بند کریں
صحت صحت کی خبریںپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ، توانا پاکستان پروگرام میں کروڑوں روپے کی خوردبرد ، اسلام آبادمیں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 06/12/2012 - 11:33:28 وقت اشاعت: 05/12/2012 - 23:07:40 وقت اشاعت: 05/12/2012 - 22:54:35 وقت اشاعت: 05/12/2012 - 20:26:01 وقت اشاعت: 05/12/2012 - 18:15:20 وقت اشاعت: 05/12/2012 - 18:15:20 وقت اشاعت: 05/12/2012 - 17:41:19 وقت اشاعت: 05/12/2012 - 14:26:15 وقت اشاعت: 05/12/2012 - 14:13:30 وقت اشاعت: 05/12/2012 - 14:13:03 وقت اشاعت: 05/12/2012 - 13:28:24

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ، توانا پاکستان پروگرام میں کروڑوں روپے کی خوردبرد ، اسلام آبادمیں سکولوں کی کینٹینوں کے انتہائی کم ریٹس پردو بھائیوں کو ٹھیکے دیئے جانے کا انکشاف ، کمیٹی کی تمام ٹھیکے منسوخ ، قواعد کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کرنے کی ہدایت،کمیٹی نے پمز اور پولی کلینک ہسپتالوں میں غیر معیاری ادویات کا نوٹس لے لیا،دونوں ہسپتالوں کی انتظامیہ کو آڈٹ حکام سے ملکر ادویات کی خریداری کے حوالے سے پالیسی بنا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت، کھانسی کے شربت سے ہلاکتوں کے بعد سیرپ کے نمونوں کے ٹیسٹ کروا ئے جو کلیئر آئے ، سیکرٹری ریگولیشن اینڈ سروسز

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔5دسمبر۔ 2012ء)قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں توانا پاکستان پروگرام میں کروڑوں روپے کی خوردبرد اور اسلام آبادمیں انتظامیہ کی ملی بھگت سے سکولوں کی کینٹینوں کے انتہائی کم ریٹس پر دو بھائیوں کو ٹھیکے دیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ،کمیٹی نے تمام ٹھیکے منسوخ کرکے قواعد کے تحت دوبارہ ٹھیکے دینے اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کاروائی کرنے کی ہدایت کردی،کمیٹی نے پمز اور پولی کلینک ہسپتالوں میں غیر معیاری ادویات کا نوٹس لیتے ہوئے دونوں ہسپتالوں کی انتظامیہ کو آڈٹ حکام کے ساتھ ملکر ادویات کی خریداری کے حوالے سے پالیسی بنا کر رپورٹ دینے کی ہدایت کی ہے جبکہ سیکرٹری ریگولیشن اینڈ سروسز امتیاز عنایت الٰہی نے کہا ہے کہ لاہور میں کھانسی کے شربت سے ہونیوالی ہلاکتوں کے بعد سیرپ کے نمونے لیکر ٹیسٹ کروا ئے گئے جو کلیئر آئے ہیں۔

بدھ کوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین ندیم افض گوندل کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں وزارت کیڈ کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کوبتایا کہ اسلام آباد کے سکولوں کی بس فیس 2003 ء میں50 روپے سے بڑھا کر250 روپے کردی گئی لیکن200 روپے حکومت کے خزانے میں نہیں ڈالے گئے یہ رقم2کروڑ26لاکھ ہے۔ وزارت کیڈ کے حکام نے بتایا کہ اب اسلام آباد کے سکولوں میں بسوں کی فیس500 روپے لی جارہی ہے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ یکم جنوری2013 ء سے بس فیس کی مد میں حاصل ہونے والی رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے ورنہ سیکرٹری کیڈ کے خلاف آڈٹ اعتراض بنے گا ۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ چند لوگ ہیں جن کو اسلام آباد کے سکولوں میں قواعد وضوابط کے خلاف کینٹینیں لاٹ کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کینٹینوں کا بلوں سمیت3500 روپے کرایہ وصول کیا جاتا ہے ان اداروں کی کینٹینیں18 سال کیلئے ٹھیکے پر دی گئی ہیں وزارت کیڈ کے حکام نے تسلیم کیا کہ یہ ٹھیکے قواعد کیخلاف دئیے گئے ۔

کمیٹی نے ایک ماہ میں ان کینٹینوں کے قواعد کے تحت ٹھیکے دینے اور پرانے ٹھیکے منسوخ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ہر ہفتے رپورٹ پیش کی جائے جبکہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف تحقیقات کی جائے۔ کمیٹی نے لاہور میں کھانسی کا شربت پینے سے ہونے والی اموات کا بھی نوٹس لیا۔ سیکرٹری ریگولیشن اینڈ سروسز امتیاز عنایت الٰہی نے بتایا کہ اس معاملے کے سامنے آنے پر پنجاب حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فیکٹری اور میڈیکل سٹور سیل کر دئیے ہم نے جو نمونے اکھٹے کئے ہیں اس میں دوائی کلیئر آتی ہے ڈی او اے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق دوائی میں کچھ ملا کر پی گئی جس کے باعث ان کی موت واقع ہوئی ہے ۔

امیتاز عنایت الٰہی نے کہا کہ جعلی ادویات کے حوالے سے ملک میں قانون موجود ہے تاہم اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا پمز اور پولی کلینک ہسپتالوں کے حکام نے کہا کہ دوائیوں میں کم سے کم بولی کے اصول کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے اس سے غیر معیاری ادویات لینی پڑتی ہیں جو مریضوں پر اثر نہیں کرتی۔ اس حوالے سے کم سے کم بولی والی شرط ختم کی جائے ۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ہسپتالوں میں غیر معیاری ادویات ہوتی ہیں ڈرگ کنٹرول انسپکٹر کیا کرتے ہیں وہ کس کے کنٹرول میں ہیں اس کا کسی کو علم ہی نہیں ہے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ پمز اور پولی کلینک کے حکام آڈٹ سے مل کر15 روز میں ادویات کے حوالے سے پالیسی بنا کر کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں۔ توانا پاکستان پروگرام کے حوالے سے نیب حکام نے بتایا کہ ایف آئی اے نے توانا پاکستان کا معاملہ اٹھا تاہم اب یہ کیس نیب کے پاس ہے۔ اس میں16کروڑ70لاکھ کی بے قاعدگی ہوئی ہے اس میں سیکرٹری نعیم خان سمیت بہت سے لوگ ملوث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کی ایکنگ نے2002ء میں3.6 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ اس پروگرام میں11کروڑ کی جعلی خریداری کی رسیدیں ڈالی گئی۔ جو ملوث لوگ ہیں وہ پکڑے ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک ماہ میں انکوائری مکمل کی جائے گی۔
05/12/2012 - 18:15:20 :وقت اشاعت