موٹاپے کا باعث بنتی ہے اس طرح نیند کی کمی یا زیادتی بھی وزن بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ امریکہ میں ہونے والی اس تحقیق میں 1500 کے قریب لوگوں کی نیند کا مشاہدہ کیا گیا جن کی عمریں 18 سے 81 سال کے درمیان تھیں۔ دوران مشاہدہ ان سے ان کی نیند کی عادت، خوراک ، ورزش اور طرز زندگی سے متعلق سوالات پوچھے گئے تھے۔

ماہرین نے اس دوران سی ٹی سکین کے ذریعے ان لوگوں کی کمر کی موٹائی کے بارے میں بھی پوچھا۔ 5 سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ جو لوگ 5 گھنٹے سے کم نیند کرتے تھے ان کو موٹاپے سے زیادہ واسطہ پڑا کیونکہ جاگتے ہوئے ان کو بھوک لگتی تھی اور وہ زیادہ کھانے کی وجہ سے موٹے ہوتے چلے گئے۔ کم از کم 8گھنٹے نیند کرنے والے لوگوں کا وزن ایک جگہ پر قائم رہا۔ اسی طرح بہت زیادہ سونے والے لوگوں میں بھی موٹاپے کے آثار دیکھے گئے۔ ماہرین نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ زیادہ نیند کی وجہ سے خوراک سے حاصل ہونے والی چربی زائل نہیں ہو پاتی جس سے موٹاپا لاحق ہو جاتا ہے۔
03/03/2010 - 19:41:40 :وقت اشاعت