بند کریں
صحت صحت کی خبریںملتان کے بعد کراچی پر موسمی انفلوئنزا کا حملہ، 28 کیسز سامنے آگئے
کراچی میں انفلوئنزا کے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/01/2018 - 14:41:21 وقت اشاعت: 10/01/2018 - 13:58:45 وقت اشاعت: 10/01/2018 - 13:32:46 وقت اشاعت: 10/01/2018 - 12:19:29 وقت اشاعت: 09/01/2018 - 14:57:31 وقت اشاعت: 09/01/2018 - 14:11:36 وقت اشاعت: 09/01/2018 - 13:55:54 وقت اشاعت: 09/01/2018 - 12:41:11 وقت اشاعت: 09/01/2018 - 12:08:45 وقت اشاعت: 09/01/2018 - 12:08:45 وقت اشاعت: 09/01/2018 - 12:00:43

ملتان کے بعد کراچی پر موسمی انفلوئنزا کا حملہ، 28 کیسز سامنے آگئے

کراچی میں انفلوئنزا کے کیسز سامنے آنے کے بعد تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ،ْ طاہر عزیز

کراچی/ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جنوری2018ء)ملتان کے بعد کراچی میں بھی موسمی انفلوئنزاایچ ون این ون کے کیسز سامنے آنا شروع ہوگئے اور شہر کے ایک نجی ہسپتال میں 28 مریضوں کے اس وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔ڈائریکٹر ہیلتھ کراچی ڈاکٹر طاہر عزیز کے مطابق اسٹیڈیم روڈ پر واقعہ نجی ہسپتال کی جانب سے 28 مریضوں کے موسمی انفلوئنزا سے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ کئی افراد کو انفلوئنزا کی مشتبہ علامات کے ساتھ ہسپتال لایا گیا ہے جن کے ٹیسٹ کئے گئے ۔

انہوں نے بتایا کہ چونکہ سرکاری سطح پر کوئی ایسی لیبارٹری موجود نہیں جو ایچ ون این ون وائرس کی تشخیص کرسکے لہٰذا ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کو ہدایات جاری کی گئیں ہیں کہ وہ انفلوئنزا کے مشتبہ کیسز کو تصدیق کیلئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد بھیجیں۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ ہسپتال کے علاوہ کسی اور سرکاری یا نجی ہسپتال نے ایچ ون این ون انفلوئنزا کے کیس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

طاہر عزیز نے کہا کہ کراچی میں انفلوئنزا کے کیسز سامنے آنے کے بعد تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے جبکہ انہوں نے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر انہیں فلو کی علامات محسوس ہوں تو احتیاطی تدابیر اختیار کریں جبکہ عام لوگ بھی فلو سے متاثرہ شخص سے خود کو دور رکھیں۔انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں اب ایسے ماسک دستیاب ہیں جن کی مدد سے وائرس کو چھینک یا کھانسی وغیرہ کے ذریعے دوسرے شخص میں منتقل ہونے سے روکا جاسکتا ہے جبکہ متاثرہ شخص کو چاہیے کہ وہ ہر تھوڑی دیر بعد معیاری صابن سے ہاتھ دھوئے تاکہ وائرس خاندان کے دوسرے افراد میں منتقل نہ ہوسکے۔

جنوبی پنجاب میں موسمی انفلوئنزا اب تک 17 افراد کی جان لے چکا ہے، انتقال کرنے والوں میں 12 کا تعلق ملتان سے، 3 کا مظفر گڑھ جبکہ 2 کا تعلق وہاڑی اور راجن پور سے ہے۔سیزنل انفلوئنزا سے ہونے والی اموات میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے جن میں 2 حاملہ خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 7 مرد بھی اسی مرض کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ سیزنل انفلوئنزا سے بچنے کیلئے ہر سال ماہ اکتوبر میں ویکسینشن کروانی چاہیے کیونکہ یہ ویکسین 15 روز بعد اپنا اثر دکھانا شروع کرتی ہے ۔

ڈاکٹرز کے مطابق وسط دسمبر سے انفلوئنزا کا سیزن شروع ہوتا ہے اور وسط جنوری تک جاری رہتا ہے البتہ اگر بارش ہو جائے تو یہ وائرس مر جاتا ہے ،ْپنجاب میں سیزنل انفلوائنزا کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے 4 ڈاکٹرز بھی اسی مرض سے متاثر ہو کر ہسپتال کے علیحدہ وارڈز میں زیر علاج ہیں ،ْاب تک موسمی انفلوائنزا کی علامات والے 114 مریض نشتر اسپتال لائے جاچکے ہیں جن میں سے 54 مریضوں میں موسمی انفلوئنزا کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 6 متاثرہ افراد کی رپورٹ کا انتظار ہے۔
09/01/2018 - 14:11:36 :وقت اشاعت