بند کریں
صحت صحت کی خبریںسکھر،سندھ کے وزیر صحت نے خسرہ کے پھیلنے کا سختی سے نو ٹس لے لیا، غفلت بر تنے پر ای ڈی او ہیلتھ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 01/01/2013 - 13:24:26 وقت اشاعت: 01/01/2013 - 13:23:07 وقت اشاعت: 01/01/2013 - 11:57:08 وقت اشاعت: 31/12/2012 - 22:56:09 وقت اشاعت: 31/12/2012 - 22:53:11 وقت اشاعت: 31/12/2012 - 22:52:52 وقت اشاعت: 31/12/2012 - 22:52:02 وقت اشاعت: 31/12/2012 - 18:56:01 وقت اشاعت: 31/12/2012 - 18:48:50 وقت اشاعت: 31/12/2012 - 18:46:38 وقت اشاعت: 31/12/2012 - 18:40:49

سکھر،سندھ کے وزیر صحت نے خسرہ کے پھیلنے کا سختی سے نو ٹس لے لیا، غفلت بر تنے پر ای ڈی او ہیلتھ شکا رپور سمیت چھ افسران معطل

سکھر (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔31دسمبر۔ 2012ء)سندھ کے وزیر صحت نے اندرون سندھ خسرہ کے پھیلنے کا سختی سے نو ٹس لے لیا؛ غفلت بر تنے پر ای ڈی او ہیلتھ شکا رپور سمیت چھ افسران کو معطل کردیا، تفصیلات کے مطابقسندھ کے وزیر صحت ڈا کٹر صغیر احمد نے سکھر سمیت اندرون سندھ یک دیگر اضلاع شکا رپور ، خیر پور، جیکب آباد ، لا ڑکا نہ ، کشمور، قمبرشہداد کوٹ گھو ٹکی و دیگر میں خسرے کے پھیلنے اور وہاں پر بچوں کی بڑھتی ہوئی اموات کا سختی سے نو ٹس لے لیا ہے نو ٹس لینے کے بعد انہوں نے فوری طور پر سکھر پہنچ کر اندوران سندھ کے ہیلتھ افسران کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا جس میں سیکریٹری صحتآفتاب کھتری ، ڈی جی ہیلتھ سندھ و دیگر افسران نے شر کت کی اجلا س کے دوران ان کو خسرے کی بیماری اور اس سے ہو نے والی اموات کے با رے میں بریفنگ دی گئی صو بائی وزیر صحت نے اس مو قعپر خسرے کی وبا پھیلنے کے دوراں غفلت بر تنے پر ای ڈی او صحت شکا رپور، سمیت اندرون کے چھ افسران کو معطل کر دیا معطل ہو نے وا لے دیگر افسران میں ٹی ایچ او لا ڑکانہ و صا لح پٹ، ڈی او سر ویلنس سکھر ، سکھر و لا ڑ کا نہ کے ڈی اوز پبلک ہیلتھ شامل ہیں اجلاس کے دوران انہوں نے خٰسرے کے حوا لے سے شروع کی گئی مہم کو تیز تر کرنے کے احکا ما ت جا ری کیے بعد ازاں صو بائی وزیر صحت ڈا کٹر صغیر احمد نے را بطے پر بتا یا کہ میں خود اب سکھر پپہنچا ہوں اور تین روز تک یہاں رہ کر خود اس حوا لے سے کیے جا نے وا لے اقدامات کی نگرانی کروں گا اور متا ثرہ علاقوں کا دورہ کر وں گا دریں اثناء وزیر صحت نے سکھرضلع کی متا ثرہ تحصیل صا لح پٹ کا دورہ کیا اور وہاں پر متا ثرہ بچوں کو دی جا نے والی طبی امداد کی نگرانی کی
31/12/2012 - 22:52:52 :وقت اشاعت