ملک میں کرپشن سے متعلق چیئر مین نیب کی رپورٹ حقائق کے منافی ہے ، فصیح بخاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھامگر ان کی رپورٹ سے مایوسی ہوئی زراعت پر ٹیکس نہ لگنے، ویلتھ ٹیکس کے عدم نفاذ اور لوڈ شیڈنگ سے ہونے والے نقصان کو کرپشن کہنا درست نہیں ، صدارتی ترجمان و پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابرکاسینیٹ میں نکتہ اعتراض پراظہارخیال، چےئر مین نیب کوکمیٹی میں طلب کر کے کرپشن کی تعریف پوچھ لی جائے ، چیئر مین سینیٹ سید نیئرحسین بخاری

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔14دسمبر۔ 2012ء) صدارتی ترجمان و پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ملک میں کرپشن سے متعلق چےئر مین نیب کی رپورٹ کو افسوسناک اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فصیح بخاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا تاہم ان کی رپورٹ سے مایوسی ہوئی ہے زراعت پر ٹیکس نہ لگنے، ویلتھ ٹیکس کے عدم نفاذ اور لوڈ شیڈنگ سے ہونے والے نقصان کو کرپشن کہنا درست نہیں جس پر چےئر مین سینیٹ سیدنیئر حسین بخاری نے کہاہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ چےئر مین نیب کرپشن کی نئی تعریف متعارف کرائیں انہیں کمیٹی میں طلب کر کے کرپشن کی تعریف پوچھ لی جائے۔

وہ جمعہ کو ایوان بالا میں نکتہ اعتراض پراظہارخیال کررہے تھے ۔سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ چیئرمین نے کرپشن کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے، پہلے چیئرمین نے کہا کہ روزانہ 7 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس پر ایک رپورٹ پیش کریں گے، ہم نیب کی رپورٹ کے انتظار میں تھے مگر کل جو انہوں نے رپورٹ پیش کی ہے وہ اڑھائی صفحے کی رپورٹ ہے، وہ مفصل نہیں تھی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اخبارات میں جس چیز کو کرپشن کا نام دیا گیا ہے اس پر انہیں دکھ ہوا ہے کیونکہ یہ کہا گیا ہے کہ اگر زراعت پر کوئی ٹیکس نہیں ہے تو اس سے اتنی رقم ضائع ہو گئی ہے، زراعت پر ٹیکس لگانا یا نہ لگانا پارلیمان کا کام ہے، اگر نہیں لگا تو غلط ہے لیکن یہ کہنا کہ ٹیکس نہیں لگا تو یہ کرپشن ہے، یہ غلط ہے، دوسرا چیئرمین نے کہا کہ ویلتھ ٹیکس نافذ نہیں ہے اگر ہوتا تو اس سے اتنی رقم حاصل ہوتی، ویلتھ ٹیکس بھی تو قانون کے ذریعے ہی لگنا ہے، ا گر یہ ٹیکس نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی رقم کرپشن کی نذر ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی 9 فیصد ہے، یہ 18 فیصد ہو سکتی ہے چونکہ 18 فیصد نہیں ہے اس لئے اس مد میں بھی 7 ارب روپے کا روزانہ نقصان ہو رہا ہے لہذا یہ بھی کرپشن ہے۔ اس کے علاوہ لوڈ شیڈنگ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور اس سے نقصان ہو رہا ہے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ ملک میں کرپشن نہیں ہے، ملک میں کرپشن ہے، وہ چیئرمین نیب کا احترام کرتے ہیں، انہیں توقع تھی کہ وہ کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے تجاویز دیں گے لیکن نیب کی رپورٹ سے انہیں مایوسی ہوئی ہے، جس پر چےئر مین سینٹ نیر حسین بخاری نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ چےئر مین نیب کرپشن کی نئی تعریف متعارف کرائیں انہیں کمیٹی میں طلب کر کے کرپشن کی تعریف پوچھ لی جائے ،مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ ملک میں کرپشن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر قابو پانے کے لئے موثر اقدامات کرے، پیپلزپارٹی کو روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔

Your Thoughts and Comments