بند کریں
صحت صحت کی خبریںجنگ اور تشدد نے افغان عوام کو ذہنی مریض بنا دیا،ہر10 افراد میں سے 4 دماغی بیماریوں کا شکا رہیں،شراب ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 21/12/2006 - 18:05:34 وقت اشاعت: 21/12/2006 - 15:44:17 وقت اشاعت: 21/12/2006 - 13:16:59 وقت اشاعت: 21/12/2006 - 11:44:48 وقت اشاعت: 20/12/2006 - 22:36:50 وقت اشاعت: 20/12/2006 - 13:37:14 وقت اشاعت: 19/12/2006 - 23:20:23 وقت اشاعت: 19/12/2006 - 18:56:19 وقت اشاعت: 19/12/2006 - 13:25:59 وقت اشاعت: 18/12/2006 - 16:30:42 وقت اشاعت: 17/12/2006 - 16:05:53

جنگ اور تشدد نے افغان عوام کو ذہنی مریض بنا دیا،ہر10 افراد میں سے 4 دماغی بیماریوں کا شکا رہیں،شراب او رمنشیات کا کاروبار پھر بڑھ گیا

کابل (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20دسمبر۔2006ء) جنگ اور تشدد نے افغان عوام کو ذہنی مریض بنا دیا،ہر 10 افراد میں سے 4 افراد دماغی بیماریوں کا شکار ہیں جن میں خوتین سب سے زیادہ ہیں ۔ صحت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے افغان عوام کی ایک بڑی تعداد بیماریوں کا شکار ہے۔ ان خیالات کا اظہار افغانستان کے وزیر صحت ڈاکٹر سید امین کاظمی نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دئیے گئے انٹرویومیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اس وقت ہر 10 افراد میں سے 4 افراد دماغی بیماریوں کا شکا رہیں اور ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے مریضوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے لیکن ہم اس بات پر پوری توجہ دے رہے ہیں کہ جنگ اور تشدد سے پریشان لوگوں کو مناسب علاج فراہم کیا جائے تاکہ دماغی طور پر وہ صحت یاب ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں دو خطروں کا سامنا ہے ایک وسائل کی کمی اور دوسرا ان کی سلامتی کو خطرہ۔

بہت سے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صورت حال بہت مایوس کن ہے کیونکہ طالبان دوبارہ ابھر رہے ہیں اور کئی صوبوں میں تشدد کے واقعات میں اصافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی اور بے اطمینانی پیدا ہو گئی ہے اور لوگ خوف و ہراس کا شکار ہیں ۔ ایک ایسے ملک میں جس کی آبادی 2کروڑ 40لاکھ ہے اور جس میں خواتین کی اوسط عمر 45 سال اور مردوں کی عمر 47 سال ہے اس میں وزارت صحت عامہ کے یک نکاتی ترجیحی ایجنڈے میں دماغی صحت کو پانچواں نمبر دیا گیا ہے۔

وزارت نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ملک میں نفسیاتی یا ذہنی بیماریاں بہت زیادہ ہیں ۔ عالمی تنظیم صحت (ڈبلیو ایچ او) اور وزارت صحت کے درمیان حکمت عملی تیار کی گئی ہے اس کے مطابق 20لاکھ سے زیادہ افغانی نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں ۔ امریکی قیادت میں افغانستان پر حملہ کے ایک سال بعد جو سروے کیا گیا تھا 59.1 فیصد مرد اور 73.4 فیصد خواتین مایوسیوں اور ذہنی پریشانیوں کا شکار ہیں ۔

افغانستان کی معیشت ٹوٹ گئی ہے اور ملک کا بنیادی ڈھانچہ تباہہو گیا ہے۔ بنیادی سروسز برائے نام رہ گئی ہیں ان حالات کا افغانی آبادی پر تباہ کن اثر پڑا ہے۔ نفسیاتی اور سماجی مسائل بہت بڑھ گئے ہیں ۔ مجرمانہ کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے لوگوں میں شرب اور منشیات کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دماغی امراض کے ڈاکٹروں کی بہت کمی ہے اور پورے افغانستان میں صرف 8ماہر نفسیات اور 20ماہر ڈاکٹر ہیں۔ دماغی امراض کی جو بھی برائے نام سہولیات ہیں وہ صرف چند بڑے شہروں میں ہیں باقی دیہی علاقے ان سے محروم ہیں۔
20/12/2006 - 13:37:14 :وقت اشاعت