بند کریں
صحت صحت کی خبریںعالمی ادارہ صحت کا خراب عادتوں کو بیماری تسلیم کرنے کا فیصلہ

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/01/2018 - 11:41:58 وقت اشاعت: 04/01/2018 - 23:29:19 وقت اشاعت: 04/01/2018 - 16:49:20 وقت اشاعت: 04/01/2018 - 14:20:47 وقت اشاعت: 04/01/2018 - 12:47:35 وقت اشاعت: 04/01/2018 - 12:47:35 وقت اشاعت: 04/01/2018 - 12:25:19 وقت اشاعت: 03/01/2018 - 15:59:03 وقت اشاعت: 03/01/2018 - 15:57:28 وقت اشاعت: 03/01/2018 - 15:18:00 وقت اشاعت: 03/01/2018 - 15:14:18

عالمی ادارہ صحت کا خراب عادتوں کو بیماری تسلیم کرنے کا فیصلہ

جینیوا۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جنوری2018ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے لوگوں کی خراب عادتوں اور مسائل سمیت مجموعی طور پر سماجی خرابیوں کے 11 اقسام کو ایک بیماری کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ عالمی ادارہ صحت نے جن 11 عادتوں ،برائیوں اور مسائل کو بیماری ماننے کا فیصلہ کیا ہے، اس میں گیم کھیلنا بھی شامل ہے۔عالمی ادارہ صحت جلد ہی آن لائن سمیت سمارٹ فونز پر کھیلی جانے والی ہر طرح کی گیم کو ایک بیماری تسلیم کرنے سے متعلق حتمی مسودہ تیار کرلیا ہے، جسے رواں برس کی پہلی سہ ماہی سے قبل منظور کیا جائے گا۔

اس مسودے میں جن 11 عادتوں، برائیوں یا مسائل کو بیماری تسلیم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، اس میں گیمنگ ڈس آرڈرز کو بھی ذہنی بیماری کے زمرے میں شمار کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ڈرافٹ میں کہا گیا کہ گیم کھیلنے والے افراد ذہنی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر کوئی بھی شخص مسلسل ایک سال تک گیم کھیلنے کی لت میں مصروف رہے تو اسے ’گیمنگ ڈس آرڈر‘ کا مریض سمجھا جائے۔مسودے کے مطابق گیم کھیلنے والے افراد کے ذہنی مسائل کے شکار ہونے کی مختلف نشانیاں ہوسکتی ہیں۔اس ڈرافٹ میں ڈپریشن، انزائٹی، موڈ، نیوٹریشن اور ہاضمے سمیت کیٹالونیا جیسے مسائل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
04/01/2018 - 12:47:35 :وقت اشاعت