بند کریں
صحت صحت کی خبریںسیکس دل بند ہونے کا باعث نہیں بنتا،نئی امریکی تحقیق
دل اس وقت بند ہو جاتا ہے جب اس میں خرابی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 14/11/2017 - 22:53:02 وقت اشاعت: 14/11/2017 - 15:21:48 وقت اشاعت: 14/11/2017 - 15:04:54 وقت اشاعت: 14/11/2017 - 13:41:42 وقت اشاعت: 14/11/2017 - 12:01:23 وقت اشاعت: 14/11/2017 - 12:01:18 وقت اشاعت: 13/11/2017 - 23:18:38 وقت اشاعت: 13/11/2017 - 16:51:11 وقت اشاعت: 13/11/2017 - 16:20:15 وقت اشاعت: 13/11/2017 - 14:45:33 وقت اشاعت: 13/11/2017 - 14:19:04

سیکس دل بند ہونے کا باعث نہیں بنتا،نئی امریکی تحقیق

دل اس وقت بند ہو جاتا ہے جب اس میں خرابی آ جاتی ہے اور وہ اچانک دھڑکنا یا اپنا کام کرنا بند کر دیتا ہے،رپورٹ

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2017ء)امریکہ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ سیکس کی وجہ سے خواتین کے مقابلے میں مردوں میں اچانک دل بند ہونے کا معاملہ زیادہ پیش آتا ہے۔البتہ سیکس کی وجہ سے دل بند ہونے کے واقعات پیش نہیں آتے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ابھی تک جن 4557 دل بند ہونے کے واقعات کی جانچ ہوئی ہے ان میں سے صرف 34 واقعات سیکس کے دوران یا اس کے ایک گھنٹے کے اندر رونما ہوئے ہیں اور ان کے متاثرین میں 32 مرد شامل ہیں۔

امریکہ کے سیڈار سائنائی ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے سومیت چٴْگھ کا کہناتھا کہ ان کی تحقیق میں پہلی بار سیکس کو دل بند ہونے کے مؤثر محرک کے طور پر دیکھا اور جانچا گیا ہے۔یہ تحقیق امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے ایک اجلاس میں پیش کی گئی ہے۔دل اس وقت بند ہو جاتا ہے جب اس میں خرابی آ جاتی ہے اور وہ اچانک دھڑکنا یا اپنا کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے مریض بیہوش ہو جاتا ہے اور سانس لینا بند کر دیتا ہے اور اگر سی پی آر سے جلدی علاج نہیں کیا گیا تو یہ مہلک ہو سکتا ہے۔

سی پی آر طبی ایمرجنسی ہے، جس میں منھ میں پھونک مارنا اور سینے کو بار بار زور سے دبانا شامل ہے۔ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چھ سال کا بچہ بھی سی پی آر سیکھ سکتا ہیہسپتال کے باہر دل بند ہونے کے معاملے میں 90 فیصد افراد کی موت ہو جاتی ہے،سی پی آر کی کمی یا پھر دل کے پٹھوں کے معمول پر نہیں آنے کی صورت میں ہر ایک منٹ بعد زندہ رہنے کی امید دس فیصد کم ہوتی جاتی ہے،ڈاکٹر چٴْگھ اور کیلیفورنیا کے ان کے ساتھیوں نے امریکہ کی اوریگن ریاست کے شہر پورٹ لینڈ میں سنہ 2002 سے 2015 کے درمیان ہونے والے دل رکنے کے معاملوں کا مطالعہ کیا۔

سیکس کا عمل ایک فیصد سے کم معاملوں میں نظر آیا۔ ان کی زد میں آنے والوں کی بڑی اکثریت افریقی امریکی نسل کے درمیانی عمر کے مردوں کی تھی جن کو دل کا عارضہ رہا تھا۔اس مطالعے میں یہ بھی پایا گیا کہ صرف ایک تہائی معاملوں میں سی پی آر کا استعمال ہو پایا، حالانکہ یہ معاملہ ان کے پارٹنر کے سامنے پیش آیا۔ڈاکٹر چٴْگھ نے کہاکہ یہ دریافت سی پی آر کے بارے میں لوگوں میں آگہی پیدا کرنے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے کہ دل رکنے کے معاملے میں کوئی بھی کسی بھی حالات میں ان کا استعمال کر سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کو سی پی آر دینے کے طریقے کے بارے میں بتایا جائے۔ایک دوسرے مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ اسے چھ سال کا بچہ بھی سیکھ سکتا ہے۔ برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا تھا کہ دل کا دورہ پڑنے یا دل کی سرجری کے بعد مریض کو سیکس سے چار سے چھ ہفتے تک پرہیز کرنا چاہیے۔
14/11/2017 - 12:01:18 :وقت اشاعت