بند کریں
صحت صحت کی خبریںقائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کامختلف ٹی وی چینلوں پرغیرملکی ڈرامے چلائے جانے پراظہارتشویش ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 07/03/2013 - 13:04:40 وقت اشاعت: 06/03/2013 - 14:06:39 وقت اشاعت: 05/03/2013 - 21:10:17 وقت اشاعت: 05/03/2013 - 19:39:30 وقت اشاعت: 05/03/2013 - 19:38:24 وقت اشاعت: 05/03/2013 - 19:31:43 وقت اشاعت: 05/03/2013 - 19:27:54 وقت اشاعت: 05/03/2013 - 18:44:21 وقت اشاعت: 05/03/2013 - 16:55:13 وقت اشاعت: 05/03/2013 - 14:57:13 وقت اشاعت: 05/03/2013 - 14:48:48

قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کامختلف ٹی وی چینلوں پرغیرملکی ڈرامے چلائے جانے پراظہارتشویش پیمراکوپرائم ٹائم میں ڈبنگ شدہ غیر ملکی ڈراموں کو کنٹرول کرنے کی ہدایت ، پیمرا کے پاس 50سے زائد ٹی وی چینلوں کی مانیٹرنگ کا کوئی میکنزم موجودنہ ہونے کاانکشاف ،غیر ملکی فلموں کی قومی زبان میں ڈبنگ کو روکنے کیلئے کوئی قانون موجود نہیں ، وزیراطلاعات ونشریات قمرزمان کائرہ ، وزیراطلاعات کی تجویز پرپارلیمنٹ کی دونوں ایوانوں کی متعلقہ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس بلا نے کافیصلہ، فلم انڈسٹری کے بعداب ڈرامہ انڈسٹری بھی تباہی کے دہانے پر ہے،پروڈکشن ہاؤسز بند ہورہے ہیں ، متعدد فنکار کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں،اداکار قوی خان

اسلام آبا (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔5مارچ۔2013ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کامختلف ٹی وی چینلوں پرغیرملکی ڈرامے چلائے جانے پراظہارتشویش، پیمراکوپرائم ٹائم میں ڈبنگ شدہ غیر ملکی ڈراموں کو کنٹرول کرنے کی ہدایت کردی ،وزیراطلاعات ونشریات قمرزمان کائرہ نے کہاہے کہ غیر ملکی فلموں کی قومی زبان میں ڈبنگ کو روکنے کیلئے کوئی قانون موجود نہیں ، پیمرا کے پاس 50سے زائد ٹی وی چینلوں کی مانیٹرنگ کا کوئی میکنزم نہیں ، وفاقی وزیر کی تجویز پرپارلیمنٹ کی دونوں ایوانوں کی متعلقہ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس بلا نے کافیصلہ، اداکار قوی خان نے بتایا کہ فلم انڈسٹری کے بعداب ڈرامہ انڈسٹری بھی تباہی کے دہانے پر ہے،پروڈکشن ہاؤسز بند ہورہے ہیں ، متعدد فنکار کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔

منگل کو کمیٹی کا اجلاس کامل علی آغا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی ممبران کے علاوہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمرزمان کائرہ، سیکرٹری اطلاعات و نشریات ، ایڈیشنل سیکرٹری، چیئرمین پیمر، ایم ڈی پی ٹی وی سمیت دیگر حکام نے شرکت کی ۔ پیمرا نے کمیٹی کو بریفنگ یتے ہوئے بتایا کہ 89چینل کو لائسنس جاری کیے گئے نیوز چینل سے لائسنس کی مد میں 50لاکھ، کھیلوں کے چینل15لاکھ ،علاقائی 10لاکھ زراعت اور صحت کے چینل سے5لاکھ روپے فیس لی جاتی ہے ۔

سیکرٹری اطلاعات و نشریات نے کمیٹی کو بتایا کہ اردو ون چینل کے حوالے سے دو انکوائرائیاں ہوئی ہیں ۔ مذکورہ چینل لینڈنگ رائٹس قواعد ضوابط کے مطابق دیاگیا ہے تاہم لینڈنگ رائٹس کی خلاف ورزی پر جرمانہ اور نوٹس جاری کئے گئے ہیں لیکن سندھ ہائی کورٹ میں حکم امتناعی حاصل کیاگیا ہے ۔ ممبران کمیٹی کے سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کمیٹی میں انکشاف کیا کہ دیہی علاقوں میں چلنے والی کیبل کی مانیٹرنگ کا کوئی میکنزم موجود نہیں ہے ۔

پیمرا صرف50چینل کو اسلام آباد میں ہی مانیٹر کرسکتی ہے جبکہ 89چینلزنشریات دے رہے ہیں ۔ غیر ملکی فلموں کی قومی زبان میں ڈبنگ کو روکنے کے لئے کوئی قانون موجود نہیں پاکستان کے کسی چینل نے لینڈنگ رائٹس کے لئے بھارت سے رابطہ نہیں کیا۔ ممبران کمیٹی نے کہا کہ غیر ملکی ثقافت مسلط کی گئی ہے پی ٹی وی کے علاوہ کوئی چینل پاکستانی ڈرامے نہیں دکھا رہا ہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ پیمراہ کو اپنے قوانین میں بہتری لانی چاہیے ۔

پرائم ٹائم میں ڈبنگ شدہ غیر ملکی ڈراموں کو کنٹرول کیا جائے ۔ اداکار قومی خان نے کہا ہے کہ غیر ملکی ثقافت یلغار سے فلم انڈسٹری کے بعد ڈرامہ انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ۔ پروڈکشن ہاؤسز بند ہورہے ہیں ۔ متعدد فنکار کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی ہے کہ کمیٹی کی ہدایات پر عمل کرے اوراگلی میٹنگ میں مفصل رپورٹ پیش کی جائے ۔ وزیر اطلاعات ونشریات کی تجویز پر دونوں ایوانوں کی کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس بلاکر معاملے پر غور کیا جائیگا۔
05/03/2013 - 19:31:43 :وقت اشاعت