بند کریں
صحت صحت کی خبریںمحکمہ صحت کی غفلت کے باعث خسرہ پر قابو نہ پایا جاسکا، سندھ میں مزید 12بچے جاں بحق،ملک بھر میں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 09/01/2013 - 18:34:01 وقت اشاعت: 09/01/2013 - 14:38:48 وقت اشاعت: 09/01/2013 - 12:55:49 وقت اشاعت: 08/01/2013 - 23:21:56 وقت اشاعت: 08/01/2013 - 23:03:58 وقت اشاعت: 08/01/2013 - 23:02:49 وقت اشاعت: 08/01/2013 - 15:09:56 وقت اشاعت: 08/01/2013 - 14:15:56 وقت اشاعت: 07/01/2013 - 21:20:10 وقت اشاعت: 07/01/2013 - 20:36:15 وقت اشاعت: 07/01/2013 - 20:36:15

محکمہ صحت کی غفلت کے باعث خسرہ پر قابو نہ پایا جاسکا، سندھ میں مزید 12بچے جاں بحق،ملک بھر میں تعداد 327 ہوگئی،محکمہ صحت کی صرف صوبہ سندھ میں ڈھائی سو ہلاکتوں کی تصدیق

کراچی/سکھر/شکار پور/ گھوٹکی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔8جنوری۔2013ء)محکمہ صحت کی غفلت کے باعث خسرہ کی وباء نے منگل کو سندھ میں مزید 12ماوٴں کی گود اجاڑ دی۔موذی مرض سے ملک بھر میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد327 ہوگئی۔محکمہ صحت نے صرف صوبہ سندھ میں مجموعی طور ڈھائی سو ہلاکتوں کی تصدیق کردی ہے ۔اندرون سندھ پھوٹنے والی خسرے کی وباء اب ملک کے چاروں کونوں میں پھیل چکی ہے۔

سکھر میں منگل کو بھی 2بچے مہلک مرض کی نذر ہوگئے جس کے بعد یہاں جاں بحق بچوں کی تعداد 74 ہوگئی۔ کندھکوٹ میں اب تک 123بچے موت کے آغوش میں جا چکے ہیں۔ شکار پورمیں بھی 4 بچے جاں بحق ہوگئے ہیں جس کے بعد یہاں جاں بحق بچوں کی تعداد 24 ہوگئی۔ گھوٹکی میں بھی 4 بچے جان کی بازی ہار گئے۔ یہاں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 30 تک جاپہنچی۔ خیر پور میں 35 بچے دنیا سے رخصت ہوگئے۔

لاڑکانہ اور ٹھل میں آٹھ ، آٹھ بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ نوشہرو فیروز، جیکب آباد، حیدر آباد، دادو اور نواب شاہ میں بھی 12 بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔ خسرے کی وبا نے بلوچستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پشین میں تین جبکہ قلعہ سیف اللہ میں دو بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔ مہمند ایجنسی کے علاقوں سلطان خیل اورغازی کور میں بھی ایک ہفتے کے دوران 2 بچے جاں بحق ہوئے۔

پنگریو، جامشورو، مورو، ٹھٹھہ کے علاوہ پنجاب کے علاقے چنی گوٹھ میں بھی ایک، ایک بچہ اس موذی مرض کی نذر ہوگیا ہے۔ ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر امداد اللہ صدیقی کے مطابق سندھ میں خسرہ سے جاں بحق ہونیوالے بچوں کی تعداد250 ہو گئی۔ صرف کراچی میں سولہ بچے خسرے کے باعث جاں بحق ہوئے۔محکمہ صحت کی جانب سے سرکاری اسپتالوں کے لیے ویکسینز بھیجی گئی ہیں۔ تاہم پھر بھی صورتحال کنٹرول سے باہر ہے ، اسپتال خسرہ سے متاثرہ بچوں سے بھرے پڑے ہیں ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی بچہ مرض میں مبتلا ہے علاج معالجے کا مربوط نظام نظر نہیں آرہا لوگ راہداریوں میں بیٹھے علاج معالجہ کرانے پر مجبور ہیں۔
08/01/2013 - 23:02:49 :وقت اشاعت