بند کریں
صحت صحت کی خبریںملک میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے ، رجسٹرڈ کیسوں کی تعداد6ہزار8سو ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 07/12/2012 - 18:47:15 وقت اشاعت: 07/12/2012 - 17:05:31 وقت اشاعت: 07/12/2012 - 17:01:24 وقت اشاعت: 06/12/2012 - 23:21:17 وقت اشاعت: 06/12/2012 - 20:32:27 وقت اشاعت: 06/12/2012 - 20:01:17 وقت اشاعت: 06/12/2012 - 19:43:36 وقت اشاعت: 06/12/2012 - 19:37:01 وقت اشاعت: 06/12/2012 - 17:30:37 وقت اشاعت: 06/12/2012 - 16:13:06 وقت اشاعت: 06/12/2012 - 16:08:07

ملک میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے ، رجسٹرڈ کیسوں کی تعداد6ہزار8سو ہے ، ایڈز کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد نشہ آور اور انجیکشن لگانے والوں کی ہے ، 5فیصد خواجہ سرا1.6فیصد ہم جنس پرست مرد اور0.6فیصد میل سیکس ورکرز ایڈز میں مبتلا ہیں ، ملک میں1لاکھ 25ہزار افراد نشہ آور انجیکشن لگواتے ہیں جبکہ40ہزار ہجڑے،70ہزار ہم جنس پرست اور اڑھائی لاکھ فی میل سیکس ورکرز موجود ہیں،قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو ایڈز کنٹرول پروگرام کے حکام کی بریفنگ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔6دسمبر۔ 2012ء)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو ایڈز کنٹرول پروگرام کے حکام نے بتایا ہے کہ ملک میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے ۔رجسٹرڈ کیسوں کی تعداد6ہزار8سو ہے ۔ایڈز کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد نشہ آور اور انجیکشن لگانے والوں کی ہے جو کل مریضوں کا 27فیصد بنتی ہے ۔

5فیصد خواجہ سرا1.6فیصد ہم جنس پرست مرد اور0.6فیصد میل سیکس ورکرز ایڈز میں مبتلا ہیں ۔ملک میں1لاکھ 25ہزار افراد نشہ آور انجیکشن لگواتے ہیں جبکہ40ہزار ہجڑے،70ہزار ہم جنس پرست اور اڑھائی لاکھ فی میل سیکس ورکرز موجود ہیں ۔قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس بدھ کو کمیٹی کے چیئرمین ریاض فتیانہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے ممبران مہتاب خان عباسی،کشمالہ طارق،فوزیہ خبیب،جمیلہ گیلانی سمیت وزارت بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری اور صحت عامہ کے قومی پروگراموں کے ذمہ داران نے شرکت کی اور کمیٹی ممبران کو بریفنگ دی۔

کمیٹی نے اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کی گئی وزارتوں کے ملازمین کو پیش آنے والی مشکلات کابھی جائزہ لیا۔کمیٹی نے پنجاب میں بے نظیر شہید سنٹرز فاروومن کی ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا جائزہ لیا اور پلاننگ ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ15دن کے اندر ان سنٹرز کی تمام ملازمین کو تنخواہیں ادا کروائے ۔کمیٹی نے وزارت انسانی حقوق کی بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے ترقیاتی فنڈز کو غیر ترقیاتی فنڈز میں تبدیل کرکے وزیراعظم کی ہدایت کی روشنی میں ان ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کو بغیر کسی رکاوٹ کے ممکن بنائے۔

کمیٹی نے وزارت بین الصوبائی رابطہ کو سفارش کی کہ سرکاری ہسپتالوں میں بڑی عمرکے بزرگ خواتین وحضرات کو بھی مفت ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ملک میں پولیو کی بڑھتی ہوئی شرح پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کمیٹی نے سفارش کی کہ پولیو ہیپاٹائیٹس،ٹی بی،ایڈز اور دیگر پروگراموں کی جانب سے حفاظتی انتظامات اور ان بیماریوں سے بچاؤ کی آگاہی مہم کا آغاز کیاجائے ۔

ایڈز،ٹی بی،پرائیویٹ نجی چینلوں سینما گھروں اور کیبل ٹی وی آپریٹرز کے ذریعے عوام کو ان بیماریوں کے بارے میں آگاہ کیاجائے ۔پولیو ہیپاٹائٹس اور اس جیسے دیگر امراض کی ویکسینیشن کے لئے موبائل یونٹس کی تعداد بڑھائی جائے اور بیماریوں کے تدراک اور حفاظتی اقدامات کے بارے میں سٹریچرز چھپوا کر ملکی ریگولیشن اور کابینہ ڈویژن مقامی سطح پر ہیپاٹائٹس کی ویکسین کی تیاری کا جائزہ لیں۔

کمیٹی نے20دسمبر کو کینٹ ڈویژن،کیڈ اور وزارت بین الصوبائی کے حکام کو طلب کیا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعدصوبوں کو منتقل کی گئی وزارتوں کے ذیلی اداروں اور محکموں کی از سر نو الائمنٹ کا جائزہ لیاجاسکے۔کمیٹی نے پلاننگ ڈویژن کو ایڈز کنٹرول پروگرام کے ملازمین کو بھی 15دن کے اندر گزشتہ6ماہ سے رکی ہوئی تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم دیا ہے ۔کمیٹی نے صحت کے قومی پروگراموں کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ٹرانسپورٹ کا غلط استعمال روکنے اور گاڑیوں کا ریکارڈ کمیٹی میں پیش کرے۔

وزارت بین الصوبائی کو ہدایت کی گئی کہ وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ ملکر ملک بھر میں عطائی حکیموں اور نا ڈگری ڈاکٹرز کے خلاف آپریشن کروائے اور غیر قانونی میڈیکل سٹورز بندکرائے۔کمیٹی نے صحت کے قومی پروگراموں کے حکام کو ٹول فری یو اے این ہیلپ لائن کی سہولت شروع کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ اگرکوئی ان بیماریوں کے بار ے اور انکے علاج کے بارے معلوم کرنا چاہے تو اسے کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ صحت کے قومی پروگراموں کی95فیصد فنڈنگ عالمی ڈونرز کرتے ہیں جبکہ5فیصد فنڈنگ حکومت کے ذمے ہے ۔حکومت کئی سالوں سے5فیصد فنڈنگ کرنے میں بھی ناکام ہوگئی ہے جس پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا ۔کمیٹی کے رکن مہتاب عباسی نے کہاکہ صحت کے ان قومی پروگراموں کاکوئی والی وارث نہیں ہے ،نہ صوبے ان پروگراموں کے لئے تیار ہیں ۔ایسی وفاقی حکومت صوبوں کو انکی صلاحیت میں اضافے کے لئے کوئی فنڈز اور نا ہی کوئی گائنڈنس فراہم کررہی ہے ۔

نیشنل ٹی بی پروگرام کے نیشنل منیجر نے کمیٹی کو بتایا کہ پروگرام کے پاس آئندہ 3سالوں کے لئے12ارب روپے کے فنڈز دستیاب ہیں ۔ایڈز کنٹرول پروگرام کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں ایڈز کے رجسٹرڈ 6ہزار8سو مریضوں میں سے 3ہزار500 کو ویکسین فراہم کے لئے ایڈز کے1370مریض اسلام آباد میں2332مریض ،پنجاب میں1883مریض ،سندھ میں1105مریض اور خیبرپختوانخوا میں پائے گئے صوبہ بلوچستان میں کوئی کیس رجسٹرڈ نہیں ہوا۔
06/12/2012 - 20:01:17 :وقت اشاعت