بند کریں
صحت صحت کی خبریںکالا باغ ڈیم چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے ہی بن سکتا ہے، ہمیں باہمی اختلافات ختم کر کے پاکستان ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2012 - 15:10:09 وقت اشاعت: 15/11/2012 - 12:13:37 وقت اشاعت: 15/11/2012 - 12:13:04 وقت اشاعت: 14/11/2012 - 21:02:36 وقت اشاعت: 14/11/2012 - 13:01:44 وقت اشاعت: 13/11/2012 - 22:53:22 وقت اشاعت: 13/11/2012 - 21:09:01 وقت اشاعت: 13/11/2012 - 19:43:18 وقت اشاعت: 13/11/2012 - 16:12:17 وقت اشاعت: 13/11/2012 - 16:10:40 وقت اشاعت: 13/11/2012 - 16:10:40

کالا باغ ڈیم چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے ہی بن سکتا ہے، ہمیں باہمی اختلافات ختم کر کے پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نکالنا ہے، پیپلزپارٹی نے اقتدار سنبھالا تو ملکی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب تھی،بجلی کا شدید بحران تھا ہماری حکومت نے بحرانوں پر قابو پانے کیلئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے ،آج ملک میں افراط زر کی شرح سنگل ڈیجٹ کے قریب ہے ،مالیاتی اور بجٹ خسارہ پر قابو پا کرحکومتی اخراجات میں نمایاں کمی کی ہے ،صوبوں کے اختیارات میں اضافہ کرکے انہیں کئی گنا زیادہ وسائل دئیے ہیں، معیشت کی بہتری کیلئے کاروباری طبقہ کی تجاویز پرحکومت عمل درآمد کو یقینی بنائے گی ،حکومت اورکاروباری طبقہ ایکدوسرے کے حریف نہیں ہم نے ایک دوسرے کو مضبوط بنانا ہے ،کاروباری طبقہ مضبوط اور خوشحال ہو گا تو ملک مستحکم اور خوشحال ہو گا، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا لاہور چیمبر میں خطاب اور ارکان کے سوالات کے جوابات

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔13نومبر۔2012ء) وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ صرف چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے ہی بن سکتا ہے، ہمیں باہمی اختلافات ختم کر کے پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نکالنا ہے، جب پیپلزپارٹی نے اقتدار سنبھالا تو ملکی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب تھی ،بجلی کا شدید بحران تھا لیکن ہماری حکومت نے بحرانوں پر قابو پانے کیلئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے اور اس میں کامیاب بھی رہے ہیں،آج ملک میں افراط زر کی شرح سنگل ڈیجٹ کے قریب ہے اورمالیاتی اور بجٹ خسارہ پر قابو پا لیا گیا ہے،حکومتی نے اپنے اخراجات میں نمایاں کمی کی ہے اور صوبوں کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے او رانہیں کئی گنا زیادہ وسائل دئیے گئے ہیں،ملکی معیشت بہتر بنانے کیلئے کاروباری برادری قابل حکومت اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی ،حکومت اورکاروباری طبقہ ایکدوسرے کے حریف نہیں بلکہ ہم نے ایک دوسرے کو مضبوط بنانا ہے کیونکہ اگر کاروباری طبقہ مضبوط اور خوشحال ہو گا تو ملک مستحکم اور خوشحال ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب اور انکے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا ۔وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بھی تقریب سے خطاب کیااور ملک کی معیشت کے خدوخال پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر فاروق افتخار نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ تقریب میں پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر و وفاقی وزیر منظور احمد وٹو،قائم مقام گورنر پنجاب رانا محمد اقبال،سینئر نائب صدر لاہور چیمبر عرفان اقبال شیخ،نائب صدر میاں ابوذر شاد،چیئرمین ایف بی آر،وفاقی سیکرٹری تجارت،سابق چیئرمین واپڈاطارق حمید سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا، بجلی کی یکساں لوڈشیڈنگ اور نجی شعبے کا استحکام حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ، توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے کوئلے اور سولر انرجی کے بہت سے پراجیکٹس پر کام جاری ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کا اپنا منشور ہوتا ہے، پیپلزپارٹی کا بھی اپنا منشور ہے اورہمیں فخر ہے کہ ہم نے اپنے منشور کے 75فیصد پر عملدرآمد کیا ہے۔

پیپلزپارٹی کی پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت ہے لیکن اسکے باوجود ہم نے مفاہمت کا راستے اپناتے ہوئے اپنے اتحادیوں کیساتھ مل کر پاکستان کو مشکل حالات سے نکالا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کیساتھ برابری کی سطح پر تجارت کا خواہاں ہے،پاکستانی کاروباری برادری کو ہمسایہ ملک کیساتھ جن رکاوٹوں کا سامنا ہو گا انہیں دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو یورپی ممالک کیساتھ تجارت بڑھانے کیلئے مراعات لے کر دیں گے کیونکہ ملکی معیشت میں نجی شعبے کا اہم کردار ہے اورنجی شعبے کے بغیر معیشت کوچلانا نا ممکن ہے ،ہم کاروباری طبقے کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ قائم رکھنا چاہتے ہیں اور اسکے لئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری قابل عمل تجاویز دے وفاقی حکومت اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہترین اصلاحات کیوجہ سے ٹیکس وصولیاں دگناہو چکی ہیں ،جی ڈی پی میں اضافہ ہوا ہے۔جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو توانائی بحران اپنے عروج پر تھا لیکن ہم نے اس پر قابو پایا اور بجلی اور گیس کی قلت کو دور کرنے کیلئے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے ۔توانائی بحران کو ختم کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کا بحران صرف پاکستان میں نہیں بلکہ بھارت،بنگلہ دیش اور بھوٹان میں بھی ہے ۔

کالا باغ ڈیم کا منصوبہ چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے بن سکتا ہے،ہم سے پہلے طاقتور حکومتیں کالا باغ ڈیم کیوں نہیں بنا سکیں ؟۔ آج جمہوری حکومت ہے ہم نے چاروں صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہیمصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنی ہے نفرتیں پیدا نہیں کرنی ۔انہوں نے بتایا کہ پانچ ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے جسے دور کرنے کیلئے پانی،ہوا ،کوئلے اور شمسی توانائی سمیت دیگر متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام جاری ہے او رانکی مرحلہ وار تکمیل سے اس بحران پر بھی قابو پا لیں گے ۔

تھرمل بجلی پر انحصار بڑھنے کے باعث سرکلر ڈیٹ بڑھا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے جو سوال اٹھائے ان کے تسلی بخش جوابات دیئے گئے،چاروں صوبوں میں مساوی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ،ہمارا کسی سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں۔وزیر اعظم نے اس موقع پر اعلان کیا کہ حکومت کی قائم کردہ انرجی کمیٹی میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف مزید کہا کہ نے کہا کہ موجودہ حکومت توانائی کے تمام قابل عمل پراجیکٹس پر بلاتاخیر کام کرنے کو تیار ہے ۔حکومت اور نجی شعبہ دونوں ہی ملک کے معاشی استحکام کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئلے اور سولر انرجی کے پراجیکٹس اُتنے سستے نہیں جتنا کہ تصور کیا جاتا ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان سے حاصل ہونے والی توانائی صارفین کی پہنچ میں آجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی درخواست پر حکومت نے تھرکول پراجیکٹ کے لیے ہر ممکن تعاون کیا اور اس منصوبے پر کام ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کالاباغ ڈیم پر صوبوں کے مابین اتفاق ہوجائے تو حکومت اس کی تعمیر شروع کرنے کو تیا رہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فاروق افتخار نے کہا کہ توانائی کا بحران ایک سنگین مسئلہ ہے جس سے تاجر برادری سمیت ہرکوئی پریشان ہے۔

اس بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھانا ہونگے کیونکہ اس سے ملکی معیشت متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے پاور سیکٹر کے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ہر سال 200ارب روپے یا پھر بجٹ کے 10%کے مساوی رقم داسو پاور پراجیکٹ، دیامیر بھاشہ ڈیم، منڈا ڈیم، کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور کرم تنگی ڈیم سمیت دیگر پاور پراجیکٹس کے لیے مختص کرے۔

انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم بہت اہم منصوبہ ہے لیکن یہ سیاست کی نذر ہورہا ہے۔ پاکستان میں پانی کی قلت بھی بڑھ رہی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ 2025ء میں پانی کی فی کس دستیابی 700کیوبک میٹر رہ جائے گی جو اس وقت 1038کیوبک میٹر فی کس ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکلر ڈیبٹ کا مسئلہ بھی مستقبل بنیادوں پر حل کرے۔
13/11/2012 - 22:53:22 :وقت اشاعت