بند کریں
صحت صحت کی خبریںایشیائی اقتصادی قوت 2030 تک امریکہ اور یورپ کو پیچھے چھوڑ دے گی ،اقتصادی ترقی میں چین 2030 تک ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 11/12/2012 - 21:08:15 وقت اشاعت: 11/12/2012 - 20:54:44 وقت اشاعت: 11/12/2012 - 19:40:52 وقت اشاعت: 11/12/2012 - 19:38:47 وقت اشاعت: 11/12/2012 - 19:36:36 وقت اشاعت: 11/12/2012 - 13:50:34 وقت اشاعت: 11/12/2012 - 13:00:28 وقت اشاعت: 10/12/2012 - 22:39:59 وقت اشاعت: 10/12/2012 - 20:11:38 وقت اشاعت: 10/12/2012 - 20:11:38 وقت اشاعت: 10/12/2012 - 16:49:49

ایشیائی اقتصادی قوت 2030 تک امریکہ اور یورپ کو پیچھے چھوڑ دے گی ،اقتصادی ترقی میں چین 2030 تک امریکہ کو پیچھے چھوڑدیگا ،یورپ، جاپان اور روس کی معیشتیں گراوٹ کا شکار ہیں، عالمی معیشت کی صحت کا دار و مدار بتدریج ترقی پذیرممالک کی ترقی سے جڑ جائے گا،چین کی اقتصادی برتری کے باوجود عالمی مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے امریکہ کی سپر پاور کی حیثیت برقرار رہے گی، امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی رپورٹ،سب سے بڑی اقتصادی طاقت ہونا اہم ہے ،یہ ضروری نہیں کہ سب سے بڑی اقتصادی طاقت ہمیشہ سپر پاور ہو،نیشنل انٹیلی جنس کونسل کے کونسلرکی پریس کانفرنس

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔11دسمبر 2012ء )امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل نے کہا ہے کہ ایشیائی اقتصادی قوت 2030 تک امریکہ اور یورپ کو پیچھے چھوڑ دے گی ،اقتصادی ترقی میں چین 2030 تک امریکہ کو پیچھے چھوڑدیگا ،یورپ، جاپان اور روس کی معیشتیں گراوٹ کا شکار ہیں، عالمی معیشت کی صحت کا دار و مدار بتدریج ترقی پذیرممالک کی ترقی سے جڑ جائے گا،چین کی اقتصادی برتری کے باوجود عالمی مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے امریکہکی سپر پاور کی حیثیت برقرار رہے گی ۔

امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی جانب سے پیرکو جاری رپورٹ گلوبل ٹرینڈز 2030، آلٹرنیٹوورلڈ کے مطابق یورپ، جاپان اور روس کی معیشتیں گراوٹ کا شکار ہیں اور عالمی معیشت کی صحت کا دار و مدار بتدریج ترقی پذیرممالک کی ترقی سے جڑ جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق چین کی اقتصادی برتری کے باوجود عالمی مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے امریکا کی سپر پاور کی حیثیت برقرار رہے گی۔

رپورٹ کے مطابق چین بھی آنے والی دو دہائیوں میں امریکہ کی جگہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔گلوبل ٹرینڈز یا عالمی رجحانات 2030 نامی اس رپورٹ میں زیادہ عمر کی آبادی والے ترقی یافتہ ممالک میں ترقی کی سست رفتار اور گرتے ہوئے معیارِ زندگی کے بارے میں بھی متنبہ کیا گیا ہے۔یہ رپورٹ ہر چار برس بعد جاری کی جاتی ہے اور اس کا مقصد ان بڑے رجحانات پر نظر رکھنا ہے جو دنیا کی شکل بدل رہے ہیں۔

یہ اس سلسلے کی مجموعی طور پر پانچویں رپورٹ ہے۔قومی انٹیلی جنس کونسل نے کہاہے کہ اگر آبادی کے تناسب، مجموعی قومی پیداوار، عسکری اخراجات اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو مدِنظر رکھا جائے تو دو ہزار تیس تک ایشیائی ممالک کی مجموعی طاقت براعظم یورپ اور شمالی امریکہ کے ممالک کی مجموعی طاقت سے بڑھ جائے گی۔تاہم کونسل نے کہاہے کہ اسے یقین نہیں کہ چین امریکہ جیسی سپر پاور بنے گا اور عالمی معاملات پر دیگر ممالک سے اتحاد قائم کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق دو ہزار تیس سے چند برس قبل ہی چین بطور سب سے بڑی معیشت امریکہ کی جگہ لے لے گا اور اس کے برعکس یورپی ممالک، جاپان اور روس کی معیشتیں آہستہ آہستہ رو بہ زوال رہیں گی۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل انٹیلیجنس کونسل کے کونسلر میتھیو بروز نے کہا کہ سب سے بڑی اقتصادی طاقت ہونا اہم ہے لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ سب سے بڑی اقتصادی طاقت ہمیشہ سپر پاور بھی ہو۔

کونسل نے اپنی رپورٹ میں جن بڑے رجحانات کی نشاندہی کی ہے ان میں ممالک کی انفرادی طاقت کے علاوہ طاقت کے توازن کی مغرب سے مشرق اور جنوب میں منتقلی بھی ہے۔رپورٹ میں معمر معاشروں، متوسط طبقے میں اضافے اور قدرتی وسائل کی کمی کو کلیدی عالمی رجحانات قرار دیا گیا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق آئندہ بیس برس میں جہاں امریکہ توانائی کے معاملے میں خودکفیل ہو جائے گا وہیں دنیا میں شہروں میں رہائش پذیر افراد کی تعداد تیزی سے بڑھے گی۔کونسل نے کہا ہے کہ مستقبل میں امریکہ کا عالمی کردار آئندہ دو دہائیوں میں دنیا کی شبیہ کو بدلنے میں ڈرامائی کردار ادا کر سکتا ہے۔
11/12/2012 - 13:50:34 :وقت اشاعت