بند کریں
صحت صحت کی خبریںپنجاب،2012 کے دوران علاج کیلئے لی جانیوالی ”ادویات “ سے150افراد جاں بحق،کھانسی کے شربت کے زیادہ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 30/12/2012 - 20:59:12 وقت اشاعت: 30/12/2012 - 20:59:12 وقت اشاعت: 30/12/2012 - 16:38:33 وقت اشاعت: 30/12/2012 - 14:51:02 وقت اشاعت: 30/12/2012 - 14:19:47 وقت اشاعت: 29/12/2012 - 20:36:38 وقت اشاعت: 29/12/2012 - 20:33:58 وقت اشاعت: 29/12/2012 - 19:56:17 وقت اشاعت: 29/12/2012 - 19:51:34 وقت اشاعت: 29/12/2012 - 19:51:34 وقت اشاعت: 29/12/2012 - 19:50:49

پنجاب،2012 کے دوران علاج کیلئے لی جانیوالی ”ادویات “ سے150افراد جاں بحق،کھانسی کے شربت کے زیادہ استعمال سے50کی جان گئی ،ڈاکٹروں کی ہڑتالوں سے ہسپتالوں کی ایمرجنسیاں بند ہونے سے جہاں نہ صرف علاج معالجہ متاثر ہوا وہیں ڈاکٹروں کو تشدد اور گرفتاریوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، رپورٹ

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔29دسمبر۔ 2012ء)پنجاب میں2012 کے دوران علاج کیلئے لی جانیوالی ”ادویات “ سے150افراد جاں بحق ہوئے جبکہ کھانسی کے شربت کے زیادہ استعمال سے پچاس سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، ڈاکٹروں کی ہڑتالوں سے ہسپتالوں کی ایمرجنسیاں بند ہونے سے جہاں نہ صرف علاج معالجہ متاثر ہوا وہیں ڈاکٹروں کو تشدد اور گرفتاریوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال کی ابتدا ہی کوئی اچھی نہ تھی جنوری میں ہی پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں کراچی کی کمپنی کی طرف سے فراہم کی گئی دوا آئیسوٹیب کی وجہ سے ڈیڑھ سو سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ لندن سکول آف فارمیسی کی طرف سے آئیسوٹیب میں ملیریا کی دوا پیرامیتھامین ملائے جانے کی تصدیق اور کمپنی کی طرف سے غلطی ماننے کے باوجود ابھی تک فیکٹری مالکان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکی اور ملزمان آزاد پھر رہے ہیں۔

رواں برس ہی کھانسی کے ٹائینو سیرپ کی زائد مقدار پینے سے نشے کے عادی انیس افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اب تک کی تحقیقات میں ٹائینو سیرپ سے درست قرار دیئے جانے اور ہلاکتوں کی وجہ سامنے نہ آنے کے باوجود پنجاب حکومت نے فیکٹری مالکان کے خلاف قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کروا دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ابھی پنجاب حکومت پی آئی سی کی ادویات سے ہونے والی ہلاکتوں سے سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ ڈاکٹرز میدان میں آ گئے اور ہسپتالوں میں علاج معالجہ بند کر دیا جس پر پنجاب پولیس حرکت میں آئی درجنوں ڈاکٹروں کو گرفتار کر کے دور دراز جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے پولیس ایکشن کے بعد پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی سمیت تمام شعبے بند کر دیئے گئے۔

علاج معالجے کی سہولیات نہ ملنے سے متعدد افراد جاں بحق بھی ہوئے مگر کسی کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہ کئی گئی اور اس کے برعکس ہڑتالی ڈاکٹرز یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ ہڑتال کے دوران کوئی شخص علاج نہ ملنے سے جاں بحق بھی ہوا ہے۔ پنجاب حکومت کے بہتر اقدامات کی وجہ سے ایک بات ضرور ہوئی کہ سال دو ہزار گیارہ میں ڈینگی جو سینکٹروں افراد کو موت کی وادی میں لے گیا تھا اور ہزاروں افراد اس سے متاثر ہوئے تھے اس پر قابو پا لیا گیا۔ سال دو ہزار بارہ تو پنجاب کے عوام کے لئے مجموعی طور پر اچھا ثابت نہیں ہوا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والا سال عوام کے لئے اچھی امیدیں لاتا ہے یا پھر عوام کو اسی طرح مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
29/12/2012 - 20:36:38 :وقت اشاعت