بند کریں
صحت صحت کی خبریںسالانہ ختم ِنبوت کانفرنس کے شرکاء کا اعلیٰ عہدوں پرتعینات قادیانیوں برطرف ،ملک میں اسلامی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 27/01/2013 - 22:49:32 وقت اشاعت: 27/01/2013 - 22:48:42 وقت اشاعت: 27/01/2013 - 17:02:20 وقت اشاعت: 27/01/2013 - 14:59:34 وقت اشاعت: 26/01/2013 - 21:31:21 وقت اشاعت: 26/01/2013 - 21:06:19 وقت اشاعت: 26/01/2013 - 14:48:33 وقت اشاعت: 24/01/2013 - 21:59:59 وقت اشاعت: 24/01/2013 - 21:35:40 وقت اشاعت: 24/01/2013 - 19:33:33 وقت اشاعت: 24/01/2013 - 19:25:47

سالانہ ختم ِنبوت کانفرنس کے شرکاء کا اعلیٰ عہدوں پرتعینات قادیانیوں برطرف ،ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ اورامریکہ نوازپالیسی ترک کرنے کاپرزورمطالبہ ،حکومت کی دوغلی پالیسی کے باعث قادیانیوں، گستاخان رسول اور ملحدین کی سرگرمیوں میں اضافہ ،پاکستان کی سا لمیت و خود مختاری خطرات سے دوچار ہوچکی ہے، ڈرون حملوں کے تسلسل نے بین الاقوامی سرحدوں کا تقدس پامال کردیا ، ملکی اسلامی نظریاتی حیثیت کے گرد شکوک وشبہات کا جال بچھا دیا گیا ہے، بے روز گاری ، مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بناکررکھ دی، دستور پاکستان کی اسلامی دفعات ، تحفظ ختم نبوت کے دستوری قانونی فیصلوں کے خلاف سازشوں کا سلسلہ آگے بڑھتا نظر آرہا ہے ،کانفرنس میں منظورکی گئی قراردادوں کامتن، 1974 ء کی قومی اسمبلی کی قرار داد ِ اقلیت و 1984 ء کے امتناع قادیانیت ایکٹ پر عملدرآمد نہ کرانا آئین سے صریحاََ انحراف ہے ،قادیانی دین کے غدار ہی نہیں ملک کے وفادار بھی نہیں ،قادیانیوں بارے نرم گوشہ رکھنے والے حکمران اور سیاستدان دینی حمیت اور قومی غیر ت سے عاری ہیں،پروفیسر خالد شبیر احمد ،سید محمد کفیل بخاری ،عبداللطیف خالد چیمہ ،مولانا محمد مغیرہ ودیگرکاخطاب

چنیوٹ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔26جنوری۔2013ء)سالانہ ختم ِنبوت کانفرنس میں متفقہ طورپر منظورکی گئی قرارادوں میں ملک کے اعلیٰ عہدوں اوربیرون ممالک پاکستانی سفارت خانوں میں تعینات قادیانیوں برطرف کرنے،ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ اورامریکہ نوازپالیسی ترک کرنے کاپرزورمطالبہ کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ حکومت کی دوغلی پالیسی کے باعث قادیانیوں، گستاخان رسول اور ملحدین کی سرگرمیوں میں اضافہ ،پاکستان کی سا لمیت و خود مختاری خطرات سے دوچار ہوچکی ہے، ڈرون حملوں کے تسلسل نے بین الاقوامی سرحدوں کا تقدس پامال کردیا ، ملکی اسلامی نظریاتی حیثیت کے گرد شکوک وشبہات کا جال بچھا دیا گیا ہے، بے روز گاری ، مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بناکررکھ دی، دستور پاکستان کی اسلامی دفعات ، تحفظ ختم نبوت کے دستوری قانونی فیصلوں کے خلاف سازشوں کا سلسلہ آگے بڑھتا نظر آرہا ہے۔

ہفتہ کو سالانہ ختم ِنبوت کانفرنس مجلس احرار ِ اسلام پاکستان اور تحریک تحفظ ختم ِنبوت کے زیر اہتمام چنا ب نگر کی مرکزی جامع مسجد احرا ر میں قائد احرار سید عطاء المہیمن بخاری کی زیر سر پرستی اور خانقاہ سراجیہ ) کندیاں ( کے سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد کی زیر صدارت منعقد ہوئی ،کانفرنس کے اختتام پر ہزاروں فرزندان ِ اسلام ،مجاہدین ختم ِنبوت اور سُرخ پوشان ِ احرار نے فقید المثال جلوس نکالا اور قادیانیوں کو دعوت اسلام کا فریضہ دہرایا، اختتامی نشستوں سے عالمی مجلس تحفظ ختم ِنبوت کے رہنما مولانا مفتی محمد حسن ،اہلسنت والجماعت پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خاد م حسین ڈھلوں ،جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے نائب صدر مفتی محمد زاہد ،مجلس احرار ِ اسلام پاکستان کے نائب امیر پروفیسر خالد شبیر احمد ،سید محمد کفیل بخاری ،عبداللطیف خالد چیمہ ،مولانا محمد مغیرہ ،قار ی محمد یوسف احرار،مولانا تنویر الحسن ،انٹر نیشنل ختم ِنبوت موومنٹ کے امیر مولانا محمدالیاس چنیوٹی ) ایم پی اے( ،انٹر نیشنل ختم ِنبوت موومنٹ کے نائب امیر مرکزیہ قاری شبیر احمد عثمانی ،وفاق المدارس العربیہ کے مولانا ظہور احمد علوی،مجلس احرار ِ اسلام سندھ کے امیر مفتی عطاء الرحمن قریشی،عالمی مجلس تحفظ ختم ِنبوت اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل قاری عبدالوحید قاسمی ،اتحاد علماء کونسل گلگت ) بلتستان (کے چیئر مین مولانا ثناء اللہ غالب ،ممتاز صحافی سیف اللہ خالد اور محمد یونس عالم ،مولانا عزیز الرحمن ) اسلام آباد ( ،قاری عبیدالرحمن زاہد) ٹوبہ ٹیک سنگھ( ، حافظ محمد ابوبکر ) چنیوٹ( ، مولانا عبدالہادی ) مظفر گڑھ( ،مولانا محمد زاہد نقشبندی،مولانا محمد اسماعیل فاروقی ) صادق آبا( ،حافظ محمد اکرم احرار کے علاوہ تحریک طلباء اسلام کے رہنما محمد جنید ،محمد ابوبکر اور دیگر مقررین نے خطاب کیا ،مفتی محمد حسن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا عقیدہ اور تحفظ ختم ِنبوت کا مشن جنت کی ضمانت ہے،اصل دولت ایمان کی دولت ہے جس سے قادیانی محروم ہیں،مسلمانوں کو دین پرجم جانا چاہیے اور فتنوں سے بچنے کے لئے اہل حق سے تعلق کو مضبوط کرنا چاہیے ،انہوں نے کہاکہ 1953 ء کی تحریک ختم ِنبوت میں مقدس خون بہایا گیا اور بزرگوں اور کارکنوں پر ہر ظلم گرایا گیاانہوں نے استقامت اختیار کی اور دین پر جمے رہے ، ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں نے کہاکہ عقیدہٴ ختم ِنبوت کے تحفظ کے لئے کام کرنے والوں کو شفاعت نبوی) صلی اللہ علیہ وسلم ( نصیب ہوگی ، غداران ِ ختم ِنبوت کے تعاقب کے لئے امیر شریعت کی جماعت ِ احرار کا ماضی اور حال اُمت مسلمہ کا قیمتی اثاثہ ہے انہوں نے کہاکہ منکرین ختم ِنبوت اور منکرین صحابہ کے خلاف ہماری آئینی جدوجہد کا راستہ نہیں روکا جاسکتا، انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی حکومت ِ ختم کرنا غیر آئینی اور غیر اخلاقی اقدام ہے اس مسئلہ پر ہم مولانا فضل الرحمن کے موٴقف کی تائید کرتے ہیں ،مفتی محمد زاہد نے کہاکہ جو سرور وکیف اور مرتبہ ومنزلت ختم ِنبوت کے دفاع کے کام میں ہے وہ کسی اور کام میں نہیں،قصر ِ نبوت کی تکمیل کے بعد کسی اور نبی کی ضرورت نہیں ،انہوں نے کہاکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا پہلا اجماع مسیلمہ کذاب کی جھوٹی نبوت کے خلاف ہُوا اور گیارہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تحفظ ختم ِنبوت پر شہید ہوئے ،انہوں نے کہاکہ چنا ب نگر سابق ربوہ میں بیٹھ کر جو لوگ رَدِ قادیانیت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں،وہ صحابہ کی سنت زندہ کررہے ہیں اور مبارک باد کے لائق ہیں،مولانا ظہور احمد علوی نے کہاکہ منکرین ختم ِنبوت کے استیصال کے لئے پہلی مہم خلیفہ بلا فصل سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چلائی اور فتنہٴ ارتداد کی سرکوبی کی انہوں نے کہاکہ وحدتِ اسلامی ،عقیدہٴ ختم ِنبوت سے وابستہ ہے ،سیف اللہ خالدنے کہاکہ قادیانیوں کی اینٹی پاکستان ریشہ دوانیوں کا سدباب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ،انہوں نے کہاکہ قادیانیوں کے باغی گروپ کے سربراہ چوھردی احمد یوسف کے قاتل ضرور اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے ، کانفرنس کے اختتام پر بعد نماز جمعتہ المبارک ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں فرزندان ِ اسلام ،کارکنان ِ احرار اور مجاہدین ختم ِنبوت نے قائد احرار سید عطاء المہیمن بخاری ،عبداللطیف خالد چیمہ ،پروفیسر خالد شبیر احمد ،سید محمد کفیل بخاری ، مولانا محمد مغیرہ ،میاں محمد اویس اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں فقید المثال جلوس نکالا ، محمد ) صلی اللہ علیہ وسلم ( ہمارے ۔

۔بڑی شان والے ،اسلام، ختم ِنبوت ۔۔زندہ باداور قادیانیت مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے اور کلمہ طیبہ اور درودپاک کا وِرد کرتے ہوئے جلوس جب آگے بڑھا تو عجیب سماں بندھ گیا۔ بڑے بڑے بینرز اور احرار کے سُرخ ہلالی پرچم تھامے عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جذبہ قابل ِ دید تھا ،پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کررکھے تھے ،جبکہ مجلس احرار اور تحریک طلباء اسلام کے سکیورٹی دستے جلوس کو غیر منظم ہونے سے بچانے کے لئے بھر پور کردار ادا کرتے رہے ،جلوس چناب نگر کے مرکزی اقصیٰ چوک پہنچا تو یہاں خطاب کرتے ہوئے پروفیسر خالد شبیر احمد نے کہاکہ ہم قادیانیوں کو دعوت ِ حق کا پیغام پہنچانے کے لئے آئے ہیں کہ یہ دجل و گمراہی سے نکل آئیں جب جلوس قادیانی مرکز ”ایوانِ محمود“کے عین سامنے پہنچا تو بہت بڑے جلسئہ عام کی شکل اختیار کر گیا ،یہاں حافظ محمد اکمل نے تلاوت ِ قرآن کریم کی اور قائد احرار سید عطاء المہیمن بخاری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم یہاں دھرنا دینے نہیں بلکہ حق سنانے آئے ہیں ، انہوں نے کہاکہ نبی آخرالزماں )صلی اللہ علیہ وسلم ( نے ارشاد فرمایا کہ”میں آخری نبی ہوں اور تم آخری اُمت: ۔

انہوں نے قادیانیوں سے کہاکہ وہ اپنے خلیفہ مرزا مسرور کو لندن سے بلائیں وہ اِس حدیث پاک پر مجھ سے بات کرے میں اُس کے دجل اور جھوٹ کا پردہ چاک کر دوں گا ،انہوں نے کہاکہ امام مہدی دجال کو قتل کریں گے اور سیدنا حضر ت عیسیٰ علیہ اسلام شام میں نازل ہوں گے مرزائی اس مسئلہ پر دھوکہ دیتے ہیں یہ دھوکے عام مرزائیوں کو سمجھ نہیں آتے ،انہوں نے کہاکہ امام مہدی سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہوں گے ، انہو ں نے کہاکہ چناب نگر پاکستا ن کا شہر ہے اس پر بھی پاکستان کا قانون لاگو ہونا چاہیے اور انتظامیہ عملاََ اس کو آزاد کرائے ۔

عبداللطیف خالد چیمہ نے یہاں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم چناب نگر میں جھگڑا کرنے نہیں بلکہ دعوت اسلام دینے آئے ہیں اور آتے رہیں گے ،انہوں نے کہاکہ قادیانی ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیمات کا مطالعہ کریں یا پھر ہم ان کو مرزا قادیانی کی کُتب پڑھانے کے لئے تیار ہیں ،انہوں نے کہاکہ بھٹو مرحوم نے کہا تھا کہ ”قادیانی پاکستا ن میں وہی مرتبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ،جو یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہے “سید محمد کفیل بخاری نے کہا کہ تحریک ختم ِنبوت نے جدوجہد کا طویل سفر کیا ہے اور 1953 ء میں دس ہزار نفوس قدسیہ کے مقدس خون کی قربانی دی ہے ،آخری سانس تک اس مشن کی آبیاری کرتے رہیں گے ، مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے کہاکہ ملکی قانون قادیانیوں کو اسلامی شعائر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت امتناع قادیانیت ایکٹ مجریہ 1984 ء پر مکمل عمل درآمد کراوئے ورنہ کشیدگی بڑھے گی اور ذمہ داری سرکاری انتظامیہ اور قادیانیوں پر ہو گی ، مولانا محمد مغیرہ نے کہاکہ ختم ِنبوت کے سرتاج محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تاجدار ِ ختم ِنبوت کے خلاف قادیانی گستاخیوں کو کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا قادیانی عقیدہ ہے کہ وہ اپنے مردے یہاں امانت کے طور پر دفناتے ہیں ۔

دریں اثناء سالانہ احرارختم نبوت کانفرنس،میں منظور کی جانے والی قراردادیں مجلس احرار اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبد اللطیف خالد چیمہ نے میڈیا کو جاری کردی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سا لمیت اور خود مختاری، حکومتی پالیسیوں کے باعث خطرات وخدشات سے دوچار ہوچکی ہیں ۔ پاکستان کی داخلی حدود میں ڈرون حملوں کے تسلسل نے بین الاقوامی سرحدوں کا تقدس پامال کردیا ہے۔

ملک کی اسلامی نظریاتی حیثیت کے گرد شکوک وشبہات کا جال بچھا دیا گیا ہے۔بے روز گاری ، مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے ۔میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ بے حیائی اور عریانی کو فروغ دے کر اسلامی ثقافت کے اثرات کو مٹانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔حکومتی دوغلی پالیسی کے باعث قادیانیوں، گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ملحدین کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دستور پاکستان کی اسلامی دفعات ، تحفظ ختم نبوت کے دستوری قانونی فیصلوں کے خلاف سازشوں کا سلسلہ آگے بڑھتا نظر آرہا ہے۔ دینی مدارس پر جابجا چھاپوں کے ذریعہ اسلام کی تعلیم حاصل کرنے والوں کو خوف وہراس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔نصاب ونظام تعلیم سے اسلامی حصوں کو خارج کرنے کے لیے بتدریج اقدامات کیے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں نئی نسل کابحیثیت مسلمان تشخص مجروح ہو رہا ہے یہ اجتماع سمجھتا ہے کہ یہ صورتحال پاکستان کے اسلامی تشخص اور دستور کی اسلامی دفعات کو نظر انداز کرنے اور ملکی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کا راستہ دینے اور مغربی آقاوٴں کی ہر خواہش کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے کی مذموم حکومتی روش کا منطقی نتیجہ ہے اور حالات کی اصلاح کی اس کے سوا کوئی صورت ممکن نہیں کہ اس پالیسی پر نظر ثانی کی جائے اور ملک کے اسلامی تشخص اور قومی خود مختاری کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

یہ اجتماع ملک کی تمام دینی وسیاسی قوتوں سے اپیل کرتا ہے کہ و ہ پاکستان کی نظریاتی حیثیت ، قومی خود مختاری کے تحفظ اور عوامی مشکلات ومسائل کے حل کے لیے مشترکہ طور پر سنجیدہ محنت کا اہتمام کریں۔ ختم نبوت کانفرنس کا یہ اجتماع ملک کے اندر قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سازشوں اور ریشہ دوانیوں پر شدید احتجاج کرتا ہے اور ملک کے اندر سیاسی ابتری میں قادیانیوں کی سازشوں کوایک بنیادی کردار قرار دیتا ہے۔

یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ فوج اور سول کے کلیدی عہدوں پر مسلط قادیانیوں کو برطرف کیا جائے اور بیرون ممالک سفارت خانوں سے بھی قادیانیوں کو ہٹایا جائے۔ # توہین رسالت کے مرتکبین کو سزا ئے موت دی جائے ۔#مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے ۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ 1984ء پر موٴثر عمل در آمد کرایا جائے۔

# ملک میں بدامنی اور قتل وغارت پر قابو پایا جائے۔ داخلی اور خارجی محاذ پر ملک کی نظریاتی اساس کے مطابق پاکستان کے امیج کو حقیقی معنوں میں اجاگر کیا جائے۔ # امریکہ نواز پالیسی ترک کر کے خود مختاری اور قومی وقار کو بحال کیا جائے۔ روزنامہ ”الفضل“ سمیت تمام قادیانی رسائل وجرائد پر پابندی عائد کی جائے۔ نصاب تعلیم میں عقیدہٴ ختم نبوت اور شان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق تفصیلی مواد شامل کیا جائے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل در آمد کرایا جائے۔ قادیانیوں کو کلمہ طبیہ اور شعائر اسلامی کے استعمال سے قانوناً روکا جائے۔ قادیانی عبادت گاہوں کی مساجد سے مشابہت ختم کرائی جائے۔یہ اجتماع چناب نگر میں قادیانی تسلط پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ مسلمانوں کو چناب نگر میں آزادانہ نقل وحرکت اور کاروبار کے لیے قانونی تحفظ فراہم کیا جائے نیز چناب نگر میں قادیانی لیز ختم کرکے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیے جائیں۔

حکومت پاکستان مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کی ہر فورم پر حمایت کرے اور تمام اسلامی ممالک کو مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے آواز بلند کرنے کے لیے آمادہ ومنظم کرے #اقوام متحدہ تمام انبیاء کرام کی توہین کے خلاف بین الاقوامی سطح پر موٴثر قوانین وضع کرے اور قادیانیوں کو اسلام کا ٹائٹل استعمال کرنے سے روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ اور او آئی سی اس سلسلہ میں متحرک کردار ادا کرے ۔

چناب نگر سمیت ملک بھر میں قادیانی اداروں سے وابستہ حضرات کا مکمل ریکارڈ چیک کیا جائے ۔ #قادیانی اوقاف کو سرکاری تحویل میں لیا جائے۔ شناختی کارڈمیں مذہب کے خانے کا اضافہ کیا جائے ۔چناب نگر میں سکیو رٹی کے نام پر بنائی جانے والی غیر قانونی چوکیوں کو ختم کیا جائے اور سکیو رٹی کا انتظام پولیس اپنے کنٹرول میں لے ۔#چناب نگر میں پولیس چوکی کی باؤنڈری وال بنا کر اسے مستقل کیا جائے ۔

# غازی ممتاز قادری کو رہا کیا جائے۔ہم برما کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار ِ یکجہتی کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ برما کے مسلمانوں پر بدھسٹوں کے ظلم وستم کا نوٹس لیا جائے۔ مدارس دینیہ میں غیر قانونی چھاپوں پہ بھر پور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مدارس کے حوالے سے اپنا رویہ درست کرے۔ ملک بھر میں علماء طلباء کی مظلومانہ شہادت لمحہٴ فکریہ ہے اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے ۔

کانفرنس میں چنیوٹ ،چناب نگر اور ملک کے بعض دیگر حصوں میں توہین صحابہ رضی اللہ عنہم کے دلخراش واقعات کی پرزور مذمت کی گئی اور مرتکبین کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ کانفرنس میں یہ بھی کہاگیا کہ راولپنڈی سیٹلاائٹ ٹاؤن میں قادیانی اپنا اِرتدادی مرکز قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ،حکومت اس کا فوری نوٹس لے اور قانوناََ روکے ۔ لاہور میں حکومت قادیانیوں کو ایک ایکڑ جگہ الاٹ کرنے کی تیاری میں ہے حکومت بازرہے اور قادیانیت نوازی ترک کردے
26/01/2013 - 21:06:19 :وقت اشاعت