بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاکستان میں کرپشن‘کرپٹ ترین اداروں بارے ایس ڈی پی آئی کے سروے کا اجراء، پاکستانیوں کی اکثریت ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 16/02/2013 - 22:33:09 وقت اشاعت: 16/02/2013 - 22:27:55 وقت اشاعت: 16/02/2013 - 22:26:41 وقت اشاعت: 16/02/2013 - 16:54:28 وقت اشاعت: 16/02/2013 - 15:49:19 وقت اشاعت: 16/02/2013 - 15:48:26 وقت اشاعت: 16/02/2013 - 12:13:34 وقت اشاعت: 15/02/2013 - 18:55:05 وقت اشاعت: 15/02/2013 - 18:52:19 وقت اشاعت: 15/02/2013 - 18:40:35 وقت اشاعت: 15/02/2013 - 18:40:09

پاکستان میں کرپشن‘کرپٹ ترین اداروں بارے ایس ڈی پی آئی کے سروے کا اجراء، پاکستانیوں کی اکثریت نے سیاسی رہنماؤں اور پولیس کو کرپٹ ترین قراردیدیا ‘ کسی کو استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے 72فیصد کی رائے، سروے میں28فیصد عوام نے پولیس ‘25فیصد نے سیاسی رہنماؤں کو کرپٹ ترین قرار دیا‘ 8فیصد نے ٹیکس وصولی کے محکموں‘7فیصد نے ریونیو اداروں کو کرپٹ قرار دیا‘7 فیصد نے فوج ‘ 6 فیصد نے میڈیا اور 5 فیصد نے عدلیہ کو کرپٹ ترین قراردیا‘5 فیصد پاکستانیوں کے مطابق بجلی کے محکموں ‘4فیصد نے تعلیمی اداروں اور 3فیصد نے صحت کے اداروں میں کرپشن کی نشاندہی کی

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 16فروری 2013ء) پاکستانیوں کی اکثریت نے سیاسی رہنماؤں اور پولیس کو کرپٹ ترین قراردیدیا جبکہ 72فیصد نے کہا ہے کہ کرپشن کے مقدمات میں کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں ہونی چاہئے۔ ہفتہ کوسسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ( ایس ڈی پی آئی) نے ملک کے 52اضلاع اور 2 قبائلی ایجنسیوں میں مختلف قومیتوں کے حامل 1200 سے زائد افراد کی رائے لی جس میں عوام سے سوال کیا گیا کہ آپ کے خیال میں پاکستان کے کس ادارے میں سب سے زیادہ کرپشن ہے۔

ایس ڈی پی آئی کی جاری کردہ سروے رپورٹ کے مطابق 28فیصد عوام نے پولیس کو بحیثیت ادارہ جبکہ 25فیصد نے سیاسی رہنماؤں کو کرپٹ ترین قرار دیدیا۔ سروے کے مطابق 8فیصد کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصول کرنے والے محکموں بھی کرپشن کرتے ہیں جبکہ 7فیصد نے ریونیو کے ادارے میں کرپشن کا کہا۔ سروے رپورٹ کے مطابق 7 فیصد نے فوج اور 6 فیصد نے میڈیا جبکہ 5 فیصد نے عدلیہ کو کرپٹ ترین قراردیا۔

رپورٹ کے مطابق 5 فیصد پاکستانیوں کی رائے ہے کہ بجلی کے محکموں بھی کرپشن ہوتی ہے جبکہ 4فیصد نے تعلیمی ادارے اور 3فیصد صحت کے اداروں میں کرپشن کی نشاندہی کی۔ سروے رپورٹ کے مطابق 2فیصد نے دیگر اداروں کے نام لئے۔ ایس ڈی پی آئی نے مزید عوام سے سوال کیا کہ کیا کرپشن کے مقدمات میں کسی کو استثنیٰ حاصل ہونی چاہئے جواب میں 72فیصد نے کہا کہ کرپشن کے مقدمات میں کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں ہونا چاہئے۔

18 فیصد نے کہا کہ شاید کسی کو استثنیٰ دے دینا چاہئے جبکہ 10فیصد افراد کرپشن کے مقدمات میں استثنیٰ دینے کے حق میں تھے۔ سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ( ایس ڈی پی آئی) نے ملک کے 52اضلاع اور 2 قبائلی ایجنسیوں میں مختلف قومیتوں کے حامل 1200 سے زائد افراد کی رائے لی جس میں عوام سے سوال کیا گیا کہ آپ کے خیال میں پاکستان کے کس ادارے میں سب سے زیادہ کرپشن ہے۔
16/02/2013 - 15:48:26 :وقت اشاعت