بند کریں
صحت صحت کی خبریںڈاکٹر قدیر خان صحت مند ہیں اور انہیں مثانے کے کینسر کے حوالے سے کسی اضافی علاج کی ضرورت نہیں‘ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 28/11/2006 - 14:45:13 وقت اشاعت: 28/11/2006 - 14:37:30 وقت اشاعت: 27/11/2006 - 20:52:54 وقت اشاعت: 26/11/2006 - 14:55:20 وقت اشاعت: 25/11/2006 - 19:32:55 وقت اشاعت: 25/11/2006 - 15:19:43 وقت اشاعت: 25/11/2006 - 12:23:30 وقت اشاعت: 24/11/2006 - 23:24:19 وقت اشاعت: 24/11/2006 - 14:37:18 وقت اشاعت: 23/11/2006 - 14:34:07 وقت اشاعت: 23/11/2006 - 14:33:32

ڈاکٹر قدیر خان صحت مند ہیں اور انہیں مثانے کے کینسر کے حوالے سے کسی اضافی علاج کی ضرورت نہیں‘ حکومت۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی صحت کے بارے میں عوام کو آگاہ رکھنا حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے اور عوامی دلچسپی کے معاملے کو شفاف رکھا جائے گا‘توقع ہے کہ ڈاکٹرز کی رپورٹس کے بعد ڈاکٹر قدیر کی صحت کے حوالے سے افواہیں ختم ہو جائیں گی‘ آئی ایس پی آر کی جانب سے ڈاکٹر قدیرکی صحت سے متعلق شائع شدہ منفی خبروں کی تردید

راولپنڈی ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین25نومبر2006 ) حکومت نے کہا ہے کہ ملک کے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر قدیر خان صحت مند ہیں اور ان کی صحت سے متعلق شائع ہونے والی منفی خبریں بے بنیاد ہیں ۔ ڈاکٹر قدیر خان کی صحت کے بارے میں عوام کو آگاہ رکھنا حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے اور عوامی دلچسپی کے معاملے کو شفاف رکھا جائے گا۔ بائیو آپسی رپورٹ کے مطابق عبدالقدیرخان کو مثانے کے کینسر سے متعلق کسی اضافی علاج کی کوئی ضرورت نہیں اور توقع ہے کہ ڈاکٹرز کی رپورٹ کے بعد ان کی صحت کے بارے میں تمام افواہیں ختم ہو جائیں گی۔


آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان صحت مند ہیں اور ان کی صحت سے متعلق پریس میں شائع ہونے والی منفی خبریں بے بنیاد ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی صحت کے بارے میں عوام کو آگاہ رکھنا حکومت کا حصہ ہے۔ یہ معاملہ عوامی دلچسپی کا ہے جسے شفاف رکھا جاج رہا ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اہل خانہ کو بھی مکمل اعتماد میں لیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق ڈاکٹر فرحت عباس ‘ ڈاکٹر کامران مجید ‘ ڈاکٹر سعید اختر او رلیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ریاض احمد چوہان پر مشتمل بارہ نومبر کو ڈاکٹرز عبدالقدیر خان کا معائنہ کیا تھا۔ ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق دو ماہ قبل مثانے کے کینسر کی سرجری کے بعد معمولی پیچیدگیاں سامنے آئی تھیں جو علاج کے بعد اب ختم ہو گئی ہیں ۔
ماہر پیتھالوجسٹس کی ایک ٹیم نے بھی سرجری کے بعد معائنہ کیا جس میں پتہ چلا کہ کینسر مثانے کے غدود تک محدود تھا اور غدود سے باہر اس کے پھیلنے کی کوئی نشاندہی نہیں ہوئی۔

سرجری کے چھ ہفتے بعد ہونے والی طبی معائنے سے پی ایس اے کا کوئی سراغ نہیں ملا جو اس بات کا اظہار ہے کہ پورا کینسر جڑ سے نکال دیا گیا ہے۔ بائیو آپسی کی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے عبدالقدیر خان کو مثانے کے کینسر سے متعلق کسی اضافی علاج کی ضرورت نہیں ہے اور ڈاکٹرز ان کی صحت کے متعلق مطمئن ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کوان کی اپنی اور اہل خانہ کی خواہش کے مطابق بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور توقع ہے کہ ڈاکٹرز کی رپورٹ کے بعد ان کی صحت کے بارے میں تمام افواہیں ختم ہو جائیں گی۔
25/11/2006 - 15:19:43 :وقت اشاعت