بند کریں
صحت صحت کی خبریںحکومت ملک میں ایمرجنسی میڈیسن کے شعبے کی پذیرائی کرے ، ترقی یافتہ ممالک میں رائج نظام کے مطابق ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 18/02/2013 - 22:17:47 وقت اشاعت: 18/02/2013 - 21:57:47 وقت اشاعت: 18/02/2013 - 17:12:05 وقت اشاعت: 18/02/2013 - 13:34:16 وقت اشاعت: 18/02/2013 - 13:27:28 وقت اشاعت: 17/02/2013 - 21:37:58 وقت اشاعت: 17/02/2013 - 21:33:30 وقت اشاعت: 17/02/2013 - 21:29:32 وقت اشاعت: 17/02/2013 - 21:22:12 وقت اشاعت: 17/02/2013 - 21:21:44 وقت اشاعت: 17/02/2013 - 21:14:50

حکومت ملک میں ایمرجنسی میڈیسن کے شعبے کی پذیرائی کرے ، ترقی یافتہ ممالک میں رائج نظام کے مطابق پاکستان کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے شعبوں کو ترقی دے کریمرجنسی میڈیسن میں سپیشلائزیشن کے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں ،ایمرجنسی میڈیسن پر منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ سے ملک کے ممتاز طبی ماہرین کا خطاب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔17فروری۔2013ء)ملک کے ممتاز طبی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں ایمرجنسی میڈیسن کے شعبے کی پذیرائی کرے اور ترقی یافتہ ممالک میں رائج نظام کے مطابق پاکستان کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے شعبوں کو ترقی دے اورا یمرجنسی میڈیسن میں سپیشلائزیشن کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرے۔اتوارکو شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں ’ایمرجنسی میڈیسن“ کے عنوان سے ایک روزہ ورکشاپ منعقدہوئی ۔

ورکشاپ میں راولپنڈی اسلام آباد کے علاوہ پنجاب،کشمیر اور خیبرپختونخواہ کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے پانچ سو سے زائد ڈاکٹروں نے شرکت کی۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ملک میں ایمرجنسی میڈیسن کے شعبے کی پذیرائی کرے اور ترقی یافتہ ممالک میں رائج نظام کے مطابق پاکستان کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے شعبوں کو ترقی دے اورا یمرجنسی میڈیسن میں سپیشلائزیشن کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرے۔

ورکشاپ میں مختلف سیشنز کے دوران حادثات اور مختلف بیماریوں جیسے کہ بچوں میں انفیکشن،ذیابیطس ،ہنگامی حالت میں جان بچانے کے لئے فوری طبی امداد ،دل کا دورہ اور دل کی بیماریاں،دمے کا حملہ اور سانس کے مسائل،ناک کان گلے میں بیماری کی وجہ سے ہنگامی صورتحال،زہریلے مواد کا جسم میں چلے جانا اورموسمی تبدیلی کی وجہ سے حادثات کی صورت میں مریض کا فوری اور مکمل معائنہ کے موضوعات پرڈاکٹرمظہر راجہ، ڈاکٹرعبدالستار،ڈاکٹر اسامہ اشتیاق،ڈاکٹر سعید اللہ شاہ، ڈاکٹر خواجہ جنید مصطفیٰ، ڈاکٹر سدرہ، ڈاکٹریاورنجم، ڈاکٹر ہما،ڈاکٹراحمد اور ڈاکٹر صارم نے حاضرین کو آگاہ کیا۔

ڈاکٹر عبدالسلام خان نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں شعبہ ایمرجنسی میں تربیت یافتہ لوگوں کی تعداد بہت کم ہے اس کے علاوہ عام حالات میں بھی ملک میں ایک ہزار لوگوں کے لئے صرف آٹھ معالجین میسر ہیں جبکہ کیوبا میں ایک ہزار لوگوں کے لئے معالجین کی تعداد68ہے اس لحاظ سے پاکستان دنیا میں94 ویں نمبر پر آتا ہے۔ جو کہ نہایت مایوس کن صورتحال ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایمرجنسی میڈیسن کے شعبے کی ابتداء 1950ء کے بعد ہوئی اور پہلا ایمریکن کالج آف میڈیسن 1968ء میں قائم ہوا۔ تاہم پاکستان میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان نے 2010ء میں اس اہم شعبے میں سپشلائزیشن کی منظوری دی۔اس وقت ملک میں صرف دواداروں،شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد اور آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی،میں ایمرجنسی میڈیسن میں سپشلائزیشن کرائی جارہی ہے۔انہوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایمرجنسی میڈیسن میں باقاعدہ تربیت کے مواقعے پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
17/02/2013 - 21:37:58 :وقت اشاعت