بند کریں
صحت صحت کی خبریںرحیم یارخان، شوگرملز سے نکلنے والے زہریلے پانی سے درجنوں بچے ،خواتین ومرد مہلک جلدی مرض میں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 24/10/2012 - 23:41:53 وقت اشاعت: 24/10/2012 - 22:43:06 وقت اشاعت: 24/10/2012 - 22:41:23 وقت اشاعت: 24/10/2012 - 22:40:11 وقت اشاعت: 24/10/2012 - 22:39:38 وقت اشاعت: 24/10/2012 - 22:39:06 وقت اشاعت: 24/10/2012 - 21:53:35 وقت اشاعت: 24/10/2012 - 21:51:35 وقت اشاعت: 24/10/2012 - 16:16:50 وقت اشاعت: 24/10/2012 - 14:23:33 وقت اشاعت: 24/10/2012 - 14:19:18

رحیم یارخان، شوگرملز سے نکلنے والے زہریلے پانی سے درجنوں بچے ،خواتین ومرد مہلک جلدی مرض میں مبتلا، 5 بچوں اور 2 خواتین کی ہلاکتوں پر متاثرہ افراد کا احتجاجی مظاہرہ

رحیم یارخان(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔24اکتوبر۔ 2012ء)جن پور کے علاقہ میں قائم مقامی شوگرملز سے نکلنے والے زہریلے پانی سے نزدیکی آبادی کے درجنوں بچے ،خواتین ومرد مہلک جلدی مرض میں مبتلا، 5 بچے 2 عورتیں ہلاک ہونے پر متاثرہ افراد کا شوگرمل کے خلاف ڈی سی اوآفس کے باہر احتجاجی مظاہرہ، متاثرین نے فوری طورپر سرکاری سطح پر علاج اور شوگرمل کے خلاف کاروائی کا مطالبہ۔

ڈی سی او نے متعلقہ محکمہ جات سے تین دن میں رپورٹ طلب ، متاثرین سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کا وعدہ،بستی غریب آباد تحصیل لیاقت پور کے درجنوں مکینوں عبدالقادر، حاجی دودا،رضیہ بی بی، جنوں مائی، حضور بخش،اعجاز احمد،محمد اقبال ودیگر نے ڈی سی او آفس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے میڈیاکو بتایاکہ تحصیل لیاقت پور جن پور کے نزدیک مقامی شوگر مل سے نکلنے والے زہریلے مواد کے قائم کردہ ذخائر سے علاقے کا زیرزمین پانی انتہائی زہریلا ہوچکاہے جسے استعمال کرنے سے بستی کے تقریباً 50 گھرانے اور اڑھائی سو کے قریب افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں ،زیرزمین پانی مکمل طورپر تباہ ہوچکاہے جسے استعمال کرنے سے ان میں انتہائی مہلک بیماریاں پھیل چکی ہیں اور انکی بستی کی 2 خواتین سمیت 5بچے بھی ہلاک ہوچکے ہیں جس پر وہ متعدد مرتبہ احتجاج بھی کرچکے ہیں مگر تاحال کوئی شنوائی نہ ہوئی ہے۔

بیماریاں پھیلنے سے اہل علاقہ نے محکمہ ماحولیات کو بھی شکایت کی اور پانی کی لیبارٹری سے پانی چیک کرایاگیا تو یہ ثابت ہوگیاکہ پانی زہرآلود ہے اور وہ 500pp تک پہنچ چکاہے ۔ مکین جلدی امراض میں مبتلا ہورہے ہیں ۔فیکٹری مالکان انکے احتجاج پر انہیں بستی سے نکال دینے کی دھمکیاں دیتے ہیں ضلعی انتظامیہ بھی کچھ نہیں کررہی لہذا انکا مطالبہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ فی الفور فیکٹری کے خلاف ایکشن لے اور مرض میں مبتلاہونے والوں کے علاج کا فوری بندوبست کرتے ہوئے فیکٹری کے زہریلے مواد کے خاتمہ کے لیے عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

مظاہرین میں درجنوں خواتین اور بچے بھی شریک تھے جنہوں نے فیکٹری کے خلاف اور بیماریوں سے متعلق اپنے مطالبات پر مشتمل بینرز اور پلے کارڈز اٹھارکھے تھے ۔ڈی سی او نبیل احمد جاوید نے اس موقع پر مظاہرین کو یقین دہانی کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ انکے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے لیے تیارہیں ۔دریں اثناء انہوں نے متعلقہ محکمہ جات سے تین دن میں رپورٹ طلب کرلی ۔مظاہرین نے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے شکایت سیل میں بھی ایک تحریری درخواست جمع کرادی اور اپیل کی کہ انکے ساتھ انصاف کیاجائے۔
24/10/2012 - 22:39:06 :وقت اشاعت