بند کریں
صحت صحت کی خبریںبنگلہ دیش کی طرز پر پاکستانی مساجد میں مانع حمل ادویات کے پیکٹ رکھیں گے ۔ چوہدری شہباز ، عوامی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 20/12/2006 - 13:37:14 وقت اشاعت: 19/12/2006 - 23:20:23 وقت اشاعت: 19/12/2006 - 18:56:19 وقت اشاعت: 19/12/2006 - 13:25:59 وقت اشاعت: 18/12/2006 - 16:30:42 وقت اشاعت: 17/12/2006 - 16:05:53 وقت اشاعت: 17/12/2006 - 15:48:23 وقت اشاعت: 17/12/2006 - 11:36:38 وقت اشاعت: 16/12/2006 - 20:58:56 وقت اشاعت: 16/12/2006 - 17:59:33 وقت اشاعت: 16/12/2006 - 15:26:36

بنگلہ دیش کی طرز پر پاکستانی مساجد میں مانع حمل ادویات کے پیکٹ رکھیں گے ۔ چوہدری شہباز ، عوامی آگہی کے لئے چھ ہزار خواتین سکالرز سمیت 22ہزار علماء کا تقرر کیا جارہا ہے ۔ انٹرویو

اسلا م آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین17دسمبر2006 ) وفاقی وزیر بہبود آبادی چوہدری شہباز حسین نے کہا ہے کہ بہبود آبادی کے پروگراموں سے عوام کو آگاہ کرنے کے لئے 22ہزار علماء کا تقرر کیا جارہا ہے جن میں 6ہزار خواتین سکالرز شامل ہیں جبکہ بنگلہ دیش کی طرز پرپاکستان کی مساجد میں بھی مانع حمل ادویات کے پیکٹ رکھے جائیں گے ۔ ” این این آئی “ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں چوہدری شہباز حسین نے کہا کہ جب میں نے وزارت بہبود آبادی کا چارج سنبھالا تو مجھے محسو س ہوا کہ عام آدمی اور وزارت میں ایک خلاء ہے جس کی وجہ سے میں نے عام لوگوں کو بہبود آبادی کے پروگراموں سے آگاہی کے لئے اہداف مقرر کئے علماء کنونشن منعقد کیا اور اس کام کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا وزیر بہبود آبادی نے بتایا کہ بہبود آبادی کے پروگراموں کی کامیابی کے لئے ہم نے علماء کو شریک کرنے کا فیصلہ کیا اس حوالے سے 22ہزار علماء کا تقرر کیا جارہا ہے جن میں 6 ہزار خواتین سکالر بھی شامل ہیں خواتین مذہبی سکالرز کی قومی کانفرنس سال 2007ء کے اوائل میں بلائی جائے گی اس عمل سے آبادی پر موثر کنٹرول کے حوالے سے جو اہداف 2020ء کے لئے رکھے گئے ہیں وہ 2010ء میں حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بہبود آبادی کے پروگراموں کے لئے فنڈز وفاقی حکومت دیتی ہے جبکہ استعمال صوبے کرتے ہیں اب ہم نے سمری بھیجی ہے کہ ہمیں مانیٹرنگ کا مکمل اختیار دیا جائے ایک سوال کے جواب میں وزیر بہبود آبادی نے بتایا کہ ماضی میں ہمارت وزارت کی ناکامی کا بڑا فیکٹر یہ رہا کہ یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں سوشل سکیورٹی فیکٹر موجود ہے ہمارے ملک میں بڑھاپے میں والدین کو سہارا صرف اولاد کی صورت میں نظر آتا ہے اس لئے وہ زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں کہ اگر ایک بچہ نالائق ہے تو باقی خدمت کریں گے لیکن ہم نے لوگوں میں شعور پیدا کرنا ہے کہاگر دو بچے ہوں اور ان کی تعلیم و تربیت پر اچھی طرح توجہ دی جائے تو وہ بڑھاپے میں والدین کا سہارا بنیں گے ایک سوال کے جواب میں چوہدری شہباز حسین نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ سیکٹر آرگنائزیشن کے ساتھ ایم او یوز سائن ہوئے ہیں اس سے بہبود آبادی کے پروگراموں پر عمل درآمد میں مدد ملے گی ہم نے فوج کو بھی اس حوالے سے شامل کیا ہے اور سی ایس ڈی پر مانع حمل ادویات کے پیکپ رکھے گئے ہیں بہبود آبادی کے پروگراموں کو نصاب میں شامل کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر بہبود آبادی نے بتایا کہ ہم بہبود آبادی کے پروگرامو ں کو نصاب میں شامل نہیں کررہے کیونکہ اس حوالے سے معاشرے میں روایتی جھجھک موجود ہے تاہم ہماری کوشش ہے طلباء کو کچھ نہ کچھ ویژن دیا اجئے اس حوالے سے مختلف یونیورسٹیوں میں لیکچر کا اہتمام کیاج اتا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ علماء اور خواتین سکالرز کو ماہانہ اعزازیہ دینے کی سمری منظوری کے لئے وزیر اعظم کو بھجوا دی گی ہے جمعہ کو علماء کرام اپنی تقاریر میں بنگلہ دیش کی مساجد میں افادیت بیان کریں گے بنگلہ دیش کی مساجد میں مانع حمل ادویات کے پیکٹ رکھے جاتے ہیں ہم بھی نماز عشاء کے وقت مساجد میں مانع حمل ادویات کے پیکٹ رکھیں گے انہوں نے بتایا کہ اس وقت آبادی میں اضافے کی شرح 1.86 فیصد ہے جسے 2020ء تک 1.3 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔

میں نے نیشنل پاپولیشن آف سٹڈیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سروے کریں اور گھر گھر جا کر تعداد معلوم کریں اس حوالے سے ہم نے قرآن پر حلف لیا ہے کہ وہ جھوٹ مت بولیں اور صحیح سروے کریں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ صوبہ سرحد نے باقی صوبوں کی نسبت بہبود آبادی کے پروگرام کو کامیابی سے چلایا ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس کوئی انٹرنیشنل فنڈنگ نہیں حکومت پاکستان کے فنڈز ہیں این بی اوز سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر بہبود آبادی نے بتایا کہ جب سے وزارت کا چارج سنبھالا ہے کسی این جی اوز کو کوئی فنڈ نہیں ملا تاہم اب ہم این جی اوز کو منتخب کریں گے جو ہمارے ساتھ مل کر کام کریں گی ۔
17/12/2006 - 16:05:53 :وقت اشاعت