بند کریں
صحت صحت کی خبریںجمہوری نظام کا پہیہ اب رواں دواں رہے گا ، کوئی اس نظام کو ختم نہیں کرسکتا ، تمام سیاسی قوتیں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 13/03/2013 - 17:06:20 وقت اشاعت: 13/03/2013 - 17:02:42 وقت اشاعت: 13/03/2013 - 14:29:39 وقت اشاعت: 13/03/2013 - 13:10:35 وقت اشاعت: 12/03/2013 - 23:20:00 وقت اشاعت: 12/03/2013 - 23:20:00 وقت اشاعت: 12/03/2013 - 20:46:07 وقت اشاعت: 12/03/2013 - 19:47:21 وقت اشاعت: 12/03/2013 - 16:33:37 وقت اشاعت: 12/03/2013 - 16:32:34 وقت اشاعت: 12/03/2013 - 14:32:47

جمہوری نظام کا پہیہ اب رواں دواں رہے گا ، کوئی اس نظام کو ختم نہیں کرسکتا ، تمام سیاسی قوتیں جمہوریت پرمتفق اور آئندہ انتخابات کا بروقت انعقاد چاہتی ہیں ، انتخابات مقررہ وقت پر شفاف انداز میں کراکے نئی تاریخ رقم کریں گے، تمام سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا ، نگراں حکومتیں آئین کے مطابق تشکیل دی جائیں گی ،مواصلات کا شعبہ ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ،صحت کے شعبے کی ترقی کیلئے مختلف منصوبوں کی تکمیل اور غریبوں میں مفت رہائش فراہم کرنے سے عوام کے معیار زندگی میں اضافہ ہوگا،صدر آصف علی زرداری کامختلف ترقیاتی منصوبوں کاسنگ بنیادرکھنے کی تقریب سے خطاب

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔12مارچ۔ 2013ء)صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوری حکومت کا مدت مکمل کرنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ آج ملک میں جمہوری نظام مضبوط اور مستحکم ہوچکا ہے ،اب جمہوری نظام کا پہیہ رواں دواں رہے گا اور کوئی اس نظام کو ختم نہیں کرسکتا ہے کیونکہ ملک میں تمام سیاسی قوتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ملک کا مستقبل جمہوری نظام سے وابستہ ہے ۔

اس جمہوری نظام کو تناور درخت بنانے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں آئندہ انتخابات کا بروقت انعقاد چاہتی ہیں ۔آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر شفاف انداز میں منعقد کراکے ملک میں ایک نئی تاریخ رقم کریں گے اور انتخابات کے التواء کی تمام سازشوں کو ناکام بنادیا جائے گا ،ملک میں نگراں حکومتیں آئین کے مطابق تشکیل دی جائیں گی اور انتخابات کی تاریخ کا اعلان مقررہ وقت پر کردیا جائے گا۔

مواصلات کا شعبہ ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔صحت کے شعبے کی ترقی کیلئے مختلف منصوبوں کی تکمیل اور غریبوں میں مفت رہائش فراہم کرنے سے عوام کے معیار زندگی میں اضافہ ہوگا ۔وہ منگل کو وزیر اعلیٰ ہاوٴس میں شہید بے نظیر بھٹو ہیلتھ اسکیم ،شہید بے نظیر بھٹو ہاوٴسنگ اسکیم کے تحت مختلف منصوبوں اور شہید ذوالفقار علی بھٹو ایکسپریس وے کی تعمیر کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔

شہید بے نظیر بھٹو ہیلتھ اسکیم کے تحت سندھ کے 23اضلاع میں 41ٹراما سینٹرز قائم کئے جائیں اور 39تعلقہ اسپتالوں کو ضلعی اسپتالوں کا درجہ دیا جائے گا ۔اس منصوبے کے تحت دادو اور میر پور خاص میں ضلعی ہیڈکوارٹرز اسپتال بھی قائم کئے جائیں گے ، بدین اور شکار پور میں تعلقہ ہنگامی مراکز بھی قائم کئے جائیں گے ۔بے نظیر بھٹو ہاوٴسنگ اسکیم کے تحت 23اضلاع میں 50ہزار خاندانوں کو 120گز کے پلاٹس بھی مفت تقسیم کئے جائیں گے ۔

ذوالفقار آباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تحت سوا چار ارب روپے کی لاگت سے چار لین 44کلومیٹر طویل گاڑھو تا شاہ بندرشہید ذوالفقار علی بھٹو ایکسپریس وے دو سال کی مدت میں تعمیر کی جائے گی ۔تقریب میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان ،وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ،صوبائی وزراء ،اراکین اسمبلی اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ جب 2008میں حکومت قائم ہوئی تو مختلف سیاسی دوست کہتے رہے کہ آج حکومت ختم ہونے والی ہے ،آج حکومت جانے والی ہے لیکن ہم رب العالمین کے شکر گزار ہیں کہ آج ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری حکومت اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کررہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کا استحکام اور جمہوری حکومت کا اپنی مدت پوری کرنا شہید بے نظیر بھٹو کی مفاہمتی پالیسی کے تحت ممکن ہوا ۔انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کیلئے تمام سیاسی قوتوں نے بھرپور تعاون کیا ۔اگر مفاہمتی پالیسی نہ ہوتی تو ملک میں حالات اچھے نہیں ہوتے اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کو حالات خراب کرنے کا موقع مل جاتا ۔

صدر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے دور میں بے شمار چیلنجز کا سامنا کیا لیکن ہم گھبرائے نہیں ،حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔صدر نے کہا کہ جن لوگوں نے حکومت پر تنقید کی ہم ہمیشہ اس تنقید کو مثبت انداز میں لیا ۔انہوں نے کہا کہ آج ملک میں جمہوری نظام قائم ہوگیا ہے ۔انتخابات قریب ہیں ۔ملک میں انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں ۔حکومت پرعزم ہے کہ انتخابات کو شفاف طریقے سے منعقد کرایا جائے گا ۔

صدر نے کہا کہ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ یہ انتخابات تاریخ ساز اور شفاف ہوں گے اور جس جماعت کو عوام اپنے ووٹوں سے منتخب کریں گے ،اقتدار اسے آئینی طریقے سے مقررہ وقت پر منتقل کردیا جائے گا ۔صدر نے کہا کہ ملک کو اس وقت دہشت گردی اور انتہاء پسندی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے اور ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تمام قوتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے ۔صدر نے کہا کہ توانائی کے بحران کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوئے اور اس کے اثرات مختلف شعبوں پر مرتب ہوئے لیکن ہم ملک سے توانائی کے بحران کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں اور اس سلسلے میں مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ملک کی تاریخ میں ایک بڑا منصوبہ ہے ۔

اس منصوبے کی تکمیل سے ملک میں توانائی کے بحران کو کم کرنے میں مدد ملے گی ۔صدر نے کہا کہ ملک کی ترقی میں مواصلات کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور شہید ذوالفقار علی بھٹو ایکسپریس وے کی تعمیر سے سندھ میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جہاں اس منصوبے سے لوگوں کو روزگار ملے وہیں ملک کی معیشت بھی مضبوط ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی ترقی کیلئے حکومت مختلف اقدامات کررہی ہے ۔

صدر نے کہا کہ مختلف اضلاع ٹراما سینٹرز کے قیام اور اسپتالوں کی اپ گریڈیشن سے عوام اپنے علاقے میں ہی صحت کی جدید سہولتیں میسر آئیں گی ۔صدر نے کہا کہ غریب خاندانوں کو رہائشی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس اسکیم سے سیکڑوں خاندانوں کو رہائشی سہولیات ملیں گی ۔صدر نے کہا کہ ملک میں مختلف منصوبوں کی تکمیل بھی مفاہمتی وژن کو ظاہر کرتی ہے ۔

صدر نے کہا کہ ملک میں انتخابات کے موسم کا آغاز ہوگیا ہے ۔سیاسی جماعتیں انتخابات کی تیاری کریں ۔نگراں حکومتوں کی تشکیل اور آئندہ عام انتخابات کاانعقاد آئین کے مطابق ہوگا ۔صدر نے سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کریں حکومت ان کو ہر ممکن تحفظ اور مراعات فراہم کرے گی ۔قبل ازیں صدر آصف علی زرداری سے وزیر اعلیٰ ہاوٴس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ملاقات کی ۔

ملاقات میں وزیر اعلیٰ سندھ نے صدر کو کراچی میں امن و امان کی صورتحال خصوصاً جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ذرائع کے مطابق صدر نے کہا کہ کراچی میں قیام امن پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں ۔شہر میں جرائم پیشہ عناصر کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔روشنیوں کے شہر سے جرائم پیشہ عناصر کاخاتمہ کردیا جائے گا ۔صدر نے وزیر اعلیٰ کو ہدایت کی کہ قانون نافذکرنے والے اداروں کی جانب سے کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن کو مزید تیز کیا جائے اور آپریشن کے دوران جدید ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کیا جائے ۔
12/03/2013 - 23:20:00 :وقت اشاعت