بند کریں
صحت صحت کی خبریںمعاشرے کو پولیو سے پاک کرنے کیلئے موذی بیماری کیخلاف ہماری جنگ جاری رہے گی،یہ جنگ جیتنا ہماراقومی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 25/12/2012 - 13:26:14 وقت اشاعت: 25/12/2012 - 13:25:49 وقت اشاعت: 24/12/2012 - 20:34:37 وقت اشاعت: 24/12/2012 - 20:33:07 وقت اشاعت: 24/12/2012 - 19:02:54 وقت اشاعت: 24/12/2012 - 18:59:43 وقت اشاعت: 23/12/2012 - 22:58:53 وقت اشاعت: 23/12/2012 - 22:04:24 وقت اشاعت: 23/12/2012 - 18:52:31 وقت اشاعت: 23/12/2012 - 16:14:05 وقت اشاعت: 23/12/2012 - 15:54:22

معاشرے کو پولیو سے پاک کرنے کیلئے موذی بیماری کیخلاف ہماری جنگ جاری رہے گی،یہ جنگ جیتنا ہماراقومی فریضہ ہے، اس لئے پولیو مہم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،نہ ہی اس میں رکاوٹوں کو برداشت کیا جائیگا ،عوام میں اس بیماری کیخلاف شعور اجاگر کرنے کیلئے 28دسمبر کو شہباز بلڈنگ سے جیم خانہ ریلی نکالی جائے گی،ڈپٹی کمشنر حیدرآباد آغا شاہنواز بابر کاخطاب

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔24دسمبر۔ 2012ء)ڈپٹی کمشنر حیدرآباد آغا شاہنواز بابر نے کہا ہے کہ معاشرے کو پولیو سے پاک کرنے کیلئے اس موذی بیماری کیخلاف ہماری جنگ جاری رہے گی اور یہ جنگ جیتنا ہماراقومی فریضہ ہے، اس لئے پولیو مہم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا اور نہ ہی اس میں رکاوٹوں کو برداشت کیا جائیگا ،عوام میں اس بیماری کیخلاف شعور اجاگر کرنے کیلئے 28دسمبر کو شہباز بلڈنگ سے جیم خانہ ریلی نکالی جائے گی‘ وہ شہباز ہال شہباز بلڈنگ حیدرآباد میں پولیو مہم اورپولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو تحفظ اور کیے گئے انتظاما ت کا جائزہ لینے سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے‘ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ضلع میں امن امان صورتحال بہتر ہے اوریہاں پولیو مہم سے منسلک ورکرز کو کوئی بھی خطرہ نہیں ہے تاہم پولیو کے سے بچاوٴ کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے گا ‘ ڈپٹی کمشنر حیدرآباد نے رینجرز ،پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں تعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کی معرفت پولیو ٹیموں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کریں اور ڈسٹرکٹ فوکل پرسن کی جانب سے بنائی گئی یونین کونسلوں میں پولیس پیٹرولنگ کو یقینی بنایا جائے‘ انہوں نے اجلاس کے تمام شرکاء کو ہدایت کی کہ وہ اپنا پلان تشکیل دیں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے رہ نہ جائے اور نہ ہی کوئی ناخوشگوار واقعا رونما ہو ، انہوں نے چاروں تعلقوں کے اسسٹنٹ کمشنر ون کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ تعلقوں میں پولیو ٹیموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان معاون کا کردار ادا کریں تاکہ کوئی بھی پانچ سال تک کی عمر کا بچہ پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے‘ انہوں نے تمام ٹی ایم اوز کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اپنے عملے کی فہرست انہیں پیش کریں تاکہ بوقت ضرورت انہیں طلب کیا جا سکے، انہوں نے اجلاس میں شرکت کرنے والے محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ خصوصی پولیو مہم کیلئے قبل ازوقت پلان تیار کر کے انہیں پیش کریں‘ انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو عابد سلیم قریشی کو حیدرآباد ضلع کیلئے پولیو مہم کا مانیٹرنگ آفیسر مقرر کیا گیا ہے ‘ انہوں نے واضح کیا کہ پولیو مہم کے دوران متعلقہ عملے کی کوتاہی پر انکے خلاف سخت کاروائی کی جائیگی ‘ ڈی سی حیدرآباد نے ضلع حیدرآباد کے تمام ایڈمنسٹریٹر کو ہدایت کی کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں آوارہ کتوں جو کہ عام لوگوں کی پریشانی کا باعث ہیں ختم کروانے کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دیں اور انکے علاقوں میں آنیوالی پولیو ٹیموں سے بھر پور تعاون کریں ‘اس موقع پر اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ فوکل پرسن فار پولیو ڈاکٹر محمد اشرف میمن نے بتایا کہ 17دسمبر 2012سے شروع ہونے والی پولیو مہم کے دوران298947پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے کاحدف مقرر کیا گیا تھا لیکن ملک کے کچھ حصوں میں دہشت گردی کے واقعات کے نتیجے میں پولیو ٹیموں کے ورکرز کے شہید ہونے کے بعد گذشتہ پولیو مہم کا راوٴنڈ صرف دو دن چلایا گیا ہے جس میں 66فیصد یعنی 197392بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلائے گئے جبکہ باقی 101555بچے پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پینے سے محروم ہوئے ان بچوں کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے کیلئے 29اور 30دسمبر 2012کو پولیو کی خصوصی مہم شروع کی جا رہی ہے ،انہوں نے اجلاس کو مزید بتایا کہ 17دسمبر کی پولیو مہم کے رہ جانے والے ایک دن کے بدلے میں اب دو دن پولیو کی مہم چلائی جا رہی تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پینے سے محروم نہ رہ سکے ۔

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ضلع کی رہ جانے والی یونین کوٴنسلوں کی فہرست تمام متعلقہ فریقین کو مہیا کی گئی ہے تاکہ اس خصوصی مہم کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جا سکے ، اجلاس میں ڈی ایچ او حیدرآباد ڈاکٹر کاظم رضا شاہ ، اسسٹنٹ کمشنر ز کے علاوہ ایڈمنسٹریٹرز ، ٹی ایم اوز ،یونیسیف ، صحت کے عالمی ادارے کے نمائندوں کے علاوہ تعلیم ، صحت ، سماجی بہبود سمیت دیگر محکموں کے افسران نے بھی شرکت کی
24/12/2012 - 18:59:43 :وقت اشاعت