بند کریں
صحت صحت کی خبریںراولپنڈی میں80 کنال رقبے پر 2 ارب 80 کروڑ روپے مالیت سے تعمیرکردہ امراض قلب کے جدید ہسپتال انسٹی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 03/02/2013 - 13:08:55 وقت اشاعت: 03/02/2013 - 12:39:46 وقت اشاعت: 02/02/2013 - 22:50:16 وقت اشاعت: 02/02/2013 - 22:49:46 وقت اشاعت: 02/02/2013 - 22:47:08 وقت اشاعت: 02/02/2013 - 19:59:45 وقت اشاعت: 02/02/2013 - 19:58:46 وقت اشاعت: 02/02/2013 - 19:06:55 وقت اشاعت: 02/02/2013 - 13:17:03 وقت اشاعت: 02/02/2013 - 12:27:18 وقت اشاعت: 01/02/2013 - 23:32:40

راولپنڈی میں80 کنال رقبے پر 2 ارب 80 کروڑ روپے مالیت سے تعمیرکردہ امراض قلب کے جدید ہسپتال انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے باقاعدہ کام شروع کردیا ‘ہسپتال میں 3 مریضوں کی کامیاب انجیوگرافی ‘400 بیڈ کے ہسپتال میں 48 بستروں پر مشتمل علاقہ کی سب سے بڑی ایمرجنسی قائم ‘ہسپتال میں روزانہ ایک ہزار مریضوں کے چیک اپ کی سہولت ‘غریب مریضوں کا مفت علاج معالجہ ہوگا ‘کروڑوں روپے کی بیرون ملک سے جدیدترین مشینری کی آمد‘55 سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی ہسپتال کو خدمات حاصل ‘ معروف ہارٹ سرجن ڈاکٹر حسنات لندن سے آکر خدمات سرانجام دیں گے ‘ ہسپتال میں موجود سہولتوں کی وجہ سے اب چھوٹے پاکستانی بچوں کو پیدائشی دل کے امراض کے علاج کیلئے بھارت نہیں جانا پڑیگا ، راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (آر آئی سی )کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ڈاکٹر اظہر محمود کیانی کی نئے ہسپتال کے بارے میں صحافیوں کو تفصیلی بریفنگ

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔2فروری۔ 2013ء)راولپنڈی میں80 کنال رقبے پر 2 ارب 80 کروڑ روپے مالیت سے تعمیرکردہ امراض قلب کے جدید ہسپتال انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے باقاعدہ کام شروع کردیا ‘ہسپتال میں ہفتہ کو پہلے روز 3 مریضوں کی کامیاب انجیوگرافی کی گئی ‘400 بیڈ کے اس ہسپتال میں 48 بستروں پر مشتمل ایک بڑی ایمرجنسی قائم کی گئی ہے ‘ہسپتال میں روزانہ ایک ہزار مریضوں کے چیک اپ کرنے کی سہولت موجود ہے ‘غریب مریضوں کا مفت علاج معالجہ ہوگا ‘ہسپتال کیلئے کروڑوں روپے کی جدیدترین مشینری بیرونی ممالک سے منگوائی گئی ہے اور اس کیلئے 55 سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ‘لیڈی ڈیانا سے تعلقات کے باعث عالمی شہرت رکھنے والے پاکستانی معروف ہارٹ سرجن ڈاکٹر حسنات بھی جلد لندن سے پاکستان آکر اس ہسپتال میں خدمات سرانجام دیں گے ‘اس ہسپتال میں موجود سہولتوں کی وجہ سے اب چھوٹے پاکستانی بچوں کو پیدائشی دل کے امراض کے علاج کیلئے بھارت نہیں جانا پڑیگا ‘آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ( اے ایف آئی سی )میں تعینات معروف سرجن کی سربراہی میں ٹیم یہاں عارضہ قلب میں مبتلا بچوں کا علاج اور آپریشن کریگی ۔

ہفتہ کو یہاں آر آئی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ڈاکٹر اظہر محمود کیانی نے نئے ہسپتال کے بارے میں صحافیوں کو تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی اور ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر محمد شعیب بھی موجود تھے ۔ڈاکٹر اظہر کیانی نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ہسپتال کے کام شروع کرنے کے بعد پہلی بار تین مریضوں زاہد محمود‘عمران عابد اور عمران ایوب کی کامیاب انجیو گرافی کی گئی ہے ‘اس ہسپتال میں ایکو ‘بلڈ ٹیسٹ ‘ایکسرے سمیت تمام لیبارٹری ٹیسٹ کی سہولیات حاصل ہیں ‘فی الحال روزانہ 200 مریض چیک کئے جارہے ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت کے ملازمین کے علاوہ ایسے غریبوں کا مفت علاج کیا جائے گا جنہیں بیت المال اور زکوة فنڈ سے رقم ادا کی جائے تاہم ایمرجنسی میں تمام علاج فری کیا جائے گا اور اس کیلئے کسی سے کوئی پیسے نہیں لئے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ یہ واحد ہسپتال ہے جس میں 48 بستروں پر مشتمل سب سے بڑی ایمرجنسی قائم کی گئی ہے ‘اس ہسپتال میں راولپنڈی ڈویژن کے علاوہ خیبرپختونخواہ ‘آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی مریض علاج کیلئے آسکتے ہیں۔

ایک سوال پر ڈاکٹر اظہر کیانی نے بتایا کہ اس منصوبے کی تکمیل کا کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور حنیف عباسی کو جاتا ہے ‘بھرتیوں میں فری ہینڈ دیا گیا ہے اور کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں مقیم معروف ہارٹ سرجن ڈاکٹر حسنات اپنی ٹیم کے ہمراہ مارچ میں پاکستان آکر ذمہ داریاں سنبھال لیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال کیلئے تمام مشینری جاپان اور جرمنی سے منگوائی گئی ہے جبکہ جدید آٹو میٹک بیڈ اٹلی سے خریدے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سٹی انجیوگرافی کی بھی سہولت حاصل ہے یہ واحد ہسپتال ہے جس کے پاس سٹی انجیوگرافی کی 5 مشینیں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایکسرے کا بھی پرانا نظام ختم کرکے جدید سسٹم لگایا گیا ہے جس کے تحت اب فلم بنانے کی بجائے کمپیوٹر پر ہی سی آر سسٹم کے تحت ایکسرے لئے جائیں گے اور سرجن کے پاس موجود لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر میں اسی لمحے ایکسرے رپورٹ چلی جائے گی جس کی روشنی میں وہ مزید علاج تجویز کرے گا ۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جو کم عمر بچے عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے باعث علاج کیلئے بھارت چلے جاتے ہیں اس ہسپتال کے قیام کے بعد ایسے مریض بچوں کو بھارت جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور یہاں پر بچوں کے عارضہ قلب کے ماہر ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں اور اے ایف آئی سی میں تعینات ایک معروف سرجن کی سربراہی میں ٹیم جلد یہاں بچوں کے عارضہ قلب کا علاج شروع کر دے گی اور ان کے آپریشن بھی کئے جائیں گے ۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اس ہسپتال میں 26 وینٹی لیٹرز موجود ہیں اس علاقے میں کسی بھی اور ہسپتال کے پاس اتنی تعداد میں وینٹی لیٹر موجود نہیں ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ جو بھی مریض پہلی مرتبہ یہاں چیک اپ کیلئے آئے گا اس کے شناختی کارڈ کا نمبر انٹر کر لیا جائے گا اور اس کی روشنی میں وہ جب بھی آئے گا اس کا پورا ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہوگا ۔

ایک اور سوال کے جواب پر جنرل اظہر کیانی نے بتایا کہ جن مریضوں کو سٹنٹ ڈالنے کی ضرورت ہوگی وہ بھی موجود ہونگے اور عالمی معیار کے مطابق ہونگے جن کی قیمت 80 ہزار سے لیکر ڈیڑھ لاکھ روپے تک ہے ۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اظہر کیانی نے بتایا کہ انہوں نے عارضہ قلب کے مریضوں کیلئے ایک ایمرجنسی کٹ تیار کی ہے جس میں ڈسپرین اور انجیسڈ(Angised ) اور ایک پیچ ( Patch ) شامل ہے جس کی مالیت مارکیٹ میں 40 سے 50 روپے بنتی ہے اگر کسی کو بھی سفر کے دوران سینے میں درد محسوس ہو تو وہ ڈسپرین کی گولی کھا لے اور انجیسڈ اپنی زبان کے نیچے رکھ لے اور پیچ جو ہے سینے کی بائیں سائیڈ پر لگا لے تو اسے ہارٹ اٹیک کے امکانات کم ہوجاتے ہیں اور ایمرجنسی میں اسے طبی امداد ملنا شروع ہوجاتی ہے اور خطرناک ہارٹ اٹیک کے امکانات کوبھی روکا جاسکتا ہے ۔

انہوں نے ایک اور سوال پر بتایا کہ وہ جب اے ایف آئی سی میں کمانڈنٹ کے عہدے پر تعینات تھے تو اس وقت پرائیویٹ پریکٹس کے ذریعے ہسپتال کو 35 لاکھ روپے کی ماہانہ آمدن ہوتی تھی اور میں نے اس فارمولے کو تبدیل کیا اور یہ طے کیا کہ جو بھی ڈاکٹر پرائیوٹ پریکٹس کریگا اسے 45 فیصد شیئر دیا جائے گا اور 55فیصد شیئر ہسپتال کو ملے گا جس کے تحت ہسپتال کی ماہانہ آمدن 35 لاکھ سے بڑھ کر 1 کروڑ 20 لاکھ پر پہنچ گئی تھی اور اسی پالیسی کو اس ہسپتال میں لاگو کیا جائے گا جو بھی سپیشلسٹ یہاں کام کریں گے وہ شام کے وقت پرائیویٹ پریکٹس کرسکیں گے تاکہ ہسپتال کو چلانے میں مالی طور پر مشکلات پیش نہ آئیں ۔

ا یک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کو صوبائی حکومت 12 سو ملین روپے دیتی ہے اس ہسپتال کو 12 سو ملین سے زیادہ بجٹ کی ضرورت ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں 80 فیصد لوگ عارضہ قلب میں مبتلا ہوتے ہیں اور یورپ کی نسبت اس خطے میں یہ بیماری15 سال پہلے آجاتی ہے اور اس کے علاج میں لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں ‘اس لئے لوگوں کو کھانے پینے میں احتیاط اور روزانہ سیر کو اپنا معمول بنانا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ اس ہسپتال کا برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی (جہاں ملالہ یوسفزئی کا علاج ہوا) اور گائیز ہسپتال لندن سے بھی ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت ہسپتال کے عملے کو لندن میں جدید بنیادوں پر تربیت دی جائے گی اور اس کے اخراجات بھی یہی دونوں ہسپتال برداشت کریں گے ۔ایک اور سوال پر انہوں نے بتایا کہ ضرورت پڑنے پر صدر ‘وزیراعظم ‘وزیراعلیٰ اور دیگر اہم شخصیات اس ہسپتال میں اپنا چیک اپ کراسکتی ہیں تاہم جو پرائیویٹ وارڈز بنائی گئی ہے اس میں چارجز وصول کئے جائیں گے ۔

رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی نے کہا کہ 80 کنال رقبے پر مشتمل یہ جدید ہسپتال 2 سال میں 2 ارب 80 کروڑ روپے مالیت سے تعمیر کیا گیا ہے ‘یہ کمرشل ہسپتال نہیں ہوگا ‘ایمرجنسی میں کسی سے کوئی پیسے نہیں لئے جائیں گے ‘6 ارکان پر اس کا خودمختاریانتظامی بورڈ جلد قائم کردیا جائے ۔انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ راولپنڈی اسلام آباد کے اخبار نویسوں کا مفت علاج ہوگا تاہم اس کیلئے دفتر اور پریس کلب کا کارڈ ہونا ضروری ہے ۔
02/02/2013 - 19:59:45 :وقت اشاعت