بند کریں
صحت صحت کی خبریں32کھرب 59ارب کا نیا وفاقی بجٹ پیش، 685ارب کا خسارہ،27کھرب64ارب کے مجموعی اخراجات اور25کھرب97ارب ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 07/06/2010 - 18:18:03 وقت اشاعت: 06/06/2010 - 20:45:53 وقت اشاعت: 06/06/2010 - 18:09:18 وقت اشاعت: 06/06/2010 - 16:39:06 وقت اشاعت: 05/06/2010 - 23:52:03 وقت اشاعت: 05/06/2010 - 22:29:19 وقت اشاعت: 05/06/2010 - 21:46:00 وقت اشاعت: 04/06/2010 - 12:09:41 وقت اشاعت: 03/06/2010 - 13:20:04 وقت اشاعت: 03/06/2010 - 13:18:33 وقت اشاعت: 03/06/2010 - 13:13:53

32کھرب 59ارب کا نیا وفاقی بجٹ پیش، 685ارب کا خسارہ،27کھرب64ارب کے مجموعی اخراجات اور25کھرب97ارب کی مجموعی آمدنی کا تخمینہ لگایا گیا، دفاع کیلئے 4 کھر ب 42ارب روپے مختص، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50فیصدجبکہ پنشنوں میں 15فیصد اضافہ، جی ایس ٹی کی شرح یکم اکتوبر تک ایک فیصدبڑھادی گئی، سگریٹ کی تیاری پر ایک روپے ٹیکس جبکہ ایئرکنڈیشنر، ریفریجریٹرز اور ڈی فیریز پر 10فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ، اندرون ملک فضائی ٹکٹ پر بھی 5فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لگادیاگیا ، یوٹیلیٹی سٹورز میں گھی، آٹے اور دالوں کی فراہمی پر سبسڈی ختم، تعلیم کیلئے 34ارب 50کروڑ جبکہ صحت کیلئے سات ارب28کروڑ رکھ دیے گئے ، صوبوں کو تین کھرب78ارب زیادہ ملیں گے، پی ایس ڈی پی کا مجموعی حجم663ارب روپے ہو گا،بجٹ کا اعلان وزیرخزانہ حفیظ شیخ نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کیا

اسلام آباد (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔5جون۔2010ء) وفاقی وزیر خزانہ و اقتصادی امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے32کھرب 59ارب روپے کا نئے مالی سال2010-11 کا وفاقی بجٹ پیش کردیا، 685ارب کا خسارہ،27کھرب64ارب کے مجموعی اخراجات اور25کھرب97ارب کی مجموعی آمدنی کا تخمینہ لگایا گیا، دفاع کیلئے 4 کھر ب 42ارب روپے مختص، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50فیصدجبکہ پنشنوں میں 15فیصد اضافہ، جی ایس ٹی کی شرح یکم اکتوبر تک ایک فیصدبڑھادی گئی، سگریٹ کی تیاری پر ایک روپے ٹیکس جبکہ ایئرکنڈیشنر، ریفریجریٹرز اور ڈی فیریز پر 10فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ، اندرون ملک فضائی ٹکٹ پر بھی 5فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لگادیاگیا، یوٹیلیٹی سٹورز میں گھی، آٹے اور دالوں کی فراہمی پر سبسڈی ختم، تعلیم کیلئے 34ارب 50کروڑ جبکہ صحت کیلئے سات ارب28کروڑ رکھ دیے گئے، صوبوں کو تین کھرب78ارب زیادہ ملیں گے، پی ایس ڈی پی کا مجموعی حجم663ارب روپے ہو گا ۔

ہفتے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ صوبوں سمیت بجٹ کے مجموعی حجم کا تخمینہ 3259 ارب روپے ہے جو رواں مالی سال کے حجم سے 10.7 فیصد زیادہ ہے۔ مجموعی محصولات کا تخمینہ 2574 ارب روپے ہے۔ اس طرح بجٹ کا خسارہ 685 ارب روپے ہے جو GDP کے 4فیصد کے برابر ہے۔ مجموعی وفاقی محصولات(Tax & Non Tax) کا تخمینہ 2411 ارب روپے ہے۔

ایف بی آر کی طرف سے وصولی کا تخمینہ 1667 ارب روپے ہے جو ٹیکس ٹو GDP کی شرح کے حساب سے 9.8 فیصد ہے۔صوبوں کو ساتویں NFC ایوارڈ کے تحت 1033 ارب روپے منتقل کیے جائیں گے ۔ اس کے مقابلے میں رواں مالی سال کے دوران صوبوں کو 655 ارب روپے کی منتقلی کی گئی۔ نئے وفاقی بجٹ کا مجوزہ حجم 2229 ارب روپے ہے جو GDP کے 13.1 فیصد کے برابر ہے۔کفایت شعاری کے اقدام کے طور پر نئے بجٹ میں تنخواہوں کے علاوہ اخراجات جاریہ میں کٹوتی کی جائے گی اور ان کو 2009-10 کی سطح پر منجمد کر دیا جائے گا۔

مالی سال 2010-11 کے لیے پی ایس ڈی پی کا حجم 663 ارب روپے ہے جس میں 280 ارب روپے کا وفاق کا حصہ بھی شامل ہے اس کے علاوہ 10 ارب روپے ایراء کے لیے بھی رکھے گئے ہیں۔ ہم نے پی ایس ڈی پی کا حجم حقیقت پسندانہ سطح پر رکھا ہے اس سے منصوبوں پر عملدرآمد کرنے والے اداروں کو بروقت اور توقع کے مطابق اور خودکار انداز میں فنڈز کی فراہمی میں سہولت ہو گی۔ ہم نے دستیاب وسائل کی فراہمی کیلئے جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی اور ٹرانسپورٹ، بجلی اور سماجی شعبے میں 216 منصوبے مکمل کیے ۔

ان میں شامل اہم منصوبے مانسہرہ - ناران-جل کھڈ روڈ،106 کلومیٹر طویل نوتل-سبی ڈھاڈر روڈ،124 کلومیٹر طویل ڈی آئی خان-زم ٹاور-مغل کوٹ روڈ،پاکستان ریلوے کیلئے 69 DE انجنوں کی خریداری،لودھراں خانیوال ریلوے ٹریک کو دو رویہ کرنا،72 میگا واٹ پیداواری صلاحیت کا حامل خان خوڑ پن بجلی کا منصوبہ جو رواں ماہ کے دوران پیداوار شروع کر دے گا،رائٹ بنک آؤٹ فال ڈرینجIIIمنصوبہ،HEC کے مکمل کردہ 86 منصوبے اور وزارتِ صحت کی طرف سے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے تحت ورکرز کی تعداد 90 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ چار ہزار کرنا ہیں چند منصوبے جو پایہ تکمیل تک پہنچیں گے ان میں 300 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا چشمہ ایٹمی بجلی گھر،1600 تا 1800 کلومیٹر شاہراؤں کی تعمیر،خوشاب تک 200 کلومیٹر طویل گوادر رتو ڈیرو روڈ،166 کلومیٹر طویل رحیم یار خان-بہاولپور ایڈیشنل کیرج وے،گومل زم ڈیم،ست پارہ ڈیم،منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں 3 ملین ایکڑ فٹ کا اضافہ،کراچی میں وافر پانی فراہمی کرنے کا منصوبہ،چاغی واٹر مینجمنٹ اینڈ ایگریکلچرل ڈویلپمنٹاور تربت میں لڑکیوں کے لیے پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ شامل ہے ۔

نئے مالی سال 2010-11 کیلئے ٹیکس تجاویز پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کسی بھی پراڈکٹ پر کسٹمز ڈیوٹی میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔مصنوعات کی 29 اقسام پر کسٹمز ڈیوٹی کو کم کیا اور سادہ بنایا جائے گا۔بناسپتی گھی اور تیل کی قیمتوں میں کمی کیلئے خام پام آئل کی درآمد پر ڈیوٹی 9 ہزار روپے فی میٹرک ٹن سے کم کر کے 8 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔ مریضوں کو مزید ریلیف دینے کے لیے خام مال اور ادویات کی مزید 6 اقسام کی درآمد پر رعایت کی تجویز ہے۔

علاوہ ازیں ایکس رے فلم کی درآمد کو بھی کسٹمز ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دینے کی بھی تجویز ہے۔توانائی کے بحران پر قابو پانے اور قابل تجدید توانائی کے وسائل کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے اس شعبہ میں استعمال ہونے والی 4 ضروری اشیاء کی 5 فیصد رعایتی درآمدی ڈیوٹی کے ساتھ درآمد کرنے کی اجازت دینے کی تجویز ہے۔ حکومت نے انرجی سیونگ لیمپس کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے رکھی ہے۔

یہ لیمپ تیار کرنے والے مقامی صنعتکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان لیمپس کی تیاری میں استعمال ہونے والی مزید 5 اشیاء کو بھی کسٹمز ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز ہے۔صابن اور ڈیٹرجنٹ کی پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے ان کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مواد، کوکونٹ ایسڈ آئل ، اور سوڈیم سلفیٹ پر ڈیوٹی کی شرح 15فیصد سے کم کر کے 10فیصد کرنے کی تجویز ہے جبکہ چاول کی برآمد اور ویلیو ایڈیشن کی حوصلہ افزائی کیلئے چاول کی پروسیسنگ مشینوں کو کسٹمز ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز ہے۔

سماجی اداروں کو سڑکیں صاف کرنے والی گاڑیاں5 فیصد کی رعایتی ڈیوٹی کے ساتھ درآمد کرنے کی اجازت دینے کی بھی تجویز ہے۔سیلزٹیکس کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان جنرل سیلز ٹیکس کے موجودہ نظام میں اصلاحات کا عزم رکھتی ہے۔ موجودہ GST انحطاط کا شکار ہو کر ایک غیر شفاف ٹیکس بن چکا ہے۔ مراعات یافتہ اور مفاد پرست گروپوں کے لیے اس کی شرح مختلف ہے ۔

بعض لوگوں کو اس ٹیکس سے چھوٹ بھی حاصل ہے اور بعض کو Zero rated سہولت حاصل ہے۔جی ایس ٹی میں جو اصلاحات کی جائیں گی ان کے مطابق ٹیکس کی مختلف شرح کا خاتمہ اور 15 فیصد کی نسبتاً کم اور واحد شرح کا اطلاقکیاجائے گا صحت، تعلیم اور غذائی اشیاء GST سے مستثنیٰ ہوں گی جس سے زیادہ تر غریب لوگ مستفید ہوں گے۔جی ایس ٹی کا اطلاق 75 لاکھ روپے سالانہ سے کم ٹرن اوور پر نہیں ہو گا جبکہ اس وقت یہ حد 50 لاکھ روپے سالانہ ہے۔

یہ خودکار نظام پر مبنی ہو گا جس سے بدعنوانی اور Refund میں تاخیر کے امکانات کم ہو جائیں گے۔اس سے Tax Base میں اضافہ ہو گاجس کے نتیجہ میں ٹیکس کا نظام زیادہ مساویانہ ہو جائے گا۔ہمیں توقع ہے کہGST میں یہ مجوزہ اصلاحات تمام صوبوں اور دیگر متعلقہ فریقین کی مشاورت سے یکم اکتوبر 2010 تک لاگو ہو جائیں گی۔اس عرصے کے دوران عبوری اقدام کے طور پر GST کی شرح میں ایک فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔

ایک بار جب GST میں اصلاحات نافذ ہو جائیں گی تو 15 فیصد کی مجوزہ واحد اور کم شرح موثر ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ GST میں اصلاحات کے حوالہ سے ریلیف کا ایک اقدام بیشتر درآمدی اشیاء اور مقامی مینوفیکچررز پر عائد ایک فیصدسپیشل ایکسائز ڈیوٹی ختم ہو جائے گی۔فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ تمام اقسام کے سیگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز ہے۔

یہ بھی تجویز ہے کہ فی فلٹر سگریٹ پر ایک روپیہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے جو رجسٹرڈمینوفیکچررزکے ذریعے ایڈجسٹ ایبل ہو گی ساتویں NFC ایوارڈ کے تحت طے شدہ اقدام کی تکمیل کیلئے قدرتی گیس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھا کر 10 روپے فی MMBTU کرنے کی تجویز ہے علاوہ ازیں بہت زیادہ بجلی استعمال کرنے والے برقی آلات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کیلئے ایئر کنڈیشنرز اور ڈیپ فریزرز پر 10 فیصد کی شرح سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہاکہ آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس میں ریلیف دینے کیلئے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن کے مطابق تنخواہ دار طبقے کی قابل ٹیکس آمدنی کی کم سے کم حد کو 2لاکھ سے بڑھا کر 3 لاکھ روپے سالانہ کیا جائے گا اس اقدام سے تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار ٹیکس دہندگان کو ریلیف ملے گا۔نا ن سیلری انکم کیلئے ٹیکس کی چھوٹ کی حد 1 لاکھ سے بڑھا کر 3 لاکھ کرنے کی تجویز ہے۔

اس اقدام سے تقریباً ساڑھے 3 لاکھ ٹیکس دہندگان کو ریلیف دیا گیا ہے۔صنعتی اور تجارتی صارفین سے بجلی کے ماہانہ بلوں کے ساتھ وصول کیا جانے والے انکم ٹیکس کی شرح کو 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کے تجویز ہے۔ اس اقدام سے 66ہزار ٹیکس دہندگان کو ساڑھے چار ارب روپے کا ریلیف ملے گا۔خیبر پختونخواہ، فاٹا اور پاٹا کے لیے وزیرِاعظم کے فسکل ریلیف پیکج کے تحت ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے 3لاکھ ٹیکس دہندگان کو 2 ارب روپے کا اضافی ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے۔

ودہولڈنگ ٹیکس کی ماہانہ سٹیٹمنٹس کے بجائے اب صرف سہ ماہی ای فائلنگ سٹیٹمنٹس درکار ہوں گی۔آجر کی طرف سے فراہم کیے جانے والے بلاسود یا رعایتی قرضوں پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹیکس دہندگان کی مزید سہولت اور غیرملکی سرمایہ کاری میں مراعات دینے کی غرض سے براہ راست ٹیکسوں میں بہتری کیلئے بھی متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن کے مطابق غیر مقامی افراد کو غیر متعین ادائیگیوں پر حتمی ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح30 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنا،غیر مقامی افراد کو قرضوں پر منافع کی ٹیکس فری ادائیگی کی اجازت،تمام کمپنیوں کی Balancing ، Modernization اور Replacement کے لیے 10 فیصد ٹیکس کریڈٹ اور کسی بھی کمپنی کے اندراج کے سال کے دوران 5 فیصد ٹیکس کریڈٹ کی اجازت کی تجویز شامل ہے۔

ٹیکس ڈھانچے میں بہتری کیلئے کچھ مجوزہ ٹیکس اقدامات کے مطابق Association of Persons پر انکم ٹیکس کی موجودہ 20 فیصد شرح کو بڑھا کر 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔6 ماہ سے کم مدت کے Stocks یا حصص قلیل مدتی مالیاتی منافع پر 10 فیصد کی شرح سے جبکہ 6 ماہ سے زائد اور ایک سال سے کم مدت پر 7.5 فیصد کی شرح سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ایک سال سے زیادہ مدت کے حصص یا Stocks پر Capital Gains Tax لاگو نہیں ہو گا۔

تجارتی درآمد کنندگان پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 4 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔Banking Transactions بشمول Demand Draft، Pay Order، RTCs ، CDRs ، وغیرہ کے ذریعہ رقوم کی منتقلی بشرطیکہ وہ ایک دن میں 25 ہزار روپے سے زیادہ ہوں پر 0.3 فیصد کی شرح سے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔خسارے میں جانے والی کمپنیوں اور Association of Persons پر Turn over Tax کی شرح 0.5 فیصد سے بڑھا کر ایک فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

اندرون ملک فضائی سفر پر ٹکٹ کی مجموعی قیمت پر 5 فیصد کی شرح سے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کرنے کی تجویزہے۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں پے اینڈپنشن کمیشن کی منظور کردہ سفارشات پر 3 سال کی مدت میں عملدرآمد کیا جائے گا اس سلسلہ میں یکم جولائی 2010 سے نافذ ہونے والے فیصلوں کے مطابق وفاقی ملازمین کو ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ کے 25 فیصد کے برابر ایڈہاک الاؤنس دیا جائے گا۔

اس سے وہ وفاقی ملازمین مستفید نہیں ہو سکیں گے جو پہلے ہی ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ کے برابر ماہانہ الاؤنس لے رہے ہیں۔گریڈ 1 تا 15 کے ملازمین کا میڈیکل الاؤنس دوگنا کر دیا جائے گا جبکہ گریڈ 16 تا22 کے ملازمین کو ماہانہ بنیادی تنخواہ کے 15% کے برابر میڈیکل الاؤنس کی اجازت ہوگی۔2001 کے بعد ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اور 2001 سے پہلے ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پنشن میں 20 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

گریڈ 1 تا 15 میں ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو پنشن کے 25 فیصد اور گریڈ 16 تا22 میں ریٹائر ہونے والے ملازمین کے لیے پنشن کے 20 فیصد میڈیکل الاؤنس کی اجازت ہو گی۔کم از کم ماہانہ پنشن2 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 ہزار روپے کر دی جائے گی۔Family Pension کی شرح 50 فیصد سے بڑھاکر 75 فیصد کی جائے گی۔ گریڈ 1تا 16 کے ملازمین کے متعدد الاؤنسز بشمول نائٹ ڈیوٹی الاؤنس، رات دیر تک ڈیوٹی کرنے والے ملازمین کے کنوینس الاؤنس، ڈیلی الاؤنس اور Special Pay میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ یہ موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے عوام ایسی حکومت چاہتے ہیں جو مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور روشن مستقبل کی طرف اُن کی رہنمائی کرے موجودہ پارلیمنٹ کی نمایاں کارکردگی 1973ء کے آئین کو اصل شکل میں بحال کرنا ہے اور صدر آصف علی زرداری کی قائدانہ صلاحیتوں کے باعث ہی 18ویں ترمیم کی منظوری عمل میں آئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم ایک غیرمعمولی دور سے گذر رہے ہیں گذشتہ 2سال کے دوران دنیا کو دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بدترین اقتصادی بحران کا سامنا رہاہے۔

امریکہ میں قرضوں کے بحران کے بعد عالمی معیشت تیزی سے سکڑ گئی۔ ہم نے بڑے بڑے بُرج الٹتے دیکھے۔ اس عالمی طوفان نے کئی ممالک کی معیشتوں کو تباہ کیا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ دنیا کا کوئی بھی خطہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا۔ پاکستان کی معیشت بھی عالمی اقتصادی بحران، پڑوس میں سلامتی کی صورتحال اور پالیسیوں میں کمزوریوں کے باعث متاثر ہوئی ہے۔

ہماری مالیاتی صورتحال اور ادائیگیوں کے توازن میں کمزوریاں عیاں ہو گئیں۔ افراطِ زر کی شرح 25 فیصد تک پہنچ گئی جو گذشتہ 3 عشروں میں سب سے زیادہ تھی۔ اقتصادی شرح نمو بھی کم ہو کر 1.2 فیصد رہ گئی جبکہ زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا اور شرح تبادلہ کم ہو گئی۔اس اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کو مشکل بلکہ غیر مقبول فیصلے کرنا پڑے اُن اشیاء کی قیمتوں میں رد و بدل جن کی قیمتیں عالمی سطح پر بڑھ گئیں تھیں، اخراجات میں بھاری کٹوتی اور سخت مالیاتی پالیسی پر عملدرآمد ان فیصلوں کی چند ایک مثالیں ہیں۔

دیوالیہ پن سے بچنے اور ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینے کے لیے حکومت کو آئی ایم ایف سے مدد حاصل کرنا پڑی۔ لیکن اس سارے عمل میں معاشرے کے کمزور اور غریب طبقہ کو فراموش نہیں کیا گیا۔ اس کی ایک مثال بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کرنا ہے جس کے ذریعے 35 لاکھ گھرانوں کو ماہانہ ایک ہزار روپے کی امداد دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ معیشت کی بحالی کا آغاز ہو چکا ہے اور افراطِ زر کی شرح کو کافی حد تک اعتدال پر لایا جا چکا ہے لیکن ابھی اس کو مزید کم کرنے کی ضرورت ہے۔

جی ڈی پی میں گروتھ شروع ہو چکی ہے اور ختم ہونے والے مالی سال کے دوران اس کی شرح 4.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16 ارب ڈالر ہو چکے ہیں۔ ترسیلات تیزی بھی 8.5 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں تاہم محصولات کی بہتر وصولی ، سرکاری کارپوریشنوں میں اصلاحات اور توانائی کی شدید قلت سے نمٹنے کے شعبوں میں ہم مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے تھے۔

روزگار کے وافر مواقع بھی پیدا نہیں کئے گئے تاہم موجودہ بجٹ ماضی کے مقابلہ میں کئی لحاظ سے مختلف ہے۔ اس کی پانچ امتیازی خصوصیت یہ ہیں کہ اس کی تیاری کی بنیاد شفافیت پر رکھی گئی،ہم نے عوام پر یقین اور دیانتدارانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے بجٹ کو حقیقت پسندانہ رکھا ، صوبوں کی شراکت، تعاون اور اُن کے کردار کو وسعت دی ،بین الاقوامی معاہدوں کے فریم ورک کے اندر کام کیا اور سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر یہ بجٹ تیارکیا۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں ہر حال میں اپنی معیشت کی بحالی کو تحفظ دینا ہے جو اب تک غیر مستحکم ہے۔ معیشت کے لڑکھڑانے کے خطرات اب بھی بہت زیادہ ہیں، بین الاقوامی صورتحال بھی غیرمستحکم ہے اور سیکیورٹی خدشات کا خاتمہ بھی نہیں ہوا۔ بجٹ کا خسارہ بدستور زیادہ ہے اور ہم بدستور بیرونی امداد پر انحصار کیے ہوئے ہیں۔ ہم مالیاتی کفایت شعاری کو نہ صرف جاری رکھیں گے بلکہ اس میں اضافہ کریں گے، وسائل کے ضیاع کو ختم کیا جائے گا، اخراجات پر سختی سے کنٹرول اور معیشت کی بحالی میں استحکام کیلئے مختلف پالیسی اقدامات پر محتاط انداز میں عملدرآمد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ ہماری دوسری منزل افراطِ زر میں اضافے کو لازماً روکنا ہے افراطِ زر کی بلند شرح خاص طور سے غریب طبقے کیلئے تباہ کن ہے۔ ہماری طرف سے بہترین ر یلیف پیکیج یہ ہو گا کہ ہم افراطِ زر میں کمی کے لیے جو کچھ ہو سکتا ہے وہ کریں۔ ہمارا ہدف محصولات کے نظام میں بہتری اور حکومتی وسائل میں اضافہ کرتے ہوئے خودانحصاری کا حصول ہے اس طرح ہم قرضوں پر انحصار کم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

گذشتہ 4 برسوں کے دوران بے دریغ قرضے لینے کے باعث ہمارے قرضوں کی سطح GDP کے55 فیصد تک پہنچ گئی ہے جومالیاتی ذمہ داری ایکٹ کے تحت مقررہ حد کو چھو رہی ہے۔ اگر ہم نے اپنے اخراجات کنٹرول اوروسائل میں اضافہ نہ کیا تو خطرہ ہے کہ ہم مستقل طور پر قرضوں کے بوجھ تلے دبے رہیں گے بھاری مالیاتی خساروں نے ہمارے ترقیاتی بجٹ کوبھی محدود کر دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے دیگر اہداف میں سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دینا ،اس میں اصلاحات اور قومی خزانے پر سرکاری کارپوریشنوں کا بوجھ کم کرنا ہے۔

یہ کٹھن اقدام کئے بغیر ہم کبھی بھی مالیاتی صورت حال کو پائیدار نہیں بنا سکتے۔ سخت بدانتظامی کا شکار چند سرکاری کارپوریشنوں نے اقتصادی صورتحال کو کنٹرول کرنے کی تمام کوششوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان اداروں کی ناکامی کی وجہ سے ہماری معیشت کے ہر شعبے کی پیداواریت اور کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ہمارے باقی دو اہداف روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور ملک میں سرمایہ کاری کیلئے فضاء کو سازگار بنانا ہیں توانائی اورفوڈسکیورٹی کے شعبوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی اور PSDP کے ساتھ ساتھ کیری لوگربل، ورلڈ بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک اور امداد کے دیگر دوطرفہ پروگراموں میں ان کیلئے زیادہ رقوم مختص کی جائیں گی۔

انہوں نے کہاکہ توانائی کی قلت نے گھروں میں تاریکی، فیکٹریوں اور دکانوں میں کاروبار کی معطلی اور اقتصادی سرگرمیوں کی سست روی کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی زندگی کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔ حکومت توانائی کے بحران کے باعث عوام کو درپیش مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ یہ بحران ماضی میں ناقص پالیسیوں اور پانی، کوئلے اور قدرتی گیس جیسے توانائی کے مقامی وسائل کو ترقی نہ دینے کا نتیجہ ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سرکاری شعبے کی ناقص کارکردگی نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ہم نے توانائی کی قلت پر قابو پانے کے فوری اقدامات کیلئے مشاورت پر مبنی طریقہ کار وضع کیا جس سے ہمیں کچھ کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ بجلی کی بچت کی منصوبہ بندی کے لیے ایک توانائی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور نجی شعبہ کے متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔

اس اجلاس کے دوران طے پانے والے انٹرکارپوریٹ سرکلرقرضے کے بنیادی معاملے سمیت متفقہ اقدامات کے نتیجے میں لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوئی اور تقریباً ایک ہزار میگاواٹ بجلی کی بچت ہوئی جس سے گھریلو صارفین کو کچھ ریلیف ملا اورکچھ اضافی بجلی صنعتوں کو فراہم کی گئی۔نئے بجٹ میں بجلی کی ترسیل بڑھانے اور بچت کے اقدامات شامل ہیں۔بجلی کی بچت اور فراہمی میں بہتری کیلئے جو اقدامات تجویزکیے گئے ہیں ان کے مطابق بجلی گھروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اُن کو قدرتی گیس کی فراہمی،بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے انفراسٹرکچر کی بحالی اور صارفین کو 3 کروڑ انرجی سیورزکی مفت فراہمی شامل ہے ۔

ہم نے بجلی کی فراہمی میں بہتری لانے کیلئے وسط مدتی اور طویل مدتی اقدامات بھی تجویز کیے ہیں جن کے تحت ہم پن بجلی ، کوئلہ اور قابل تجدید ذرائع سے قابل برداشت نرخوں پر بجلی پیدا کرنے کے حامل ہو سکیں گے ۔انہوں نے کہاکہ بجلی کی پیداوار میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو تحفظ دینے کیلئے ایشیائی ترقیاتی بنک کے ساتھ مشاورت سے ایک انرجی ڈیولپمنٹ فنڈقائم کیا جا رہا ہے۔

توقع ہے کہ مجوزہ فنڈ20 ارب روپے کے بنیادی سرمائے سے کام شروع کرے گا۔ہم نے گیس کی فراہمی بڑھانے کیلئے بھی اقدامات کیے ہیں اور بالآخر 17 سال کی کوششوں کے بعد ایران پاکستان پائپ لائن منصوبہ پر دستخط ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت ایل این جی کی شفاف طریقہ سے درآمد کا بھی تہیہ کیے ہوئے ہے۔ہمیں توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات لانی ہوں گی ہم اس سال یہ قدم اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مالی سال 2010-11 ء میں پانی ،کوئلے اور جوہری ایندھن سے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کیلئے 131 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں تاکہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ اور ترسیل میں بہتری آئے۔غذائی تحفظ حکومت کا ایک اور اہم ہدف ہو گا۔ اس سلسلہ میں ہم پیداواریت میں تیز رفتاری سے اضافے پر زور دیں گے ملک بھر کے 13 ہزار دیہات سے تعلق رکھنے والے چھوٹے کاشتکاروں کیلئے فوڈسکیورٹی اور پیداوار میں اضافے کے خصوصی پروگرام جس کا آغاز تمام صوبوں کے 1012 دیہات میں کیا گیا ہے، کی رفتار میں تیزی لائی جائے گی ہم اپنے آبی وسائل کے بہتر استعمال کا عزم بھی رکھتے ہیں۔

اس سلسلہ میں متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔ منگلا ڈیم ریزنگ، گومل زم ڈیم اور ست پارہ ڈیم نئے مالی سال 2010-11 کے دوران مکمل ہو جائیں گے جن سے پانی کی فراہمی میں اضافہ ہو گا۔دیامیر بھاشا ڈیم کو ایک میگا پراجیکٹ کے طور پر شروع کیا جائے گاجس سے 4500 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی اور 6450 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہو گا۔ حکومت نے اس منصوبے سے بے گھر ہونیوالے افراد کی آبادکاری کا مسئلہ حل کر لیا ہے جس کی وجہ سے ہم اس منصوبے کو تیزی سے مکمل کر سکیں گے۔

انہوں نے کہاکہ ترقیاتی بجٹ 2010-11 میں پانی، خوراک و زراعت، لائیواسٹاک اور ڈیری ڈیولپمنٹ کے شعبوں کیلئے مجموعی طور پر 40 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔سرکاری کارپوریشنوں کی اصلاح ہمارے بجٹ اہداف کا اہم حصہ ہے۔ سرکاری کارپوریشنوں کی کارکردگی غیر متاثر کن اور ان کی مینجمنٹ انتہائی ناقص ہے جو بے پناہ خسارے کاباعث بنی ہوئی ہے۔ اس خسارے کا بوجھ بالاآخر معیشت اور بجٹ پر پڑتا ہے۔

صرف بجلی کے شعبے سے متعلق اداروں کا مالی سال 2009-10 کے دوران قومی خزانے پر بوجھ 180 ارب روپے ہو گا جبکہ ریلوے،پی آئی اے ،ٹی سی پی ،پاسکو، سٹیل ملز،این ایچ اے اور یوٹیلٹی سٹورز مزید 65 ارب روپے کے بوجھ کا باعث بنیں گے 245 ارب روپے کا یہ بھاری خسارہ بجٹ کے سارے عمل کو عدم استحکام سے دوچار کر دیتا ہے اور ہم اپنی حد سے بڑھ کر قرضے لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اس کے نتیجہ میں ہم مسلسل بیرونی امداد کے خواہاں رہتے ہیں۔ یہ صورتحال ہمارے بجٹ سازی کے عمل اور اخراجات کے کنٹرول کو ناقابل انتظام بنا دیتی ہے۔ اس کی وجہ سے ترقیاتی اخراجات کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ آنیوالے سال میں اس مسئلے سے ہم ہنگامی بنیادوں پر نمٹیں۔مالی سال 2010-11 میں 8 بڑی سرکاری کارپوریشنوں کی تنظیم نو کا عمل بھرپور انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

اس سلسلے میں کابینہ سے منظور شدہ ان کارپوریشنوں کی تنظیم نو کے پروگرام کو ایک ٹائم فریم میں مکمل کیا جائے گا۔ہمیں ان سرکاری اداروں کولازماً مالی طور پر مستحکم بنانا ہے۔حکومت کے سماجی تحفظ کے پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں سبسڈی کا موجودہ نظام امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں کرتا اور اس مد میں خرچ کی جانے والی رقوم کا بڑا حصہ معاشرے کے ایسے خوشحال طبقوں کے پاس چلا جاتا ہے جن کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سرکاری سبسڈیاں صرف غریبوں کو ملیں۔حکومت کو غریبوں کی ضروریات کا انتہائی شدت سے احساس ہے۔ پہلی مرتبہ ہم نے سبسڈی کا ایک ایسا پروگرام ”بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام“ تیار کیا جو صرف غریبوں کے لیے ہے۔ یہ پروگرام انتہائی غریب طبقہ کو نقد امداد کے لیے حکومت کا سب سے بڑا پروگرام رہے گا۔ ختم ہونے والے مالی سال کے دوران اس پروگرام کے تحت 46 ارب روپے غریبوں میں تقسیم کئے گئے جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران اس پروگرام کا حجم بڑھا کر 50 ارب روپے کیا جائے گا جس سے 40 لاکھ خاندان مستفید ہوں گے۔

حکومت غریب طبقے کے فائدے کیلئے نئی سکیمیں شروع کرے گی اس سلسلہ میں ہیلتھ انشورنس سکیم(وسیلہٴ صحت) آزمائشی بنیادوں پر متعارف کرائی گئی ہے جس کا مقصد فی خاندان سالانہ 25 ہزار روپے ہسپتال میں علاج معالجہ کے لیے فراہم کرنا ہے۔حکومت کو اس بات کا پورا احساس ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے اپنے پیروں پر جلد از جلد کھڑے ہو جائیں۔

ہم بہترین بین الاقوامی تجربات کی روشنی میں ایک جامع ایگزٹ سٹریٹجی وضع کر رہے ہیں اس سلسلہ میں پہلے ہی کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ وسیلہٴ حق چھوٹے کاروبار کے ذریعے خود روزگاری کا پروگرام ہیجس سے مستفید ہونے والے خاندان کے ایک فرد کو ہنر سکھانے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان بیت المال 2 ارب روپے کے فنڈز سے غریب دوست پروگرام بھی جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کا ایک اور تاریخی کارنامہ بے نظیر ایمپلائز سٹاک آپشن سکیم کے تحت سرکاری اداروں کے کارکنوں کو ملکیت میں حصہ دار بنانا ہے۔ کارکنوں کو بااختیار بنانے اور انہیں ملکیتی حقوق دینے کے لیے انہیں 12 فیصد حصص دیے گئے ہیں۔ اس منصوبہ سے پیداواریت میں بہتری آئے گی اور کارکنوں کی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔ہماری حکومت کو ہمیشہ سے محنت کشوں کے حقوق کا احساس رہا ہے۔

نتیجتاً مالی سال 2010-11 کے لیے نئی لیبر پالیسی کے تحت کارکنوں کی کم از کم اجرت 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 7 ہزار روپے کی گئی ہے۔ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے آجر کیلئے کارکنوں کو بنک کے ذریعہ تنخواہوں کی ادائیگی لازمی قرار دی گئی گئی ہے۔ اس طرح کارکنوں کی بیٹیوں کے جہیز کے لیے امداد کو بڑھا کر 70 ہزار روپے کر دیا گیا ہے اور اب یہ سہولت ماضی کے برعکس کارکنوں کی تمام بیٹیوں کے لیے ہو گی۔

سماجی تحفظ سے مستفید ہونے کے لیے بھی کارکنوں کی آمدنی کی بالائی حد بڑھا کر 10 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ مالی سال 2009-10 کے دوران 27 ہزار سے زیادہ نوجوان نیشنل انٹرن شپ پروگرام سے مستفید ہوئے جبکہ مالی سال 2010-11 کے بجٹ میں بھی اس پروگرام کیلئے 3 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم اخراجات کو قابو میں رکھنے کیلئے بھی انتہائی سنجیدہ ہیں۔

اس سلسلے میں کچھ اہم مجوزہ اقدامات منظور شدہ بجٹ کے 10 فیصد سے زیادہ کی کسی بھی سپلیمنٹری گرانٹ کیلئے کابینہ کی منظوری،پارلیمنٹ کی طرف سے نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے بجٹ پر عملدرآمد کے حوالہ سے قومی اسمبلی کو سہ ماہی رپورٹ پیش کرنا،ترقیاتی منصوبوں کیلئے پی ایس ڈی پی کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے فنڈز کی فراہمی کو منظم بنانا اور اقتصادی رابطہ کمیٹی یا کابینہ کی طرف سے مالی اثرات کی حامل تجاویز کی منظوری کا بجٹ کو متاثر نہ کرنے کو یقینی بناناہیں ۔

انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ سے 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد ایک ٹرانزیشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کو کنکرنٹ لسٹ میں درج اختیارات کو صوبوں کو منتقلی کی نگرانی کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی جون 2011 سے قبل اس عمل کو حتمی شکل دے گی۔ توقع ہے کہ اس عرصہ کے دوران وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کی تعداد بھی کم ہو جائے گی جس کے نتیجہ میں مالی بچت ہو گی۔

دیہات میں رہنے والے غیر ہنرمند کارکنوں کیلئے روزگار پیدا کرنے کے حوالے سے ایک نئے اقدام کااعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس سکیم کے تحت دیہی علاقوں میں رہنے والے غیر ہنرمند افراد کو سال میں 100 دنوں کے لیے یقینی روزگار فراہم کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی اہم خصوصیت مقامی سطح پر چھوٹے کام کرنا ہوگا جس کے لیے کم از کم اجرت کے مساوی یقینی یومیہ اجرت دی جائے گی۔

اس منصوبے کے تحت ایک آزمائشی سکیم سب سے پسماندہ 12 اضلاع کی 120 یونین کونسلوں اور سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دیگر علاقوں میں شروع کی جائے گی۔ اس سکیم میں ہنر سکھانے کی تربیت کا عنصر بھی شامل کیا جائے گا۔ جس سے ان محنت کشوں کے لیبر مارکیٹ کا حصہ بننے میں سہولت ہو گی۔ اس پروگرام کے لیے 5ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی جائے گی جو حکومت کی طرف سے تنخواہوں کے علاوہ غیر ترقیاتی اخراجات کو رواں مالی سال کی سطح پر منجمد کرنے سے ہونے والی بچت کے نتیجہ میں حاصل ہو گی۔

توقع ہے کہ اس سکیم سے 2 لاکھ گھرانے مستفید ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں ہم ملک کی اکنامک مینجمنٹ کے لیے ایک نئی سمت کا تعین کرنے کی کوشش کریں گے۔ کوشش یہی ہے کہ معیشت کو زیادہ کفایت شعار ، موثر اور بنیادی طور پر خود انحصار بنانے کے لیے بجٹ میں ایک نئی سمت کا تعین کیاجائے۔ہم معیشت کے لیے مستحکم راستے کا تعین، اپنے طریق کار اور کارکردگی میں بہتری لانے، محروم طبقہ کے لیے ملازمتوں میں اضافے اور سرمایہ کاری میں اضافے کی ترغیب دینے والی پالیسیوں کی تشکیل کے لیے پیش رفت جاری رکھیں گے۔
05/06/2010 - 22:29:19 :وقت اشاعت