ادویات کی قیمتوں میں کمی حکومتی دباؤ پر نہیں کی گئی

365ادویات کی قیمتوں میں کمی عدالت میں کیس ہارنے کی وجہ سے کی گئی

ادویات کی قیمتوں میں کمی حکومتی دباؤ پر نہیں کی گئی
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24اپریل2019ء)گزشتہ دنوں 365ادویات کی قیمتوں میں کمی حکومتی دباؤ کی وجہ سے نہیں کی گئی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ دنوں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت نے ادویات ساز کمپنیوں پر دباؤ ڈالا تھا کہ قیمتیں کم کی جائیں۔ حکومت نے ادویات ساز کمپنیوں کو ادویات کی قیمتوں میں 300 سے 400 فیصد تک کیا جانے والا اضافہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا اور اس کے بعد ادویات ساز کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا تھا تاہم اب انکشاف ہوا ہے کہ کمپنیوں نے یہ کمی حکومتی دباؤ پر نہیں کی تھی بلکہ عدالت میں کیس ہارنے کی وجہ سے یہ کمی کی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ ادویات ساز کمپنیاں 2سال سے مہنگائی میں اضافے کے ساتھ ساتھ ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافی کرتی رہی تھیں لیکن اس اضافے کی اجازت نہیں لی جاتی تھی۔

(جاری ہے)

اب نیب نے اس حوالے سے تحقیقات میں ادویات ساز کمپنیوں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سے پہلے فاقی کابینہ نے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے منافع کمانے والی کمپنیوں سے رقم واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ جن کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں من پسند اضافے کیے اور ڈرگ پالیسی کا غلط استعمال کیا اُن کمپنیوں سے پیسے واپس لیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے جن جن کمپنیوں نے منافع کمایا ، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پیسے واپس لے کر بیت المال میں جمع کروایا جائے گا جسے جان لیوا امراض جیسے کینر، تھیلیسیمیا، ہیپاٹائٹس میں مبتلا مستحق اور نادار مریضوں کے علاجمعالجے پر خرچ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا اسپیشل آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔وزارت قومی صحت نے آڈیٹر جنرل پاکستان کے نام مراسلہ لکھا جس میں کہا گیا کہ ڈریپ کا 2013ء سے 2018ء تک آڈٹ کیاجائے۔

Your Thoughts and Comments