بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاکستان میں فوڈ سیکورٹی اور نیوٹریشن کی صورتحال خراب ، بچوں اور خواتین غذائی قلت کا شکار، ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 23/01/2013 - 23:56:55 وقت اشاعت: 23/01/2013 - 23:55:45 وقت اشاعت: 23/01/2013 - 23:54:48 وقت اشاعت: 23/01/2013 - 21:42:51 وقت اشاعت: 23/01/2013 - 21:42:22 وقت اشاعت: 23/01/2013 - 21:36:29 وقت اشاعت: 23/01/2013 - 21:36:05 وقت اشاعت: 23/01/2013 - 18:49:48 وقت اشاعت: 23/01/2013 - 18:49:48 وقت اشاعت: 23/01/2013 - 16:42:05 وقت اشاعت: 23/01/2013 - 15:52:55

پاکستان میں فوڈ سیکورٹی اور نیوٹریشن کی صورتحال خراب ، بچوں اور خواتین غذائی قلت کا شکار، مختلف پروگرامز کیلئے فنی اور مالی امداد فراہم کر رہے ہیں،محکمہ صحت بلوچستان نیوٹریشن کا پروگرام جاری ہے، ڈبلیو ایچ او پاکستان کے سربراہ کا غذائی سامان کی فراہمی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔23جنوری۔2013ء) عالمی ادارہ خوراک نے کہا ہے کہ پاکستان میں فوڈ سیکورٹی اور نیوٹریشن کی صورتحال انتہائی خراب ہے بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد غذائی قلت کا شکار ہیں اس سلسلے میں محکمہ صحت اور دیگر اداروں کیساتھ ملکر اقدامات کئے جارہے ہیں، محکمہ صحت بلوچستان نیوٹریشن کا پروگرام جاری ہے ۔عالمی ادارہ خوراک کو اس پروگرام کو چلانے میں محکمہ صحت بلوچستان، یونیسیف اور دیگر سرکاری تنظیموں کا تعاون حاصل ہے ، اس پروگرام کے تحت چھ ماہ سے لیکر 59ماہ تک کی عمر کے بچوں کو جو کہ غذائی قلت کا شکار ہیں ان کی مدد کی جارہی ہے ۔

بدھ کویہاں مقامی ہوٹل میں محکمہ صحت بلوچستان کو عالمی ادارہ خوراک کی جانب سے ایک کروڑ 62لاکھ مالیت کے غیر غذائی سامان کی فراہمی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او پاکستان کے سربراہ جان لک سبلو نے کہا کہ پاکستان میں فوڈ سیکورٹی اور نیوٹریشن کی صورتحال انہتائی خراب ہے بچے اور خواتین خاص طور پر غذائی قلت کا شکار ہیں ۔

عالمی ادارہ خوراک پاکستان میں ان تمام حکومتی اداروں کی استعداد ساز کاری پر توجہ دیتا ہے جن کیساتھ ہمارا براہ راست تعلق ہے ۔ ہم پاکستان میں جاری مختلف پروگرامز کے ذریعے غذائی قلت کا شکار آبادی کی غذائی ضروریات پورا کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان کے مختلف اداروں جن میں پی دی ایم اے اور این ڈی ایم اے ’ ،محکمہ صحت،محکمہ تعلیم اور وفاقی سطح کے منسٹری آف فوڈ سیکورٹی کیلئے استعداد ساز کاری کے حوالے سے فنی ااور مالی امداد فراہم کررہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ خوراک پاکستان نے نہ صرف محکمہ صحت بلوچستان کو سامان فراہم کیا ہے بلکہ محکمہ صحت اور غیر سرکاری تنظیموں کے تقریباً 1400سے زادء عملے کی تربیت میں بھی مالی معاونت کی ہے جس کی بدولت یہ عملے اپنا کام بہتر طور پر انجام دینے کے قابل ہوگیا ہے ۔WFPکیجانب سے محکمہ صحت بلوچستان کو فراہم کئے جانے والے سامان میں بلٹ پریشر آلات،ڈیلیوری ٹیبل، آکسیجن سیلنڈر، بچوں کے وزن کرنے کی مشین ،مریضوں اور ملے کیلئے فرنیچر ،کمپوٹرز ،پرنٹرز اور ایک لینڈ کروزر گاڑی شامل ہیں یہ سامان بنیادی صحت کے مراکز میں استعمال کیا جائیگا جہاں عالمی ادارہ خوراک اور محکمہ صحت بلوچستان نیوٹریشن کا پروگرام جاری ہے ۔

عالمی ادارہ خوراک کو اس پروگرام کو چلانے میں محکمہ صحت بلوچستان،UNICEF اور دیگر سرکاری تنظیموں کا تعاون حاصل ہے۔ جان لک سبلو نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت چھ ماہ سے لیکر 59ماہ تک کی عمر کے بچوں کو جو کہ غذائی قلت کا شکار ہیں عالمی ادارہ خوراک کیجانب سے غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کی جاتی ہے ۔ اسی پروگرام کے تحت غذائی قلت کے شکار بچوں کے بہن اور بھائیوں کو بھت توانائی سے بھرپور بسکٹ دئیے جاتے ہیں پروگرام کے استعفادہ حاصل کرنے والوں میں حاملہ اور دودھ پلانے والی مائیں بھی شامل ہیں ۔

عالمی ادارہ خوراک پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ سال2012کے دوران بلوچستان کے 12اضلاع کے 144بنیادی مراکز صحت پر 1400ٹن غذائیت سے بھرپور خوراک تقریباً 130,000افراد جن میں بچے اور خواتین شامل تھی میں تقسیم کی گئی ۔جبکہ سال2012میں آنے والے سیلاب کے دوران بلوچستان کے متاثر شدہ 2اضلاع جعفرآباد اور نصیرآباد میں تقریباً 56,000خاندانوں میں اب تک 11,500ٹن خوراکی سامان تقسیم کیا جاچکا ہے ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ صحت بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مسعود قادر نوشیروانی نے کہا کہ بلوچستان میں بنیادی صحت کے سہولیات کی فراہمی کیلئے محکمہ صحت بلوچستان دیگر اداروں کیساتھ عمل پیرا ہے انہوں نے عالمی ادارہ خوراک کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر اسی طرح عالمی اداروں کا تعاون جاری رہا تو جلد ہی صوبے بھر کے تمام علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنا لیا جائیگا ۔

تقریب کے اختتام کو عالمی ادارہ صحت پاکستان کے سربراہ جان لک سبلو نے ایک کروڑ 62لاکھ مالیت کا میڈیکل سامان محکمہ صحت بلوچستان کے ڈرائریکٹر جنرل ڈاکٹر مسعود قادر نوشیروانی کے حوالے کیا۔تقریب میں ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز فاروق اعظم، عالمی ادارہ خوراک پاکستان کے لاجسٹک ہیڈ آیاد نامان،چیف پرونشل آفیسر کوٹہ سمی رضا بیگ، یاسر حلیم،ڈبیلو ایچ او پاکستان کے ترجمان امجد جمال اور دیگر حکام نے شرکت کی ۔
23/01/2013 - 21:36:29 :وقت اشاعت