بند کریں
صحت صحت کی خبریںسری لنکا کی فوج تامل قیدیوں پر دوران حراست جنسی تشدد میں ملوث رہی ہے، بیشتر واقعات کے طبی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 27/02/2013 - 18:58:32 وقت اشاعت: 27/02/2013 - 18:58:32 وقت اشاعت: 27/02/2013 - 18:56:56 وقت اشاعت: 27/02/2013 - 18:52:40 وقت اشاعت: 27/02/2013 - 16:59:07 وقت اشاعت: 27/02/2013 - 12:33:54 وقت اشاعت: 27/02/2013 - 12:32:06 وقت اشاعت: 26/02/2013 - 22:51:26 وقت اشاعت: 26/02/2013 - 21:16:05 وقت اشاعت: 26/02/2013 - 15:33:47 وقت اشاعت: 26/02/2013 - 15:33:47

سری لنکا کی فوج تامل قیدیوں پر دوران حراست جنسی تشدد میں ملوث رہی ہے، بیشتر واقعات کے طبی شواہد موجود ہیں، 2006 میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے جنسی جرائم میں اضافہ ہوا ، مئی 2009 میں جنگ ختم ہونے کے بعد تمل باغیوں اور ان کے حامیوں سے خفیہ معلومات اگلوانے کے لیے فوج اور پولیس نے جنسی زیادتی جیسا غیرقانونی طریقہ اپنایا تھا‘ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ ، رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد ہے ،ہمیں طبی ثبوت دینے چاہیئیں تا کہ ہم تحقیقات کر سکیں‘سری لنکن حکومت

نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 27فروری 2013ء)انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ سری لنکا کی فوج تامل قیدیوں پر دوران حراست جنسی تشدد میں ملوث رہی ہے۔اس رپورٹ میں 2006 سے 2012 کے دوران ایسے مردوں، عورتوں اور بچوں سے مبینہ جنسی زیادتیوں کے واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے جن پر تامل ٹائیگر باغیوں سے روابط کے الزامات تھے۔

رپورٹ میں مبینہ جنسی زیادتی اور تشدد کے پچھہتر واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان میں سے بیشتر واقعات کے طبی شواہد موجود ہیں۔ہیومن رائٹس واچ نے سری لنکا کی حکومت سے ان معاملات کی تحقیقات کروانے کی اپیل کی ہے جبکہ سری لنکا کی حکومت نے ان الزامات کو ’جھوٹ‘ اوربے بنیاد قرار دیا ہے۔سری لنکا میں حکومتی فوج اور علیحدہ ریاست کے لیے جدوجہد کرنے والے تامل باغیوں کے مابین چھبیس برس تک تصادم جاری رہا تھا اور 2009 میں فیصلہ کن معرکے کے بعد تمل باغیوں کو شکست ہوگئی تھی۔

اس تنازع کے دوران مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔اس تنازع کے دوران عموماً اور فیصلہ کن لڑائی میں خصوصاً فریقین نے اس وقت ایک دوسرے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے تھے جب ملک کے شمالی علاقے میں ہزاروں عام شہری جنگ زدہ علاقے میں پھنس گئے تھے۔ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2006 میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے جنسی جرائم میں اضافہ ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ’جنگ کے دوران اور مئی 2009 میں جنگ ختم ہونے کے بعد تامل باغیوں اور ان کے حامیوں سے خفیہ معلومات اگلوانے کے لیے فوج اور پولیس نے جنسی زیادتی جیسا غیرقانونی طریقہ اپنایا تھا۔سری لنکا میں حکومتی فوج اور علیحدہ ریاست کے لیے جدوجہد کرنے والے تمل باغیوں کے مابین چھبیس برس تک تصادم جاری رہا تھا۔ہیومن رائٹس واچ نے اکتیس مردوں، اکتالیس خواتین اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے تین لڑکوں سے ریپ کے مبینہ واقعات کی بنیاد پر یہ رپورٹ تیار کی ہے۔

ان تمام لوگوں کو تمل باغیوں کے ساتھ تعلقات کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔انسانی حقوق کی تنظیم نے آسٹریلیا، برطانیہ، بھارت، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں رہائش پذیر ایسے افراد کے انٹرویو کیے جو سری لنکا میں زیرِ حراست رہے تھے۔ ان افراد کے بیانات کے مطابق جنسی جرائم میں شامل لوگوں میں سری لنکا کی فوج، پولیس اور حکومت نواز تامل نیم فوجی دستوں کے ارکان شامل ہیں۔

ان نتائج کی بنیاد پر رپورٹ میں سری لنکا کی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ ان جرائم میں شامل لوگوں کے خلاف بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے۔رپورٹ میں ساتھ ہی بغیر الزام یا مقدمے کے حراست میں رکھنے کے قانون پر پابندی، انسانی حقوق کی تنظیموں کو ملک کے شمالی علاقے میں جانے کی اجازت دینے اور ایمرجنسی اور انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت بغیر الزام حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے.ادھر سری لنکا کی حکومت کے ترجمان نے اس رپورٹ کو من گھڑت قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ الزامات لگا رہے ہیں تو انہیں ہمیں طبی ثبوت دینے چاہیئیں تا کہ ہم دیکھ سکیں کہ آیا ہم تحقیقات کر سکتے ہیں۔
27/02/2013 - 12:33:54 :وقت اشاعت