بند کریں
صحت صحت کی خبریںایچ آئی وی ایڈزبلوچستان سمیت پورے ملک کامسئلہ،ڈاکٹرمحمدحیات

صحت خبریں

وقت اشاعت: 04/12/2017 - 11:45:46 وقت اشاعت: 04/12/2017 - 11:33:02 وقت اشاعت: 04/12/2017 - 11:12:00 وقت اشاعت: 04/12/2017 - 10:03:26 وقت اشاعت: 30/11/2017 - 16:45:15 وقت اشاعت: 30/11/2017 - 16:42:53 وقت اشاعت: 30/11/2017 - 14:12:17 وقت اشاعت: 29/11/2017 - 15:55:35 وقت اشاعت: 29/11/2017 - 13:53:03 وقت اشاعت: 29/11/2017 - 13:36:59 وقت اشاعت: 29/11/2017 - 12:37:02

ایچ آئی وی ایڈزبلوچستان سمیت پورے ملک کامسئلہ،ڈاکٹرمحمدحیات

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 نومبر2017ء) ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر محمد حیات نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے بلوچستان میں ایڈز کے حوالے سے شعور و آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہو رہاہے ملکی سروے کے مطابق رواں سال بلوچستان میں ایڈز کے رجسٹرڈمریضوں کی تعداد856ہے جبکہ ان میں کوئٹہ میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد572اور تربت میں285ہیں یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر ایڈزکنٹرول کے ڈاکٹر ممتاز مگسی،میڈیا کوارڈنیٹروطن یارخلجی،محمد اشفاق، محمد خان زہری اور دیگر موجود تھے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کوئٹہ اور تربت میں زیادہ ہے اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صوبے کے دوردراز علاقوں سے آئے ہوئے مریض کوئٹہ میں رجسٹرڈ ہوتے ہیں ایچ آئی وی ایڈز نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے بلوچستان میں ایڈز کے حوالے سے شعور و آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہو رہاہے ملکی سروے کے مطابق رواں سال بلوچستان میں ایڈز کے رجسٹرڈمریضوں کی تعداد856ہے جبکہ ان میں کوئٹہ میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد572اور تربت میں285ہیںانہوں نے کہا کہ ایڈز کے حوالے سے بلوچستان کے عوام میں شعور وآگاہی کی کمی کی وجہ سے مریضوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اس حوالے سے صوبائی ایڈزپروگرام بلوچستان پچھلے دو سال سے گوادر تاژوب آگاہی مہم چلارہی ہے جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد ڈاکٹرز ،علماء کرام ، اساتذہ اور میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ مختلف سیمینار منعقدکرائے گئے انہوں نے کہاکہ اس کامیاب مہم کی وجہ سے عوام میں کافی حد تک شعور و آگاہی ہے پہلے لوگ معاشرے میں خوف اور رسوائی کی وجہ سے اپنے ٹیسٹ تک نہیں کرواتے 2سال قبل رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 411تھی اس مہم کے بعد رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 856ہوگئی ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام نے کوئٹہ اور تربت میں 2علاج و معالجے کے مراکز بھی بنائے اور صوبے میں مزید 6مراکز پر کام جاری ہے جو بہت جلد مکمل ہو جائے گا پروگرام کے تحت ہم نے 28اضلاع میں اسکرنینگ سینٹرز بھی قائم کئے ہیں انہوں نے کہا کہ پہلے ہمارے پاس وائرل لوڈ مشین نہیں تھی جس کی وجہ سے صوبے بھرکے مریض اندرون پاکستان جا کر 30سی35ہزار میں ایک ٹیسٹ کرواتے تھے لیکن اللہ کے فضل سے ہم نے وائرل لوڈ مشین لاکر صوبے کے غریب مریضوں کو صحت کے سہولیات مفت فراہم کررہے ہیں ۔


30/11/2017 - 16:42:53 :وقت اشاعت