حجرہ شاہ مقیم، منظور وٹو کی اپنے آبائی حلقوں میں پوزیشن مضبوط ،مسلم لیگ (ن) کیلئے کھلا چیلنج ،متوقع امیدواروں کی نیندیں اڑ گئیں ،منظور وٹو کے مقابلہ سے کترانے والوں نے لیگی قیادت کے سامنے خطرے کی گھنٹی بجادی

حجرہ شاہ مقیم(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔6فروری۔ 2013ء)صدر پیپلز پارٹی پنجاب وفاقی وزیر امور کشمیر میاں منظور احمد خاں وٹو کی اپنے آبائی حلقوں میں پوزیشن مضبوط ،مسلم لیگ (ن) کیلئے کھلا چیلنج ،متوقع امیدواروں کی نیندیں اڑ گئیں ،منظور وٹو کے مقابلہ سے کترانے والوں نے لیگی قیادت کے سامنے خطرے کی گھنٹی بجادی ،شاہ مقیم اور میاں یاسین وٹو گروپوں میں اتحاد اسی سلسلہ کی کڑی ہے الیکشن اعلان سے قبل ہی بھاگ دوڑ کا سلسلہ تیزہوگیا ۔

(جاری ہے)

تفصیلا ت کے مطابق پیپلز پارٹی پنجاب کی صدارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد وفاقی وزیر امور کشمیر میاں منظور احمد خاں وٹو جہاں صوبہ میں اہمیت اختیار کر گئے وہاں انھیں اپنے آبائی حلقہ جات صرف تحصیل دیپالپور میں دوقومی اور تین صوبائی اسمبلی کی نشستوں کیلئے بھی انتہائی اہمیت کی حامل سیاسی شخصیت تصور کیا جانے لگا ہے جس میں رواں حکومتی دور کے دوران انہوں نے متذکرہ حلقوں میں بڑے حکومتی سرمایہ سے عوام کو بنیادی ترقیاتی سہولیا ت کی فراہمی جن میں بڑی لاگت سے نوتعمیر شدہ پختہ سڑکیں،دیہی علاقوں میں نکاسی آب کے منصوبوں کی تکمیل ،گھرگھربجلی اور گیس کی فراہمی بے شماربے روزگار وں کو مفت نوکریوں کی فراہمی ایسے کارنامے ٹھہرے جو کہ میاں منظوراحمد خاں وٹو جیسے زیرک سیاستدان نے آئندہ الیکشن میں در پیش چیلنجز کا مقابلہ کرنیکی خاطر قبل ا زوقت ہی عوام میں اپنی پزیرائی کا ذریعہ بنا ڈالے دوسری طرف حریف سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کا فوکس بھی میاں منظور احمدخاں وٹو کی متعلقہ آبائی سیٹوں پر ہے مگر (ن)لیگ کے زیر قیادت شاہ مقیم اور میاں یاسین وٹو گروپس کچھ عرصہ قبل تک انتشار اور با ہمی اختلافات کا شکا ر رہے جسکی بنیادی وجہ دونوں گروپس ق لیگ کے دور اقتدار میں عہدوں کی دوڑ میں شامل رہے جہاں شاہ مقیم گروپ اوکاڑ ہ ضلع میں عہدوں کے مزے جبکہ یاسین وٹو گروپ محرو می کا شکار رہا بہر حال میاں منظور احمد خاں وٹو کو انکے اپنے حلقوں میں شکست دینے کا خواب پروان چڑ ھا اور پارٹی قیادت نے نوٹس لیتے ہوئے ان دونو ں سیاسی دھڑوں کا تحادممکن بنایا اور انھیں خصوصاً ضلع اوکاڑہ اور بالخصوص تحصیل دیپالپور میں میاں منظوراحمد خاں وٹو کو شکست دینے کا ٹاسک سونپ دیا باوجود اسکے این اے 146 اور این اے 147 جبکہ پی پی 187 ،پی پی 188 اور پی پی 193 کے حلقے ن لیگ کے پروردہ مقامی سیاسی گروپس و شخصیات کیلئے کھلا چیلنج بنے ہوئے ہیں یاسین وٹو گروپ کے سربراہ ایم پی اے میاں معین خاں وٹو جنھیں گزشتہ انتخابات میں میاں منظور احمد خاں وٹو نے اپنی حمایت کے ذریعے پی پی 193 سے بطور آزاد امیدوار منتخب کروایا تھا جوکہ بعدازاں ن لیگ میں شامل ہوئے انھیں این اے 147سے پارٹی قیادت کی خواہش پر امیدوار لایا جارہا ہے جسے میاں منظور احمد خاں وٹو کے گھر کی سیٹ تصور کیا جاتا ہے جہاں وہ بیک وقت خود این اے 146 اور این اے 147 سے گزشتہ انتخابا ت میں بطور آزاد امیدوار منتخب ہوئے اور بعد ازاں ضمنی انتخابات میں انکے بیٹے میاں خرم جہانگیر خاں وٹو ریکارڈ ووٹو ں کی برتری سے ایم این اے منتخب ہوئے موجودہ حالات میں ن لیگی قیادت کی خواہش اپنی جگہ مگر منظوراحمد خاں وٹو جیسے منجھے ہوئے اور بھرپور عوامی رابطہ میں رہنے والے قدر آور سیاستدان کے حلقہ جات میں اپ سیٹ کر نا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے جس بات سے شاہ مقیم گروپ اور میاں یاسین وٹو گروپ جبکہ خود مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت بھی بخوبی ا ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاسی ٹمپریچر الیکشن سے قبل ہی بڑھ گیاہے۔

Your Thoughts and Comments