بند کریں
صحت صحت کی خبریںجیکب آباد،خسرے کی وبا نے تباہی مچا دی،ضلع بھر میں 8بچے جاں بحق ،سینکڑوں بچے زندگی اور موت ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 16/12/2012 - 13:05:25 وقت اشاعت: 16/12/2012 - 13:03:58 وقت اشاعت: 15/12/2012 - 22:47:52 وقت اشاعت: 15/12/2012 - 22:11:02 وقت اشاعت: 15/12/2012 - 22:03:57 وقت اشاعت: 15/12/2012 - 22:03:41 وقت اشاعت: 15/12/2012 - 13:07:00 وقت اشاعت: 14/12/2012 - 20:05:09 وقت اشاعت: 14/12/2012 - 20:04:30 وقت اشاعت: 14/12/2012 - 18:59:12 وقت اشاعت: 14/12/2012 - 18:57:42

جیکب آباد،خسرے کی وبا نے تباہی مچا دی،ضلع بھر میں 8بچے جاں بحق ،سینکڑوں بچے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا، مقامی اور عالمی ادارے صحت خاموش ،مزید ہلاکتوں کا خدشہ

جیکب آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔15دسمبر۔ 2012ء)جیکب آباد میں خسرے کی وباء نے تباہی مچا دی،ضلع بھر میں 8بچے جاں بحق ،سینکڑوں بچے مبتلا،زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا، مقامی اور عالمی ادارے صحت خاموش ،مزید ہلاکتوں کا خدشہ ۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد ضلع میں خسرے کی وباء پھوٹ پڑی ہے جس کے باعث سینکڑوں کی تعداد میں بچے اس وباء میں مبتلا ہوچکے ہیں ،ضلع بھر میں چند روز کے اندر خسرہ کی وباء کے باعث 8بچے جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ سینکڑوں بچے اس بیماری میں مبتلا ہوکر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، جیکب آباد کی تحصیل گڑہی خیرو کے قصبہ شکل کھوسو میں دو بھائی 5سالہ صدام اور 3سالہ عزیز اللہ ولد معشوق کھوسو خسرہ میں مبتلا ہوکر فوت ہوگئے،گڑہی خیرو کے قصبہ عزیز اللہ شاہ میں 16سالہ وزیر علی کٹوہربھی خسرہ کی وجہ سے جاں بحق ہوگیا ہے ، جبکہ تحصیل ٹھل کے قصبہ گڑہی حسن سرکی میں 3سالہ کامران سرکی ،ٹھل شہر کے ریاض چوک کی6سالہ حاجانی بھٹی،گولہ محلہ کے ذیشان سرکی اور قصبہ مولا بخش کنرانی میں 7سالہ فریدہ جعفری ،تنگوانی کے قصبہ امیر بخش میں2سالہ ہابن خسرہ کی بیماری میں مبتلا ہوکر جاں بحق ہوگئی ہے ،جیکب آباد کے مختلف علاقوں میں خسرہ کی بیماری نے تباہی مچادی ہے جس کے باعث عوام میں خوف وہراس پھیلا ہوا ہے ،جیکب آباد میں خسرہ کی تباہ کاریوں کا محکمہ صحت نے کوئی نوٹس نہیں لیا ہے ضلع بھر میں خسرہ میں مبتلا بچوں کے لیے کوئی سینٹر قائم نہیں کیا گیا ہے ،صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے بھی 8بچوں کی ہلاکت اور سینکڑوں بچوں کے مبتلا ہونے کے باوجود کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں ،جس کے باعث مزید ہلاکتوں کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ،بچوں کی بیماری کے ماہر ڈاکٹر عبدالرشید میمن نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ خسرہ کی وباء ایک بچے سے دوسرے بچے میں جلد منتقل ہوجاتی ہے ،اور وباء کے پھیلنے کی وجہ سے ہلاکتوں کا خدشہ ہے، انہوں نے بتایا کہ ویکسین نہ لگنے کی وجہ سے یہ بیماری بچوں کی جان لے سکتی ہے ،پولیو مہم کے دوران وٹامن Eکے کیپسول دئیے جاتے ہیں اگر وہ بچوں کو دئیے جاتے تو یہ صورتحال نہ ہوتی،انہوں نے کہا کہ EPIپروگرام میں بچے کو 9ماہ اور 15ماہ کی عمر میں خسرہ کی ویکسین دینے کا حکم ہے ،ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایک بار ویکسین دی جاتی تھی مگر اب حکومت پاکستان کے صحت کے ادارے نے بچوں کو 2بار ویکسین دینے اعلان کیا ہے تاکہ بچوں کو اس جان لیوا مرض سے بچایا جاسکے،انہوں نے کہا کہ اس بیماری کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے اور فوری طور پر سینٹر قائم کیا جائے۔

15/12/2012 - 22:03:41 :وقت اشاعت