موسم کی تبدیلی، بچوں کو فلو، نمونیا اور کھانسی جیسی موسمی بیماریوں کا سامنا

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 نومبر2017ء) موسم میں تبدیلی اورخنکی کے باعث شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے بالخصوص چھوٹے بچوں اور بزرگ افراد کو فلو، نمونیا، کھانسی اور بخار جیسی موسمی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بیماریوںکی وجہ سے کلینک اور ہسپتالوں میں رش بڑھ گیا ہے۔ اسکول جانے والے چھوٹے بچے سردی میں صبح سویرے اسکول جانے کے باعث بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جو والدین کیلئے پریشانی کا باعث ہے۔

جڑ واں شہروں راولپنڈی/اسلام آباد میں خشک سردی میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ خشک سردی سے بچنے کیلئے خصوصاً بچوں کو سردی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں اور اس کے لئے بچوں کو گرم کپڑوں میں ملبوس کرناضروری ہے۔

(جاری ہے)

ملک کے ممتاز ماہر اطفال ڈاکٹراویس نے کہا ہے کہ اکتوبر کے مہینہ سے ابتدائی طور پر موسم سرما کے اثرات شروع ہو چکے ہیں جبکہ اس عرصہ میں بچوں کیلئے خصوصی حفاظتی اقدامات پر عملدر آمد یقینی بنانا اشد ضروری ہے کیونکہ والدین کی ذرا سی بھی غفلت بچوں کیلئے بیماری اور ان کیلئے پریشانی کا موجب بن سکتی ہے۔

’’اے پی پی‘‘ سے بات چیت کے دوران انہوںنے کہا کہ چونکہ شروع ہوتی ہوئی سردی بظاہر بڑوں کو اس انداز سے محسوس نہیں ہوتی لیکن وہ بچوں کو بری طرح متاثر کرتی ہے لہٰذا اکتوبر میں بچوں کو مناسب گرم کپڑوں کا استعمال شروع کر ا دینا چاہیے اور بچوں کیلئے اے سی کا استعمال بند اور انہیں رات کے وقت کسی نرم کپڑے سے لحاف کے طور پر ڈھانپ کر سلانا چاہیے ۔

انہوںنے کہا کہ آئس کریم ، کولڈ ڈرنکس ، ٹھنڈے دودھ ، مشروبات ، تلی ہوئی اور کھٹی اشیاء بچوں کیلئے موسم سرما کے آغاز میں انتہائی نقصان دہ ہیں جو بچوں کو فوری متاثر کرتی ہیں اور بچے نزلہ ، زکام ، کھانسی، بخار کے مرض میںمبتلا ہوسکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جونہی بچوں میں نزلہ یا بخار کی علامات ظاہر ہوں انہیں گھریلو ٹو ٹکوں کی بجائے فوری طور پر چائلڈ سپیشلسٹ کو دکھایا جائے اور بچے کی عمر کے مطابق تفویض کردہ نسخے پر عمل کیا جائے تاکہ کسی قسم کی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

Your Thoughts and Comments