پاکستان میں 40 فیصد ادویات جعلی ہیں، عالمی ادارہ صحت

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 29دسمبر 2012ء)عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دستیاب ہر قسم کی تیس سے چالیس فیصد دوائیں جعلی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق جعلی ادویات کی تیاری میں پاکستان کا دنیا بھر میں تیرہواں نمبر ہے۔ ایسی ادویات بالکل جعلی ہوتی ہیں یا پھران کے استعمال سے علاج کے بجائے الٹا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔

(جاری ہے)

ان میں کینسر سے لے کرنزلہ زکام جیسے عام امراض کے علاج میں استعمال ہونے والی دوائیں شامل ہیں۔ جعلی ادویات کی بیشتر مقدار لاہور، کراچی ، ملتان اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں تیار ہوتی ہے۔ پاکستان کی بیشترآبادی اپنے صحت کے بجٹ کا 77 فیصد سے زائد ادویات کی خریداری پرخرچ کرتی ہے۔ جعلی ادویات کی بھرمار کے باعث لوگوں کی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

Your Thoughts and Comments