ملک میں پولیو پروگرام اور انسداد پولیو ویکسین دینے کا عمل سیاسی فٹ بال بن چکا ہے‘عالمی ادارہ

اب تک 88پولیو کیسز سامنے آچکے ہیں، 64خیبرپختونخوا، 10سندھ، 7بلوچستان اور 5کیسز کا تعلق پنجاب سے ہے

ملک میں پولیو پروگرام اور انسداد پولیو ویکسین دینے کا عمل سیاسی فٹ بال بن چکا ہے‘عالمی ادارہ
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 نومبر2019ء) صحت کے عالمی فورم پر پاکستان کے سیاسی مسائل کو موضوع بحث لاتے ہوئے بین الاقوامی مانیٹرنگ بورڈ نے کہا ہے کہ ملک میں پولیو پروگرام اور انسداد پولیو ویکسین دینے کا عمل سیاسی فٹ بال بن چکا ہے۔آئی ایم بی وہ ادارہ ہے جو عالمی سطح پر پولیو کا پھیلا روکنے کے لیے گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹوکی کارکردگی کا آزادانہ جائزہ لیتا ہے، جس کے مطابق پاکستان میں پولیو میں اضافے کے پسِ پردہ سیاسی نا اتفاقی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپنی تازہ رپورٹ میں آئی ایم بی کا کہنا تھا کہ 2018 کے اوائل میں پاکستان کا پولیو پروگرام پولیو وائرس کے پھیلا کو روکنے کے دہانے پر تھا۔تاہم صرف ایک سال کے عرصے کے دوران ملک میں اس بیماری کی صورتحال نے پولیو کا پھیلا روکنے والے عالمی پروگرام کے اندازوں کو الٹ کر رکھ دیا۔

(جاری ہے)

آئی ایم بی نے ستمبر 2019 کی انسداد پولیو مہم پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا جس میں بچوں کی سب سے بڑی تعداد ویکسینیشن سے محروم رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں پولیو نے 2018 کی تیسری سہ ماہی میں دوبارہ سر اٹھانا شروع کیا اور صورتحال 2019 کی دوسری سہ ماہی میں مزید سنگین ہوگئی جب صرف 3 ماہ کے عرصے میں 38 کیسز سامنے آئے۔آئی ایم بی کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وبا کی صورتحال انتہائی سنگین اور تشویشناک ہے، دنیا بھر میں سامنے آنے والے 80 فیصد پولیو کیسز پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں 90 فیصد روایتی بنیادی ذخائر سے باہر پائے گئے۔

ادارے نے اب تک پاکستان کے لیے کارآمد اور مثبت تنقید کی ہے تا کہ تکنیکی خامیوں کو دور کیا جائے اور اس پروگرام کو مضبوط بنایا جائے لیکن کمیٹی کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں پولیو کے پھیلا کی صورتحال پر انتہائی سخت مذمت اور تشویش کا اظہار کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں پولیو پروگرام ملک کے لیے ایک مثال کے بجائے موجودہ بحران کی علامت کی صورت اختیار کرگیا اوریہی صوبہ عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی میں پولیو کا پھیلا ہر جگہ موجود ہے جبکہ پنجاب میں بھی ہر مقام پر انسداد پولیو پروگرام کی خرابی کے آثار موجود ہیں۔رپورٹ میں یہ سوال بھی کیا گیا کہ اگر سیاسی رہنما متضاد بیانات دیں گے تو پاکستانی عوام کس طرح اس بات پر یقین کریں گے کہ انسداد پولیو پروگرام ان کے مفاد میں ہے۔ادارے نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ اکتوبر 2019 تک پاکستان میں 77 پولیو کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ افغانستان میں صرف 19 کیسز سامنے آئے جبکہ گزشتہ برس پاکستان میں یہ تعداد 6 تھی اور افغانستان میں 19 بچے اس سے متاثر ہوئے تھے۔

اس ضمن میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزارت صحت کے عہدیدار نے کہا کہ پولیو کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کی گئی ہے، جس میں پولیو پروگرام کے سابق سربراہ کی دوبارہ تعیناتی بھی شامل تھی۔خیال رہے کہ اب تک ملک میں 88 پولیو کیسز سامنے آچکے ہیں، گزشتہ برس 12 جبکہ 2017 میں صرف 8 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ان 88 کیسز میں سے 64 خیبرپختونخوا، 10 سندھ، 7 بلوچستان اور 5 کیسز کا تعلق پنجاب سے ہے۔

Your Thoughts and Comments