بند کریں
صحت صحت کی خبریںآسٹریلوی کھلاڑیوں میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کا انکشاف

صحت خبریں

وقت اشاعت: 07/02/2013 - 20:28:06 وقت اشاعت: 07/02/2013 - 20:26:54 وقت اشاعت: 07/02/2013 - 20:21:04 وقت اشاعت: 07/02/2013 - 20:21:04 وقت اشاعت: 07/02/2013 - 20:16:44 وقت اشاعت: 07/02/2013 - 19:57:51 وقت اشاعت: 07/02/2013 - 14:14:16 وقت اشاعت: 06/02/2013 - 22:21:20 وقت اشاعت: 06/02/2013 - 22:21:20 وقت اشاعت: 06/02/2013 - 22:14:33 وقت اشاعت: 06/02/2013 - 21:42:45

آسٹریلوی کھلاڑیوں میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کا انکشاف

ملبورن(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔7فروری۔ 2013ء)آسٹریلوی حکام کی طرف سے کرائی گئی ایک تحقیقاتی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ اعلی ملکی ایتھلیٹس میں وسیع پیمانے پر ممنوعہ ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے اور ان کے جرائم پیشہ منظم گروہوں سے بھی تعلقات ہیں۔آسٹریلین کرائم کمیشن کی طرف سے جاری کی گئی اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا میں کلبوں کی سطح پر کھیلے جانے والے مختلف اہم کھیلوں کے متعدد ایتھلیٹس مبینہ طور پر مصنوعی طور پر توانائی بڑھانے والے مواد کو استعمال کر چکے ہیں یا ابھی بھی کر رہے ہیں۔

جاری کی جانے والی اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے آسٹریلوی جسٹس منسٹر جیسن کلیئر نے اس رپورٹ کے نتائج کو ایک دھچکا قرار دیا ہے۔ملک کے دو اہم اور مقبول کھیلوں آسٹریلین فٹ بال لیگ اور نیشنل رگبی لیگ کے منتظمین پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ نیشنل کرائم کمیشن کے ساتھ مل کر کھلاڑیوں میں ممنوعہ ادویات کے مبینہ استعمال پر تفتیشی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ اس حوالے سے اپنی سطح پر بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

آسٹریلوی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے سابق سربراہ رچرڈ اِنگز نے ملکی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے، آسٹریلوی کھیلوں میں آج ایک تاریک ترین دن ہے۔آسٹریلوی کرائم کمیشن نے اس رپورٹ کو تیار کرنے میں ایک برس کا وقت لیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ میچ فکس کیے گئے ہیں اور جرائم پیشہ منظم گروہ کھلاڑیوں میں ممنوعہ مواد فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔

آسٹریلوی کھیلوں میں آج ایک تاریک ترین دن ہے۔رپورٹ کے مطابق کچھ کوچز، کھلیوں کے ماہرین، اور اسپورٹس اسٹاف کا عملہ بھی مبینہ طور پر کھلاڑیوں میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کو فروغ دینے یا اس عمل کو نظر انداز کرنے کا مرتکب پایا گیا ہے۔ اس دوران کبھی کبھار ایسا ممنوعہ مواد بھی استعمال کیا گیا، جو انسانوں کے لیے تجویز نہیں کیا جاتا۔خبر رساں ادارے اے پی نے اے سی سی کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس اسکینڈل میں ملوث افراد یا اداروں کے بارے میں زیادہ تفصیلات عام نہیں کی جائیں گی۔ بتایا گیا ہے کہ اس تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج وفاقی پولیس اور ملکی پولیس فورس کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔
07/02/2013 - 19:57:51 :وقت اشاعت